Express News:
2026-06-03@03:54:02 GMT

وہ خاموش نہیں رہیں گی

اشاعت کی تاریخ: 2nd, July 2025 GMT

تہران کی سڑکوں پر دوڑتی ہوئی لڑکیاں ہاتھوں میں بینر، آنکھوں میں آنسو اور دلوں میں آگ کوئی احتجاج کر رہی ہے ،کوئی خاموش کھڑی ہے مگر سب کی نگاہیں کسی بہترکل کی متلاشی ہیں۔ ایران میں آج جو کچھ ہو رہا ہے وہ فقط ایک ملک کی اندرونی سیاست نہیں بلکہ عورت کے وجود اس کی خود مختاری کی بات ہے۔

دو سال قبل ایک نوجوان لڑکی مہسا امینی صرف اس لیے ماری گئی کہ اس کے اسکارف کا انداز ایران کی اخلاقی پولیس کو پسند نہیں آیا۔ اس ایک موت نے ایک صدی کی خاموشی توڑ دی۔

زن زندگی آزادی فقط نعرہ نہیں رہا ،یہ احتجاج یہ فریاد یہ دعا بن چکا ہے۔مگر آج جب ہم ان بہادر بیٹیوں کی جدوجہد کو خراج دے رہے ہیں تو ضروری ہے کہ ایک بات کو واضح کیا جائے عورت کی آزادی اور فحاشی میں فرق ہے۔ میں عورت کی آزادی کی حامی ہوں، اس کے لباس، رائے زندگی اور خوابوں پر اس کا حق مانتی ہوں۔ مگر میں اس آزادی کے نام پر کسی بھی بے راہ روی، تجارتی جنسیت یا ثقافتی سطحیت کی وکالت نہیں کرتی۔ ہم نے آزادی کی قیمت چکائی ہے، فکری دیوالیہ پن اس کا نعم البدل نہیں ہو سکتا۔

اسی طرح یہ مسئلہ صرف ایران یا کسی مسلمان اکثریتی ملک کا نہیں۔ اگر فرانس میں پولیس ایک لڑکی کے سر سے زبردستی اسکارف اتارتی ہے تو میں اس کے خلاف بھی اسی شدت سے لکھتی ہوں۔ لباس کا انتخاب عورت کا حق ہے، چاہے وہ اسکارف ہو یا اسکارف نہ پہننے کا فیصلہ۔ یہ اختیار نہ مولوی کو ہونا چاہیے نہ مغربی سیکولر ریاست کو۔

سوال صرف ایک ہے کیا ہم عورت کو جیتے جاگتے انسان کے بجائے اب بھی ایک چیز سمجھتے ہیں؟ ریاست ،مذہب، بازار تینوں نے عورت پر قبضہ جمانے کی کوشش کی ہے۔

کہیں اس کا بدن پردے میں قید کر کے تو کہیں اسے نیم برہنہ اشتہارات میں بیچ کر۔ہم عورت کو دیوی بھی کہتے ہیں اور فاحشہ بھی۔ وہ ماں ہو تو قابلِ احترام محبوبہ ہو تو شک کی سزا وار اور اگر وہ احتجاج کرے تو ریاست کا ہدف۔ مگر وہ خاموش کیوں رہے؟ اس کے لہجے میں آگ کیوں نہ ہو؟ایران کی بیٹیاں آج چیخ رہی ہیں کہ ہمیں جینے دو۔ وہ اخلاقی پولیس کے ہاتھوں نہیں اُس سوچ کے ہاتھوں قتل ہو رہی ہیں جو عورت کو سانس لیتا ہوا وجود نہیں مانتی۔ مگر دوسری طرف ہم نے یورپ میں بھی دیکھ لیا کہ جب ایک مسلمان لڑکی حجاب پہننا چاہے تو سیکولر ازم کے علمبردار اس سے بھی خائف ہو جاتے ہیں۔

یہ کیسی دنیا ہے؟ جہاں اگر عورت خود فیصلہ کرے تو وہ مجرم ٹھہرے؟ یہ فیصلہ کوئی مولوی کرے یا کوئی فرانس کا پولیس افسر دونوں غلط ہیں۔ عورت کی آزادی اُس کی مرضی ہے۔ اس کی تعلیم نوکری لباس محبت سب کچھ اس کے اختیار میں ہونا چاہیے۔ ہم یہ مطالبہ کرتے ہیں فریاد نہیں۔

امریکی سیاہ فام شاعرہ Maya Angelou کی نظم I Still Rise ایک ایسی نظم ہے جو ایران، افغانستان، پاکستان، فلسطین، فرانس اور پوری دنیا کی عورتوں کی بازگشت ہے۔

