شریف خاندان کے نام سے پنجاب میں کتنے منصوبے شروع کیے گئے ہیں؟
اشاعت کی تاریخ: 1st, July 2025 GMT
مالی سال 2025-26 کا پنجاب حکومت کی جانب سے 5300 ارب روپے مالیت کا بجٹ پیش کیا گیا ہے، جس میں سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں 10 فیصد اور پنشن میں 5 فیصد اضافہ کیا گیا ہے۔
بجٹ میں پنجاب حکومت نواز شریف کے نام سے 7 منصوبے شروع کیے گئے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: نواز شریف کی ہدایت کے باوجود حمزہ شہباز پارٹی امور میں دلچسپی کیوں نہیں لے رہے؟
نواز شریف کے نام سے 72 ارب روپے کی لاگت سے پہلا سرکاری کینسر اسپتال ’نواز شریف انسٹیٹیوٹ آف کینسر ٹریٹمنٹ اینڈ ریسرچ‘ کا قیام عمل میں لایا جا رہا ہے۔
بجٹ میں نواز شریف کے نام سے سرگودھا میں “نواز شریف انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی” بنایا جا رہا ہے جس کے لیے 8 ارب سے زائد کا بجٹ رکھا گیا ہے۔
بجٹ میں نواز شریف کے نام سے ‘Nawaz Sharif Centre of Excellence for Early Childhood Education’ کے تحت پنجاب کی 10 ڈویژنوں میں ابتدائی تعلیم کا منصوبہ شروع کیا جارہا ہے جس پر 3 ارب روپے تجویز کیے گئے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:جب نواز شریف پہلی بار وزیراعظم بنے
نواز شریف کے نام سے قصور میں ’میاں نواز شریف انجینئرنگ یونیورسٹی‘ کا قیام عمل میں لایا جارہا ہے جس کے لیے 2 ارب روپے تجویز کیے گئے ہیں۔
بجٹ میں نواز شریف کے نام سے ’نواز شریف میڈیکل ڈسٹرکٹ‘ بھی بنایا جا رہا ہے جس پر 109 ارب روپے کی خطیر رقم کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔
آئندہ مالی سال کے بجٹ میں لاہور میں ’نواز شریف آئی ٹی سٹی‘ مکمل کیا جائے گا۔
مریم نواز کے نام سے کتنے پروجیکٹس شروع کیے گئے ہیں؟وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز کے نام سے پنجاب میں 6 پروجیکٹس شروع کیے گئے ہیں۔
مریم نواز انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی
9 ارب روپے کی لاگت سے مریم ہیلتھ کلینکس
12 ارب روپے کی لاگت سے مریم نواز کمیونٹی ہیلتھ پروگرام
40 ارب روپے سے مریم نواز سوشل سیکیورٹی راشن کارڈ
3 ارب روپے کی لاگت سے مریم نواز دیہی اسپتال، اس اسکیم کے تحت آر ایچ سی اسپتال کو مریم نواز اسپتال کے طور پر اپ گریڈ کیا جائے گا
’مریم نواز دستک ایپ‘ بھی مریم نواز کے نام سے شروع کی گئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: جناح انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی کا نام تبدیل، مریم نواز کے نام سے منسوب کردیا گیا
