فیلڈ مارشل کا بروقت انتباہ
اشاعت کی تاریخ: 18th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
251118-03-2
پاکستان کی مسلح افواج کے سربراہ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے واضح کیا ہے کہ پاکستان ایک امن پسند ملک ہے تاہم جنگ مسلط کرنے والوں کو اس طرح جواب دیا جائے گا جس طرح مئی میں دیا گیا تھا، میں اللہ تعالیٰ کے حکم اور اس کے فرمان کے مطابق اپنے فرائض کی انجام دہی کرتا ہوں۔ وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں ایوان صدر میں صدر مملکت آصف علی زرداری کی طرف سے اردن کے شاہ دوم کے اعزاز میں دیے گئے ظہرانے کے موقع پر ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے غیر رسمی گفت گو کرتے ہوئے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے کہا کہ بھارت کے خلاف اللہ تعالیٰ نے ہمیں فتح سے ہم کنار کیا اور پاکستان کو پوری دنیا میں سر بلند کیا۔ مسلح افواج کے سربراہ کا اس موقع پر مزید کہنا تھا کہ مسلمان جب اپنے خالق و مالک پر بھروسا کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ دشمن پر پھینکی ہوئی مٹی کو بھی میزائل بنا دیتا ہے، اسی برس کے آغاز میں جب پاکستان کے ازلی دشمن بھارت نے ہم پر جنگ ٹھونسی تو پاکستان کے سپاہی اللہ تعالیٰ کے راستے میں جہاد کے لیے نکلے تھے چنانچہ اللہ تعالیٰ نے مئی کے اس معرکے میں پاکستان کو سرخرو کیا جس طرح غزوۂ احد میں مٹی ڈالنے سے مسلمانوں کو فتح ہوئی تھی، اسی طرح پاکستان کے سپاہیوں نے دشمن کا جرأت و بہادری سے مقابلہ کیا اور ربّ کائنات نے ہمیں فتح یاب کیا یہ کامیابی بلاشبہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اور اس کی بے پناہ تائید و نصرت کا نتیجہ تھی۔ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے اس موقع پر اپنی گفت گو میں جنگ احد کے واقعات اور قرآن حکیم کی آیات کا حوالہ بھی دیا۔ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی یہ گفتگو یقینا ہر مسلمان کے ایمان و یقین کی آئینہ دار ہے اور بلاشبہ ہمارے کمینہ خصلت ہمسایہ دشمن کی طرف سے مئی میں ہم پر بلاجواز مسلط کی گئی جنگ میں پاکستان کی فتح و نصرت اللہ تعالیٰ ہی کی تائید و نصرت کا نتیجہ ہے۔ ہر مسلمان کا یہی ایمان ہے کہ ہر معرکہ میں اس کا بھروسا اللہ تعالیٰ ہی کی مدد پر ہوتا ہے اور جب یہ مدد آ پہنچتی ہے تو فی الواقع مومن کے ہاتھ سے دشمن پر پھینکی ہوئی مٹی کی مٹھی بھی میزائل اور ٹینک سے فائر کیے گئے گولے کا اثر دکھاتی ہے اور دشمن کی صفوں میں وہ تباہی اس مٹی کی مٹھی سے پھیلتی ہے کہ دنیا دنگ رہ جاتی ہے۔ یہی پختہ ایمان ہر معرکے میں مسلمانوں اور مومنین کا سب سے کارگر ہتھیار ہوا کرتا ہے یہ مقام شکر ہے کہ پاکستان کی مسلح افواج کے ایک ایک سپاہی کے دل و دماغ میں یہ ایمان راسخ اور پوری قوت سے موجزن ہے اس کی بنیادی وجہ یہ بھی ہے کہ پاک فوج کی اساس ’’ایمان، تقویٰ اور جہاد فی سبیل اللہ‘‘ کے اصولوں پر رکھی گئی ہے یہ وہ جذبہ ہے جو میدان جنگ میں برسرپیکار فوجیوں کو کسی بھی مرحلہ پر مایوس اور پریشان نہیں ہونے دیتا بلکہ زبردست حوصلہ اور تقویت بخشتا ہے۔ ایوان صدر میں مسلح افواج کے سربراہ کی یہ غیر رسمی گفت گو اس حقیقت کی نشاندہی کرتی ہے کہ یہ انمول جذبہ پاک فوج کے سپاہیوں ہی میں نہیں ان کے سپہ سالار تک کے دلوں میں موجزن ہے۔