میں پھر بھی اٹھتی ہوں

مایا اینجلو

ممکن ہے کہ تم مجھے تاریخ میں نیچ دکھاؤے

اپنے تلخ، الجھے ہوئے جھوٹوں سے

ہوسکتا ہے تم مجھے خاک میں روند ڈالو

لیکن، پھر بھی، میں بگولے کی مانند آٹھ آؤں گی

کیا میری شوخی تمہیں پریشان کردیتی ہے؟

تمہیں اداسی نے کیوں گھیر لیا ہے؟

اس لیے کہ میں یوں چل رہی ہوں گویا میرے پاس تیل کے کنویں ہیں

جو میری بیٹھک میں تیل خارج کرے ہیں

ہزار چاند اور سورج کی مانند،

مدوجزر کے تیقن کے ساتھ،

جیسے امیدیں امنڈتی ہیں موجوں کی طرح،

میں پھر اٹھتی ہوں۔

کیا تم مجھے ہوا دیکھنا چاہتے تھے؟

سر جھکا ہوا اور نگاہیں زمیں پہ جمی؟

کندھے آنسوؤں کی مانند گرتے ہوئے

میری آہ وزاری سے شکستہ۔

کیا میری سرکشی سے تمہاری توہین ہوتی ہے؟

اسے زیادہ سنجیدگی سے نہ لو

کیونکہ میں یوں ہنستی ہوں گویا میرے پاس

سونے کی کانیں ہوں جو میں نے اپنے آنگن میں کھودی ہیں۔

ممکن ہے تم اپنے الفاظ سے مجھے ہلاک کر ڈالو

اپنی نگاہوں کی کاٹ سے ٹکڑے ٹکڑے کردو

اپنی نفرت سے میری جان لے لو

لیکن، تب بھی، میں صبا کی مانند آٹھوں گی۔

(اس نظم کا اردو ترجمہ ہماری دوست زینت حسام نے کیا ہے۔)

یہ نظم صرف کسی ایک عورت کی نہیں بلکہ یہ ہم سب کی ہے۔ ایران کی آہو دریائی کی، پاکستان کی مختاراں بی بی کی اور فلسطین کی ان بیٹیوں کی جو بارود کے سامنے اپنی آنکھیں بند نہیں کرتیں۔ دنیا کو عورت سے ڈر لگتا ہے کیونکہ جب وہ اپنی آنکھ کھولتی ہے تو سچ بولتی ہے۔ جب وہ قدم اٹھاتی ہے تو روایتیں ہل جاتی ہیں۔ جب وہ لکھتی ہے تو نسلیں جاگتی ہیں۔

ایران کی موجودہ تحریک جو مہسا امینی کی شہادت سے شروع ہوئی، اب صرف لباس کے انتخاب کی جنگ نہیں رہی۔ یہ ایک گہرے سماجی سیاسی اور ثقافتی بحران کی نمایندہ بن چکی ہے۔ ایرانی خواتین برسوں سے اس جبر کا سامنا کر رہی ہیں جو ایک طرف مذہبی انتہا پسندی کے نام پر ان کے جسم اور ذہن پر قبضہ چاہتا ہے اور دوسری طرف ایک ایسی ریاست جو تنقید کو بغاوت سمجھتی ہے، وہ ان سے سانس لینے کا حق بھی چھیننا چاہتی ہے۔ یہ لڑکیاں صرف اس لیے گرفتار کی گئیں کہ وہ ہنستے ہوئے بازار چلی گئیں یا انھوں نے اپنا اسکارف ڈھیلا کر لیا۔ کسی کے ناخنوں پر سرخ پالش تھی تو کسی نے اپنی سالگرہ کی خوشی میں موسیقی بجالی اور اس سب کی سزا کیا ملی؟ کوڑے قید اور خاموشی کی تلقین۔

اس تحریک میں سب سے متاثر کن بات یہ ہے کہ اس کی قیادت نوجوان لڑکیاں کر رہی ہیں۔ وہ جنھوں نے آنکھ کھولی تو آنکھ پر نقاب تھا جن کے ہونٹوں پر پہلا لفظ خاموش لکھا گیا مگر اب وہ چیخ رہی ہیں، گاتی ہیں اور لکھتی ہیں۔ انھوں نے سوشل میڈیا کو بطور ہتھیار استعمال کیا اور اپنی آواز پوری دنیا تک پہنچائی۔ ان کی بہادری کی گونج نیویارک، برلن، لاہور اور استنبول تک سنائی دی۔یہ وہ لڑکیاں ہیں جو جانتی ہیں کہ شاید انھیں کل زندہ نہ رہنے دیا جائے مگر وہ آج سچ بولنا چاہتی ہیں۔ انھوں نے اپنے خوف کو پگھلا کر آگ بنا لیا ہے۔ وہ جل رہی ہیں مگر روشنی دے رہی ہیں۔ وہ کہتی ہیں’’ ہمیں مت بتاؤ کہ ہمیں کیا پہننا ہے،ہمیں یہ بتاؤ کہ تمہیں عورت سے اتنا خوف کیوں ہے؟‘‘یہ سوال صرف ایران کے لیے نہیں، پوری دنیا کے لیے ہے۔