اس طرح چیف منسٹر کے نام سے اس سال 25 پروجیکٹس شروع کیے گئے ہیں، جن میں وزیر اعلیٰ لیپ ٹاپ اسکیم، وزیر اعلیٰ پنجاب سولر پروگرام، چیف منسٹر سڑکیں بحال پروگرام، چیف منسٹر تحصیل پروجیکٹ، چیف منسٹر آئی ٹی پارک، وزیر اعلیٰ اسکل پروگرام، سی ایم یوتھ ایمپلائبیلٹی اینڈ بی پی اوز پروگرام، سی ایم پرواز کارڈ فار انٹرنیشنل پلیسمنٹ، سی ایم ایڈوانسڈ ٹیکنالوجی پروگرام، چیف منسٹر پنجاب ڈیولپمنٹ پروگرام، سی ایم ماڈل ولیج پروگرام، چیف منسٹر صاف پانی پروگرام، چیف منسٹر وائلڈ لائف ریسکیو فورس، چیف منسٹر پلانٹ فار پاکستان پروگرام، سی ایم لائیو اسٹاک کارڈ، سی ایم ڈائلیسس پروگرام، چیف منسٹر میل پروگرام سمیت کئی پروجیکٹس شروع کیے گئے ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
we news پاکستان پنجاب مریم نواز مسلم لیگ ن منصوبے نواز شریف.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: پاکستان مریم نواز مسلم لیگ ن نواز شریف مریم نواز کے نام سے ارب روپے کی لاگت سے نواز شریف کے نام سے انسٹیٹیوٹ آف چیف منسٹر وزیر اعلی گیا ہے سی ایم
پڑھیں:
گلگت بلتستان کی سڑکوں کی خستہ حالی دیکھ کر شدید دکھ ہوا، نواز شریف
ایک بیان میں قائد نون لیگ کا کہنا تھا کہ ووٹ ملے یا نہ ملے، ہم آپ کو محروم نہیں رکھیں گے۔ آپ ووٹ دیں یا نہ دیں ہم پھر بھی آپ کی خدمت کریں گے اور ترقیاتی کام مکمل کریں گے۔ اسلام ٹائمز۔ نون لیگ کے قائد میاں نواز شریف نے کہا ہے کہ ہم نے گلگت سے سکردو کا 9 گھنٹے کا سفر 3 گھنٹے میں بدل کر عوام کے 6 گھنٹے بچائے ہیں۔ 70 سال سے لٹکے منصوبے ہم نے اربوں روپے لگا کر مکمل کیے۔ ہمیں یہ منظور نہیں کہ یہاں 20، 22 گھنٹے لوڈشیڈنگ ہو۔ ووٹ ملے یا نہ ملے، ہم آپ کو محروم نہیں رکھیں گے۔ آپ ووٹ دیں یا نہ دیں ہم پھر بھی آپ کی خدمت کریں گے اور ترقیاتی کام مکمل کریں گے۔ ایک بیان میں میاں نواز شریف کا کہنا تھا کہ میں شہباز شریف اور مریم کو بھی کہوں گا کہ وہ دونوں یہاں آئیں اور اگر اللہ کے فضل و کرم سے ہماری حکومت آتی ہے، تو میں خود ہر دوسرے تیسرے مہینے یہاں آکر شروع کیے گئے ترقیاتی منصوبوں کی تکمیل اور نگرانی اپنی دیکھ بھال میں مکمل کرواؤں گا۔ یہاں دیس نکالے کی باتیں کرنے والے یاد رکھیں کہ 2017ء میں این ایف سی کمیٹی نواز شریف نے ہی بنائی تھی تاکہ اس مسئلے کا مستقل حل نکل سکے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ گلگت، سکردو، بلتستان اور ہنزہ سمیت پورے خطے کے عوام سے مخاطب ہوں۔ اللہ کے فضل و کرم سے اور شہباز شریف سے بات کر کے اس شاہراہ کو پورا خنجراب تک پہنچائیں گے۔ پاک چائنا ٹریڈنگ کے اس منصوبے سے یہاں ایسی خوشحالی آئے گی کہ آپ کو گھر بیٹھے روزگار اور اخراجات ملیں گے اور پورا خطہ بدل جائے گا۔ آج گلگت بلتستان کی سڑکوں کی خستہ حالی دیکھ کر شدید دکھ ہوا، وہ گلگت کہاں ہے جسے میں جانتا تھا؟ ہم نے مانسہرہ سے تھاکوٹ تک بہترین سڑک بنائی جسے خنجراب تک جانا تھا مگر اسے نظر انداز کر دیا گیا۔ ہم کسی کی برائی کرنے نہیں بلکہ ہمیشہ اپنی کارکردگی کی بنیاد پر ووٹ مانگتے ہیں۔ یہاں کے عوام بے تحاشہ ترقی اور روزگار کے حقدار ہیں۔