شہباز شریف کا ایرانی سفارتخانے کا دورہ
اشاعت کی تاریخ: 1st, July 2025 GMT
سٹی42: وزیراعظم شہباز شریف نے اسلام آباد میں ایرانی سفارتخانےکا دورہ کیا اور اسرائیل کے خلاف جنگ میں ایران کے مرنے والوں اور زخمیوں سے یکجہتی کا اظہار کیا۔نائب وزیراعظم اسحاق ڈار، مشیر طارق فاطمی اور سیکرٹری خارجہ بھی وزیراعظم کے ہمراہ ایرانی ایمبیسی گئےتھے ۔
سفارتخانے آمد پر ایرانی سفیر رضا امیری مقدم اور دیگر حکام نے وزیراعظم کا استقبال کیا۔
جوڈیشل کمیشن کا اجلاس: پشاورہائیکورٹ کےچیف جسٹس کیلئے جسٹس عتیق شاہ کا نام منظور
وزیراعظم شہباز شریف نے ایرانی سفارتخانے میں تعزیتی کتاب میں تاثرات قلمبند کیے۔
وزیراعظم نے ایرانی عوام اور حکومت سےہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے ان کے حوصلہ مند اور بہادر عوام کو خراجِ تحسین پیش کیا۔ وزیراعظم نے مرنے والوں کے درجات کی بلندی اور زخمیوں کی جلد صحت یابی کے لیے دعا کی۔
وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان ایران کے ساتھ یکجہتی جاری رکھے گا، انہوں نےآیت اللہ علی خامنہ ای اور صدر ڈاکٹر مسعود پیزشکیان کے لیے اپنی نیک تمناؤں کا بھی اظہار کیا۔
سکولوں کے فنڈز میں گھپلوں کا انکشاف
وزیر اعظم محمد شہباز شریف کا ایران سے اظہار تعزیت
وزیر اعظم محمد شہباز شریف نے آج اسلام آباد میں اسلامی جمہوریہ ایران کے سفارت خانے کا دورہ کیا اور ایرانی سفارت خانے کی جانب سے ایران کے خلاف حالیہ اسرائیلی جارحیت کے دوران شہید اور زخمی ہونے والے ایرانیوں کی یاد میں کھولی گئی… pic.
Waseem Azmet
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: شہباز شریف نے ایران کے
پڑھیں:
امریکا، اسرائیل کو جارحیت کے دوران ایرانی فضائی دفاع نے بھاری نقصان پہنچایا، ایرانی کمانڈر
ایران کی ایئرڈیفنس کے جوائنٹ ہیڈکوارٹرز کے کمانڈر بریگیڈیئر جنرل علی رضا الہامی نے کہا ہے کہ امریکا اور اسرائیل کو جنگ بندی سے قبل جارحیت کے دوران فضائی جنگی صلاحیت اور آلات کو بڑا نقصان پہنچایا۔
ایرانی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق بریگیڈیئر جنرل علی رضا الہامی نے ایک انٹرویو میں کہا کہ امریکا اور اسرائیل کو جنگ کے دوران جدید ڈرونز سمیت جنگی آلات کی مد میں کروڑ ڈالر کا نقصان پہنچایا۔
علی رضا الہامی نے کہا کہ امریکا اور اسرائیل کو پہنچنے والے نقصانات سے انہیں ایران کے اندر اپنے اہداف کی نشان دہی اور نشانہ بنانے کی صلاحیت پر بدترین اثر پڑا اور اس کے نتیجے میں فضائی کارروائی کی صلاحیت محدود ہوگئی۔
انہوں نے کہا کہ ایران نے منفرد اور مؤثر جواب کے لیے ڈسپرشن، الیکٹرونک ڈسپشن اور درست نشانہ پر حملوں جیسی ذہین حکمت عملیوں کا استعمال کیا گیا، دشمن کے فضائی حملوں کے اثرات کو نمایاں طور پر کم کر دیا اور اس کی ڈرون صلاحیتوں کو بھی کمزور کر دیا۔
کمانڈر نے کہا کہ ایرانی ایئرڈیفنس نے امریکا اور اسرائیل کے ایئرکرافٹ، ایم کیو-9 ریپر، ہرمیس 900، آربیٹر، لیوکاس اور ہیرمس 450 اور جنگی لڑاکا طیاروں کی فلیٹ کا مقابلہ کرنے کے لیے ریڈار ڈیٹا پروسیسنگ اور دیگر ٹیکنالوجی کا استعمال کیا، دشمن کو اپنے فائر پاور اور جدید ٹیکنالوجی پر انحصار تھا۔
علی رضا الہامی نے کہا کہ ایران کے جدید اور مربوط فضائی دفاعی نیٹ ورک نے حملہ آور دشمنوں کی فضائی قوت کو ایسا بھاری نقصان پہنچایا جو فضائی جنگوں کی تاریخ کے بدترین نقصانات میں شمار ہوتے ہیں۔