یہ بھی نہ بھولیں کہ ایرانی معاشرے میں خواتین نے ہمیشہ علمی ادبی اور ثقافتی میدانوں میں گراں قدر خدمات انجام دی ہیں۔ فوروق فرخ زاد جیسی شاعرہ سیمین دانشور جیسی ادیبہ اور نسرین ستودہ جیسی وکیل اس بات کی دلیل ہیں کہ جبر کے سائے میں بھی روشنی پیدا کی جا سکتی ہے۔ آج کی نسل انھی چراغوں سے روشنی لے کر آگے بڑھ رہی ہے۔ انھوں نے ثابت کیا ہے کہ وہ صرف مظلوم نہیں مزاحمت کی علامت بھی ہیں اور یہی مزاحمت تاریخ کو بدلتی ہے۔ ایران کی بیٹیاں آج کی دنیا کے ضمیر کو جھنجھوڑ رہی ہیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: انھوں نے کی مانند ایران کی رہی ہیں عورت کی ہیں جو

پڑھیں:

ایران سے مذاکرات کے امکانات روشن ہیں، معاہدے کا حتمی نہیں کہہ سکتے، امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو

امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ جوہری مذاکرات کی بحالی کے امکانات روشن ہیں اور ایران بعض ایسے نکات پر بات چیت کے لیے آمادہ ہو گیا ہے جن پر وہ ماضی میں گفتگو سے انکار کرتا رہا تھا تاہم اس بات کی کوئی ضمانت نہیں دی جا سکتی کہ مذاکرات کسی قابل قبول معاہدے پر منتج ہوں گے۔

یہ بھی پڑھیں: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیلی حملوں پر برہم، نیتن یاہو کو سخت پیغام

سینیٹ کی خارجہ تعلقات کمیٹی کے سامنے اپنے بیان میں مارکو روبیو نے کہا کہ ایران نے اپنے جوہری پروگرام کے بعض پہلوؤں پر بات چیت پر آمادگی ظاہر کی ہے جو چند ماہ قبل تک ممکن نہیں سمجھی جا رہی تھی۔

انہوں نے کہا کہ ایران ایسے معاملات پر مذاکرات کے لیے تیار ہوا ہے جن کا ذکر کرنے سے بھی وہ پہلے گریز کرتا تھا تاہم یہ اس بات کی ضمانت نہیں کہ بالآخر کوئی ایسا معاہدہ طے پا جائے گا جو سب کے لیے قابل قبول ہو۔

روبیو کے مطابق ایرانی قیادت کے اندر پائی جانے والی غیر یقینی صورتحال بھی مذاکراتی عمل کو پیچیدہ بنا رہی ہے۔

تاہم امریکی وزیر خارجہ کی امید افزا باتیں ایسے وقت سامنے آئی ہیں جب ایران اور امریکا کے درمیان بالواسطہ رابطوں میں نئی رکاوٹیں پیدا ہونے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ ایرانی ذرائع ابلاغ کے مطابق اسرائیل کی جانب سے بیروت پر حملوں کی دھمکیوں کے بعد ایران نے ثالثوں کے ساتھ رابطے معطل کر دیے ہیں۔

ادھر امریکا کی میزبانی میں اسرائیل اور لبنان کے درمیان سیاسی مذاکرات کا نیا دور بھی جاری ہے جبکہ اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی نے پہلے سے موجود نازک جنگ بندی کو مزید غیر یقینی بنا دیا ہے۔

مزید پڑھیے: لبنان جنگ بندی پراتفاق ہونے کے بعد امریکا، ایران مذاکرات دوبارہ تیز رفتاری سے شروع ہو گئے ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ کا اعلان

مارکو روبیو نے کانگریس میں 2 روزہ بریفنگ کے دوران ایران، مشرق وسطیٰ، کیوبا، غیر ملکی امداد اور دیگر خارجہ پالیسی امور پر قانون سازوں کے سوالات کے جوابات دیے۔

