اسلام آباد(نیوز ڈیسک) وزیراعظم محمد شہباز شریف سے سینیٹ میں پاکستان مسلم لیگ (ن) کے پارلیمانی پارٹی لیڈر، سینیٹر عرفان صدیقی نے وزیراعظم ہاؤس میں ملاقات کی۔ ملاقات میں ملک بھر میں علمی، ادبی، تاریخی اور ثقافتی اہمیت کے حامل اداروں کے مستقبل سے متعلق امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

سینیٹر عرفان صدیقی نے وزیراعظم کو آگاہ کیا کہ علمی و ادبی اداروں کی ممکنہ بندش یا ضم کرنے کی رائیٹ سائزنگ کمیٹی کی سفارشات پر اہلِ علم و دانش، ادیبوں، شاعروں اور فنونِ لطیفہ سے وابستہ حلقوں میں شدید تشویش پائی جاتی ہے۔ انہوں نے وزیراعظم نواز شریف کے گزشتہ دور حکومت کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس وقت ان اداروں کو غیر معمولی توجہ دی گئی تھی اور ان کی کارکردگی کو سراہا گیا تھا۔

وزیراعظم شہباز شریف نے سینیٹر عرفان صدیقی کو یقین دہانی کراتے ہوئے کہا کہ حکومت ان اداروں کی بندش یا ضم کرنے کی کسی تجویز پر عملدرآمد کا کوئی ارادہ نہیں رکھتی۔ وزیراعظم نے کہا:

“علم و ادب کے سرچشمے معاشرے کی روح ہوتے ہیں۔ ہم ایک عظیم تہذیبی و ثقافتی سرمایہ رکھتے ہیں، جس پر پوری قوم کو فخر ہے۔”

انہوں نے کہا کہ ایسے اداروں کو بند کرنے کے بجائے انہیں مزید مضبوط، مؤثر اور جدید تقاضوں سے ہم آہنگ بنانے کے لیے حکومت عملی اقدامات کرے گی، تاکہ معاشرہ انتہاپسندی جیسے مسائل سے پاک ہو اور پاکستان کا سافٹ امیج دنیا میں اُجاگر ہو۔

وزیراعظم نے اعلان کیا کہ ان اداروں کی تنظیم نو اور بہتری کے لیے ایک اعلیٰ سطحی کمیٹی تشکیل دی جائے گی۔

سینیٹر عرفان صدیقی نے وزیراعظم کے اس واضح مؤقف پر ان کا شکریہ ادا کیا اور اس امید کا اظہار کیا کہ حکومت کے ان اقدامات سے علمی و ادبی دنیا میں پائی جانے والی بے چینی کا خاتمہ ہوگا۔

Post Views: 4.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: سینیٹر عرفان صدیقی

پڑھیں:

ایران سے ڈیل کے نام پر بھیک کیوں مانگی جا رہی ہے؟ ڈیموکریٹک سینیٹر کے روبیو سے سخت سوالات

واشنگٹن:

امریکی سینیٹ میں ایران سے متعلق پالیسی پر اس وقت گرما گرم بحث دیکھنے میں آئی جب ڈیموکریٹک سینیٹر کوری بُکر نے وزیر خارجہ مارکو روبیو کو سخت سوالات کی زد میں لے لیا۔

سینیٹ اجلاس کے دوران کوری بُکر نے حکومت کی ایران پالیسی پر تنقید کرتے ہوئے سوال اٹھایا کہ آخر امریکا کیوں ایران کے ساتھ کسی معاہدے کی طرف دوبارہ بڑھ رہا ہے اور وہ بھی ایسے وقت میں جب ماضی میں اسی ڈیل کو خود امریکا ناقابل قبول قرار دے چکا تھا۔

سینیٹر نے طنزیہ انداز میں کہا کہ کیا واشنگٹن اب اس معاہدے کے لیے دباؤ کا شکار ہو رہا ہے جسے پہلے مسترد کیا جا چکا تھا۔

بُکر نے مزید کہا کہ ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز سے متعلق اقدامات اور خطے کی صورتحال پہلے ہی کشیدہ ہے اس کے باوجود سفارتی راستہ کس بنیاد پر اختیار کیا جا رہا ہے۔

مزید پڑھیں

ایران کے جوہری پروگرام پر انتہائی ٹیکنیکل مذاکرات میں مہینے لگ سکتے ہیں، امریکی وزیرخارجہ

ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ

جواب میں وزیر خارجہ مارکو روبیو نے مؤقف اختیار کیا کہ امریکا ایران سے کسی بھیک کی پوزیشن میں نہیں بلکہ یہ ایک پیچیدہ سفارتی اور تکنیکی عمل ہے۔

ان کے مطابق ایران کے جوہری پروگرام پر مذاکرات جذباتی نہیں بلکہ انتہائی تکنیکی نوعیت کے ہیں، جو چند دنوں میں مکمل نہیں ہو سکتے۔

روبیو نے کہا کہ ماہرین کی سطح پر بات چیت ہفتوں یا مہینوں تک جاری رہ سکتی ہے تاکہ ایک قابلِ عمل حل نکالا جا سکے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ ایران اب ان بعض امور پر بات کرنے پر آمادہ ہوا ہے جن سے پہلے وہ انکار کرتا رہا ہے، خصوصاً افزودہ یورینیم کے معاملے پر پیش رفت کی ضرورت ہے۔

متعلقہ مضامین

  • ایران سے ڈیل کے نام پر بھیک کیوں مانگی جا رہی ہے؟ ڈیموکریٹک سینیٹر کے روبیو سے سخت سوالات
  • کفایت شعاری اقدامات، حکومت نے مارکیٹوں اور ریسٹورنٹس کے اوقات کار میں توسیع کردی گئی
  • شہباز شریف کا کامیاب انسدادِ دہشت گردی کارروائیوں پر سکیورٹی فورسز کو خراجِ تحسین
  • حکومت نے بجلی کی سبسڈی کو “ٹارگٹڈ” بنانے کیلئے نیا سسٹم متعارف کرادیا۔۔؟؟
  • پائیدارمعاشی ترقی کیلئے صنعت وپیداوار اور بیرونی سرمایہ کاری میں اضافہ ناگزیر ہے، وزیر اعظم
  • حکومت نے 11 ماہ میں عوام اور کاروباری اداروں کی جیبوں سے سوا 11 ہزار ارب روپے کا ٹیکس نکال لیا
  • وزیراعظم کا سرمایہ کاری اور صنعتی ترقی کیلئے اصلاحات تیز کرنے کا حکم
  • برآمدات بڑھانے کیلئے مؤثر اقدامات ترجیح ہیں: وزیرِ اعظم شہباز شریف
  • گلگت بلتستان سی پیک کا مرکز ہے: نواز شریف
  • وزیراعظم کا بی ٹو بی کانفرنس کی پیشرفت کے ماہانہ جائزہ اجلاس کی خود صدارت کا فیصلہ