ایرانی مسلح افواج کا امریکا اور اسرائیل کو نیا انتباہ کیا ہے؟
اشاعت کی تاریخ: 17th, August 2025 GMT
ایران کی مسلح افواج کے جنرل اسٹاف نے امریکا اور اسرائیل کو سخت انتباہ جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر ایران پر دوبارہ کوئی جارحیت کی گئی تو اس کا جواب جون میں جاری 12 روزہ جنگ سے بھی زیادہ سخت اور تباہ کن ہوگا۔
تسنیم نیوز کے مطابق بیان میں واضح کیا گیا کہ ایران کے پاس “نئے سرپرائز” موجود ہیں جو کسی بھی نئی غلطی کی صورت میں بروئے کار لائے جائیں گے۔
ہفتے کے روز جاری ہونے والے بیان میں ایران نے عراق کے ساتھ 1990 کی دہائی میں قیدیوں کی رہائی کی سالگرہ بھی منائی اور امریکا کو “جرم پیشہ اور شیطانی” جبکہ اسرائیل کو “وحشی صہیونی ریاست” قرار دیتے ہوئے خبردار کیا کہ وہ ایران کے خلاف سازشوں سے باز آجائیں۔
مزید پڑھیں: روس ایران میں چھوٹے جوہری توانائی کے پلانٹس بنائے گا؟
بیان میں کہا گیا کہ ایران نے ثابت کردیا ہے کہ کوئی طاقت اس کے ساتھ دھمکی اور دباؤ کی زبان میں بات نہیں کر سکتی۔ جون میں امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف شروع کی گئی جارحانہ جنگ عبرتناک اور ذلت آمیز شکست پر ختم ہوئی۔
جنرل اسٹاف نے مزید کہا کہ اگر امریکا یا اسرائیل نے دوبارہ کوئی غلطی یا نئی جارحیت کی تو ایران کا ردعمل کہیں زیادہ سخت ہوگا، اور اس بار وہ وجوہات موجود نہیں ہوں گی جن کی بنا پر ایران نے 12 روزہ جنگ میں صبر و ضبط کا مظاہرہ کیا تھا۔
واضح رہے کہ 13 جون کو اسرائیل نے ایران کے فوجی، جوہری اور رہائشی مقامات پر حملے شروع کیے جو 12 روز تک جاری رہے۔ 22 جون کو امریکا نے بھی ایران کی نطنز، فردو اور اصفہان میں 3 جوہری تنصیبات کو نشانہ بنایا۔
مزید پڑھیں: ’ایران کا ٹرانزٹ روٹس تک رسائی کے معاملے پر شدید حساس رویہ‘
ایران نے فوری طور پر بھرپور جوابی کارروائی کرتے ہوئے آپریشن ٹریو پرامس ” کے تحت اسرائیل پر 22 میزائل حملے کیے جس میں قابض علاقوں کے کئی شہروں کو بھاری نقصان پہنچا۔
امریکی حملوں کے جواب میں ایرانی افواج نے قطر میں واقع امریکا کے سب سے بڑے فضائی اڈے العدید پر بھی میزائل برسائے۔ بالآخر 24 جون کو جنگ بندی کے بعد لڑائی کا خاتمہ ہوا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اسرائیل امریکا ایران مسلح افواج کے جنرل اسٹاف.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اسرائیل امریکا ایران مسلح افواج کے جنرل اسٹاف ایران نے ایران کے
پڑھیں:
ایرانی اثاثے ضبط کرنے کی ٹرمپ کی دھمکی خطرناک نظیر ہے، عباس عراقچی کا سخت ردعمل
تہران: ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس بیان پر شدید ردعمل دیا ہے جس میں انہوں نے بحری جہازوں کو ہونے والے ممکنہ نقصانات کا ازالہ ایرانی اثاثوں سے کرنے کی بات کی تھی۔ ایران نے اس مؤقف کو بین الاقوامی قوانین کے لیے ایک خطرناک اور اشتعال انگیز نظیر قرار دیا ہے۔
عباس عراقچی نے سماجی رابطے کے پلیٹ فارم ایکس پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ کسی ملک کے اثاثوں کو مستقبل کے غیر متعلقہ دعووں کی بنیاد پر ضبط کرنا ایک ایسا اقدام ہے جو عالمی مالیاتی نظام اور بین الاقوامی قوانین کے لیے سنگین نتائج پیدا کر سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ کسی دوسرے ملک کے اثاثے مستقبل کے غیر متعلقہ نقصانات کی ادائیگی کے لیے ضبط کرنا ایک اشتعال انگیز نظیر ہے۔
ایرانی وزیر خارجہ نے مزید کہا کہ جو ممالک یا ادارے اس طرح کے ضبط شدہ اثاثوں سے فائدہ اٹھانے یا اس اقدام کی حمایت کرنے کی کوشش کریں گے، انہیں یہ بات ذہن میں رکھنی چاہیے کہ اگر حکومتیں اس طرز عمل کو معمول بنا لیں تو پھر دنیا میں کسی بھی ملک کے اثاثے محفوظ نہیں رہیں گے۔
عباس عراقچی کے مطابق اس طرح کے اقدامات عالمی مالیاتی نظام میں بے یقینی، افراتفری اور قانونی تنازعات کو جنم دے سکتے ہیں، جن کے نتائج نہ صرف غیر خوشگوار بلکہ عالمی امن و استحکام کے لیے بھی نقصان دہ ثابت ہوں گے۔
ان کا بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی برقرار ہے اور آبنائے ہرمز میں بحری جہاز رانی، اقتصادی پابندیوں اور سفارتی تعلقات کے حوالے سے دونوں ممالک کے درمیان سخت بیانات کا تبادلہ جاری ہے۔
Seizing another nation's assets to pay for unrelated future claims is an incendiary precedent.
Those who celebrate or profit from such funds should remember: once governments normalize confiscation, no one's assets are safe. Ensuing chaos will not be pretty or peaceful.
تجزیہ کاروں کے مطابق اگر اثاثوں کی ضبطی جیسے اقدامات عملی شکل اختیار کرتے ہیں تو اس سے عالمی سرمایہ کاری، بین الاقوامی تجارت اور ممالک کے درمیان مالیاتی اعتماد پر بھی منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