ایران جنگ پر سوالات

کانگریس میں اپنی پہلی عوامی پیشی کے دوران روبیو کو ایران کے خلاف امریکی اور اسرائیلی کارروائیوں سے متعلق سخت سوالات کا سامنا بھی کرنا پڑا۔

متعدد ڈیموکریٹ ارکان نے جنگ کے آغاز سے قبل کانگریس کی منظوری نہ لینے پر تنقید کی جبکہ بیشتر ریپبلکن ارکان نے ایران کے خلاف کارروائی کی حمایت کی۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کے خلاف فوجی کارروائی کے فیصلے پر بھی بحث جاری ہے خصوصاً ایسے وقت میں جب انہوں نے ماضی میں مشرق وسطیٰ میں طویل جنگوں سے گریز کا وعدہ کیا تھا۔

جنگ کے معاشی اثرات

ایران کے ساتھ جاری کشیدگی کے باعث آبنائے ہرمز میں تیل بردار جہازوں کی آمدورفت متاثر ہوئی ہے جس کے نتیجے میں عالمی منڈی میں تیل اور گیس کی قیمتوں میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔

مزید پڑھیں: ٹرمپ نے ایران جنگ بندی معاہدے کی شرائط مزید سخت کر دیں، تہران کے جواب کا انتظار، امریکی میڈیا

ماہرین کے مطابق دنیا کی تقریباً 20 فیصد تیل اور قدرتی گیس کی تجارت آبنائے ہرمز کے ذریعے ہوتی ہے اس لیے خطے میں کسی بھی قسم کی کشیدگی عالمی معیشت پر براہ راست اثر ڈال سکتی ہے۔

کیوبا سے متعلق بھی سخت مؤقف

مارکو روبیو کو سماعت کے دوران کیوبا کے حوالے سے بھی سوالات کا سامنا کرنا پڑا۔ سماعت کے آغاز پر چند مظاہرین نے ’کیوبا کو جینے دو‘ اور ’کیوبن عوام کا قتل بند کرو‘ جیسے نعرے لگائے جنہیں بعد ازاں کمرے سے باہر نکال دیا گیا۔

یہ بھی پڑھیے: ایران ڈیل کے قریب ہیں، مگر جلد بازی نقصان دہ ہوگی، صدر ٹرمپ کا فوکس نیوز کو انٹرویو میں دعویٰ

روبیو، جو کیوبن تارکین وطن خاندان سے تعلق رکھتے ہیں، طویل عرصے سے کیوبا کو امریکی قومی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دیتے رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ کیوبا کے امریکا کے مخالف ممالک کے ساتھ تعلقات واشنگٹن کے لیے تشویش کا باعث ہیں۔

امریکی انتظامیہ نے حالیہ دنوں میں کیوبا کے سابق صدر راول کاسترو کے خلاف فوجداری الزامات بھی عائد کیے ہیں جس پر کیوبا کی حکومت نے شدید ردعمل ظاہر کرتے ہوئے اسے سیاسی اقدام قرار دیا ہے۔

مزید پڑھیں: ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی معاہدہ تیار، ٹرمپ کی منظوری باقی، امریکی نیوز ویب سائٹ کا دعویٰ

مارکو روبیو بدھ کے روز بھی کانگریس کی مختلف کمیٹیوں کے سامنے پیش ہو کر امریکی محکمہ خارجہ کے بجٹ اور خارجہ پالیسی سے متعلق معاملات پر بریفنگ دیں گے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو ایران امریکا تنازع ایران امریکا مذاکرات ایران امریکا معاہدہ

متعلقہ مضامین

  • ایران کے ساتھ امریکی امن مذاکرات ، اسرائیل شامل نہیں
  • ٹرمپ کے بدلتے پینترے
  • ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ
  • ایران کے جوہری پروگرام پر انتہائی ٹیکنیکل مذاکرات میں مہینے لگ سکتے ہیں، امریکی وزیرخارجہ
  • آبنائے ہرمز بحالی پر بھی ایران سے پابندیاں نہیں ہٹائینگے: مارکوروبیو
  • کفایت شعاری اقدامات میں بڑا ریلیف ؛ مارکیٹوں کے اوقات کار میں توسیع
  • امریکا ایران جنگ سے معاشی بحران پیدا ہوا ہے اور مہنگائی بھی بےتحاشہ بڑھ گئی ہے
  • امریکا اور ایران کے درمیان بات چیت جاری، کوئی نہیں جانتا انجام کیا ہوگا، ڈونلڈ ٹرمپ
  • ایران سے مذاکرات کے امکانات روشن ہیں، معاہدے کا حتمی نہیں کہہ سکتے، امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو
  • لبنان میں اسرائیلی حملے پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی خاموش کیوں ہیں، جے رام رمیش