فریال محمود بولڈ لباس میں ڈانس ویڈیو کی وجہ سے شدید تنقید کی زد میں
اشاعت کی تاریخ: 1st, July 2025 GMT
اداکارہ فریال محمود ایک بار پھر اپنے نازیبا لباس اور متنازع ڈانس ویڈیو کی وجہ سے سوشل میڈیا پر زیر بحث آ گئیں۔
فریال محمود نے حال ہی میں اپنے آفیشل انسٹاگرام ہینڈل پر ایک بلیک اینڈ وائٹ ویڈیو شیئر کی، جس میں وہ ’نہیں جینا گانے پر بولڈ انداز میں رقص کرتی ہوئی نظر آ رہی ہیں۔ ویڈیو میں فریال نے انتہائی چھوٹا لباس پہن رکھا ہے جس کی وجہ سے انہیں شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
ویڈیو شیئر کرتے ہوئے فریال محمود نے کیپشن میں لکھا کہ یہ ویڈیو پچھلے سال کی ہے جسے وہ پہلے شیئر نہیں کرنا چاہتی تھیں کیونکہ انہیں لگتا تھا کہ وہ اس میں موٹی نظر آ رہی ہیں۔ تاہم، اب وہ اس ویڈیو کو پوسٹ کرنے پر خوش ہیں اور اسے ایک خوبصورت لمحہ مانتی ہیں۔
فریال نے مزاحیہ انداز میں کہا کہ وہ مزیدار کھانے کے لیے جا رہی ہیں، جبکہ نئے کپڑے خریدنے کا ارادہ بھی رکھتی ہیں۔
اس ویڈیو میں اداکاہ کے بولڈ لباس اور ڈانس پر سوشل میڈیا صارفین کی جانب سے شدید ردعمل کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ جہاں ساتھی فنکار ان کی تعریف کرتے ہوئے نظر آرہے ہیں وہیں ناقدین اسے سستی شہرت حاصل کرنے کا طریقہ قرار دے رہے ہیں۔
TagsShowbiz News Urdu.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: فریال محمود
پڑھیں:
مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ فائرنگ میں شہید، گن مین بھی جاں بحق
بلوچستان کے ضلع مستونگ میں قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین شہید ہوگئے، جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہو گئے۔ واقعے کے بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر حملہ آوروں کی تلاش اور تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔
ڈپٹی کمشنر مستونگ بہرام سلیم کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کوئٹہ سے مستونگ جا رہے تھے کہ قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد نے ان کی گاڑی پر اندھا دھند فائرنگ کر دی۔ حملے کے نتیجے میں سیشن جج اور ان کے گن مین موقع پر ہی شہید ہوگئے، جبکہ گاڑی میں سوار ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوئے۔
واقعے کے فوری بعد شہداء اور زخمیوں کو قریبی اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں زخمیوں کو طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔ سکیورٹی فورسز نے جائے وقوعہ کو گھیرے میں لے کر شواہد اکٹھے کیے اور حملہ آوروں کی گرفتاری کے لیے سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے۔
دوسری جانب بلوچستان بار کونسل نے حملے کو نظامِ انصاف پر دہشت گردانہ حملہ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی ہے۔ بار کونسل نے واقعے کے خلاف صوبہ بھر میں دو روزہ عدالتی ہڑتال اور تین روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے۔ اعلامیے میں ججز، وکلا اور شہریوں کی سکیورٹی یقینی بنانے، حملے میں ملوث عناصر کی فوری گرفتاری اور انہیں قانون کے مطابق سزا دینے کا مطالبہ بھی کیا گیا۔
وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے بھی واقعے کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے شہداء کے اہل خانہ سے اظہار تعزیت کیا۔ انہوں نے متعلقہ اداروں کو حملہ آوروں کی فوری گرفتاری اور واقعے کی جامع تحقیقات کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ ذمہ دار عناصر کو قانون کی گرفت سے نہیں بچنے دیا جائے گا۔