مسلح افواج کے سربراہ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی جانب سے دشمن کو یہ انتباہ نہایت بروقت اور بہت زیادہ اہمیت کا حامل ہے۔ اس وقت خطے کے مجموعی حالات اور ملکی سلامتی اور سالمیت کو درپیش چیلنج اس امر کا تقاضا کرتے ہیں کہ پاکستان اپنی دفاعی حکمت عملی کے معاملہ میں ہمہ وقت چوکس رہے۔ خطے کی جغرافیائی اور سیاسی صورت حال ان دنوں ناقابل یقین تبدیلیوں سے گزر رہی ہے۔ بھارت کی سیاسی قیادت اور فوجی سربراہان کے ذہنوں پر مئی کی شکست کا بدلہ لینے کا بھوت بری طرح سوار ہے، بھارت کے انتہا پسند وزیر اعظم کے سینے پر تو خاص طور پر سانپ لوٹ رہے ہیں انہیں دنیا بھر کی طرف سے طعن و تشنع کا سامنا ہے اور اندرون ملک بھی عوام اور اہل فکر و دانش کی جانب سے اٹھائے جانے والے سوالوں کا جواب دینا ان کے لیے خاصا مشکل ہو رہا ہے چنانچہ وہ ہر صورت مئی کا حساب برابر کرنے کے لیے موقع کی تلاش میں ہیں ان کے جنگی عزائم اور جارحانہ طرز عمل چھپائے نہیں چھپ رہے۔ یوں بھی بھارتی حکمرانوں کا یہ پرانا وتیرہ ہے کہ وہ اپنے داخلی مسائل سے عوام کی توجہ ہٹانے کے لیے بھی پاکستان کو مطعون کا کرنے کا سلسلہ جاری رکھتے ہیں اور اپنے اندرونی تنازعات، سماجی، معاشی اور معاشرتی مسائل سے جان چھڑانے کے لیے بھی پاکستان پر الزام تراشی کا سہارا لیتے ہیں اور اس مقصد کی خاطر پاکستان کے خلاف محاذ آرائی کا میدان گرم رکھنے کی کوشش کرتے رہتے ہیں تاہم پاکستان نے ہمیشہ امن کو اپنی اولین ترجیح قرار دیا ہے اور تمام بین الاقوامی فورمز پر دو طرفہ مسائل کا حل بات چیت اور مذاکرات کے ذریعے تلاش کرنے پر زور دیا ہے جب کہ اس کے برعکس بھارت مسلسل مذاکرات سے انکار کی پالیسی پر عمل پیرا رہا ہے بلکہ اس کی طرف سے ہماری بات چیت کی پیشکش کا مثبت جواب دینے کے بجائے اسے پاکستان کی کمزوری پر محمول کیا جاتا رہا ہے اس پس منظر میں پاکستان نے ہمیشہ اس امر کو یقینی بنایا ہے کہ ہم اپنی دفاعی تیاریوں میں کسی قسم کی کوتاہی نہ کریں اور دشمن کی کسی بھی غلط فہمی اور غلط بینی کے جواب کے لیے ہمہ وقت تیار رہیں۔ ہماری مسلح افواج نے سوچی سمجھی حکمت عملی کے تحت اپنی بری، بحری اور فضائی سرحدوں کے دفاع کو جدید خطوط پر استوار کرنے پر بھر پور توجہ دی ہے اور جب کبھی موقع آیا ہے اپنی دفاعی صلاحیتوں کا لوہا بھی منوایا ہے۔ دشمن کی طرف سے روز افزوں دہشت گردی اور تخریب کاری کی وارداتوں کے ذریعے پاکستان میں عدم استحکام پیدا کرنے کی کوششیں بھی اب کوئی راز نہیں رہیں اور اس مذموم مقصد کے لیے دشمن ہمارے نادان ہمسایہ بھائیوں کو بھی استعمال کر رہا ہے اور افغانستان کے اندر موجود ٹی ٹی پی اور بلوچستان میں بی ایل اے جیسی تنظیموں کی اپنے منفی مقاصد آگے بڑھانے کے لیے دامے، درمے اور سخنے ہر طرح سے سرپرستی کر رہا ہے ۔ الحمد للہ ہماری مسلح افواج اس چیلنج کا بھی بھر پور طور پر مقابلہ کر رہی ہیں اور اس مقصد کے لیے ہر طرح کی قربانیاں دے کر اہل وطن کے جان و مال کے تحفظ کا فریضہ کامیابی سے ادا کر رہی ہیں پاکستان کی مسلح افواج کے سربراہ فیلڈ مارشل سید محمد عاصم منیر نے درست طور پر دشمن کو پاکستان کے دفاع کے بارے میں بروقت متنبہ کر دیا ہے تاکہ وہ کسی غلط فہمی کا شکار ہو کر ماضی کی طرح کوئی غلط قدم اٹھانے کے بارے میں سوچنے کی حماقت سے باز رہے اور اسے احساس رہے کہ اگر اس نے ماضی کی غلطی دہرائی تو اسے پاکستان کی بہادر مسلح افواج کی جانب سے پہلے سے بھی زیادہ زور دار اور منہ توڑ جواب کا سامنا کرنا پڑے گا۔!!
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: فیلڈ مارشل سید عاصم منیر مسلح افواج کے سربراہ پاکستان کی اللہ تعالی پاکستان کے کی طرف سے ہیں اور دشمن کی رہا ہے کے لیے ہے اور اور اس
پڑھیں:
شہدا ء کا مقام اور فضیلت
جے یو آئی کے قصور شہرمیں غیر متوقع طور پر بہت بڑے پاور شو اور عوامی اجتماع نے جہاں پنجاب کی سیاست میں ایک نئی روح پھونکی اور دہائیوں پر محیط روایتی سیاسی و غیر سیاسی مہروں کے متبادل ایک نئی عوامی طاقت کا احساس دلایا، وہاں اس جیتی جاگتی تبدیلی سے خائف حلقوں نے ہمیشہ کی طرح ایک فرسودہ اور ہتک آمیز حربہ اختیار کیا۔
جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمن کے ایک بیان کو سیاق و سباق سے ہٹ کر پیش کرتے ہوئے چائے کی پیالی میں طوفان برپا کرنے کی ناکام کوشش کی گئی اور یہ گمراہ کن پروپیگنڈا گھڑا گیا کہ انھوں نے معاذ اللہ فوجی جوانوں کے لیے "شہادت کی تنخواہ" کے الفاظ استعمال کیے، حالانکہ ان کا مدعا و مقصد ہر گز یہ نہیں تھا۔ مولانا نے اپنے خطاب میں ایک انتہائی عقلی اور اصولی نکتہ واضح کیا تھا۔ اصل میں اس گفتگو کا بنیادی محور قبائلی علاقوں میں مقامی لشکروں کی تشکیل تھا۔
حیرت کی بات یہ ہے کہ اس گفتگو کا درست مفہوم سیاسی مخالفین کو تو سمجھ آگیا لیکن سوشل میڈیا کے کارندوں کو سمجھ نہ آیا کیونکہ جان بوجھ کر منفی مطلب نکالنا ان کا شیوا ہے۔ یہاں ایک بنیادی اور تلخ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ شہادت کا رتبہ، جہاد کی فضیلت اور شہید کا مقام کیا ہوتا ہے، یہ دینِ اسلام کے اسرار و رموز سے واقف، پوری زندگی قال اللہ و قال الرسول کی صدائیں بلند کرنے والا ایک جید عالمِ دین بہتر جانتا ہے یا پھر سوشل میڈیا کے مجاہدین۔ یہ پاکستان کا سب سے بڑا المیہ ہے کہ ملک کے ممتاز ترین عالمِ دین کو شہادت کی عظمت پر لیکچر دیئے جا رہے ہیں۔
ناقدین کو شاید یہ معلوم ہی نہیں کہ شہادت ایک شرعی اور دینی اصطلاح ہے، جس کا تقدس اور حقیقی مرتبہ علماء ہی جانتے ہیں۔ مولانا فضل الرحمن خود ہزاروں شہداء کے وارث ہیں۔
1857کی جنگ آزادی میں حضرت حافظ محمد ضامن شہیدؒ سمیت کلکتہ سے پشاور تک پھانسیوں پر لٹکائے جانے والے 51 ہزار علماء ان کے ہی اکابر تھے۔ پاکستان میں سیکڑوں کی تعداد میں شہید کیے جانے والے علماء، جن میں شیخ المشائخ مولانا محمد یوسف لدھیانوی شہیدؒ، مولانا سید شمس الدین شہیدؒ، مولانا حق نواز شہیدