علمی اداروں کی بندش یا ضم کرنے کی کوئی تجویز حکومت کے زیر غور نہیں :وزیراعظم کی سینیٹر عرفان صدیقی سےملاقات میں گفتگو
اشاعت کی تاریخ: 1st, July 2025 GMT
اسلام آباد ( ڈیلی پاکستان آن لائن )وزیراعظم محمد شہباز شریف سے سینٹ میں پاکستان مسلم لیگ( ن) کے پارلیمانی پارٹی لیڈر، سینیٹر عرفان صدیقی کی ملاقات
”علم و ادب کے سر چشمے معاشرے کی روح ہوتے ہیں۔ ہم تہذیب و ثقافت کا عظیم سرمایہ رکھتے ہیں جس پر پوری قوم کو بجا طور پر فخر ہے۔ علمی، ادبی، تاریخی اور ثقافتی اہمیت کے قومی اداروں کی بندش یا ضم کرنے کی کسی تجویز پر عمل درآمد حکومت کے زیر غور نہیں۔ اس کے برعکس ان اداروں کو مزید مضبوط، مؤثر اور کارآمد بنانے کی کوشش کریں گے۔ تاکہ معاشرہ انتہاء پسندی جیسے مرض سے پاک ہو اور ہمارا حقیقی سوفٹ امیج دنیا کے سامنے اُبھرے“ ان خیالات کا اظہار وزیراعظم محمد شہباز شریف نے سینٹ میں پاکستان مسلم لیگ( ن) پارلیمانی پارٹی کے لیڈر، سینیٹر عرفان صدیقی سے گفتگو کرتے ہوئے کیا جنہوں نے آج وزیراعظم ہاؤس میں اُن سے ملاقات کی۔
وزیراعظم شہباز شریف کا عمران خان کیخلاف ہرجانہ کیس سپریم کورٹ پہنچ گیا
سینیٹر عرفان صدیقی نے وزیراعظم کو علمی اداروں کی بندش یا ایک دوسرے میں ضم کرنے کے حوالے سے حکومت کی رائیٹ سائزنگ کمیٹی کی سفارشات پر ملک بھر میں اہلِ علم و دانش، ادیبوں، شاعروں اور فنونِ لطیفہ سے تعلق رکھنے والے طبقوں میں پائی جانے والی تشویش سے آگاہ کیا۔ سینیٹر عرفان صدیقی نے وزیراعظم کو بتایا کہ وزیراعظم نواز شریف کے گزشتہ دور میں ان اداروں پر خاص توجہ دی گئی اور ان کی کارکردگی کو ملک کے ہر طبقے میں سراہا گیا۔
وزیراعظم محمد شہباز شریف نے کہا کہ علم و ادب اور فنونِ لطیفہ کو پسِ پُشت ڈالنے والے معاشرے، مشینی سوچ کا شکار ہوکر لطیف انسانی جذبات سے محروم ہوجاتے ہیں۔ ان اداروں کے نظم و نسق اور کارکردگی کو بہتر بنانے، نیز نئے دور کے تقاضوں کے مطابق ان کے دائرہ کار اور مینڈیٹ کو وسیع کرنے کے لیے حکومت جلد ایک کمیٹی تشکیل دے گی۔
ساڈے ولوں ناں ہی سمجھو .
سینیٹر عرفان صدیقی نے علمی اور ادبی اداروں کے حوالے سے وزیراعظم کے واضح اعلان کا شکریہ ادا کیا۔
مزید :
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
کلیدی لفظ: سینیٹر عرفان صدیقی شہباز شریف
پڑھیں:
مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان
بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے بڑھتے ہوئے واقعات کے خلاف سخت اقدامات کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے جرائم میں ملوث افراد کو جلد انصاف کے کٹہرے میں لانے کے لیےفاسٹ ٹریک عدالتیںقائم کی جائیں گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ طلبہ کے مستقبل سے کھیلنے والوں کے ساتھ کسی قسم کی رعایت نہیں برتی جائے گی۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (X) پر جاری اپنے بیان میں وزیراعظم مودی نے کہا کہ نوجوانوں کا مستقبل حکومت کی اولین ترجیح ہے اور امتحانی نظام میں بدعنوانی یا پرچے لیک کرنے جیسے جرائم میں ملوث عناصر کو سخت اور فوری سزا دی جائے گی۔
یہ امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے معاملے پر وزیراعظم مودی کا پہلا عوامی بیان ہے۔ تاہم ان کے ردعمل کے بعد بھی ملک بھر میں جاری طلبہ احتجاج میں کمی نہیں آئی۔ متعدد طلبہ اور سماجی حلقوں نے سوال اٹھایا کہ حکومت نے اس حساس معاملے پر ردعمل دینے میں اتنی تاخیر کیوں کی۔
دوسری جانب لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے وزیراعظم کے بیان کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے حکومت پر تعلیمی نظام کو کمزور کرنے کا الزام عائد کیا۔
راہل گاندھی نے ایکس پر اپنی پوسٹ میں لکھا کہ نوجوانوں کے مستقبل کو سب سے زیادہ نقصان موجودہ حکومت نے پہنچایا ہے۔ ان کے مطابق حکومت نے نہ صرف تعلیمی نظام کو تباہ ہونے دیا بلکہ ذمہ دار افراد کو بھی تحفظ فراہم کیا۔
انہوں نے کہا کہ احتجاج کرنے والے طلبہ کے تین بنیادی مطالبات ہیں، جن میں وزیر تعلیم دھرمندر پردھان کو عہدے سے ہٹانا، طلبہ سے باضابطہ معافی مانگنا اور احتجاج کے دوران طلبہ پر مبینہ تشدد میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی شامل ہے۔
واضح رہے کہ ملک میں تعلیمی اصلاحات اور امتحانی نظام میں شفافیت کے مطالبات کے حوالے سے احتجاجی تحریک جاری ہے۔ حالیہ دنوں میں طلبہ اور پولیس کے درمیان جھڑپوں کے بعد یہ معاملہ مزید شدت اختیار کر گیا ہے، جبکہ امتحانی پرچے لیک ہونے کے واقعات نے بھارت کے تعلیمی نظام پر سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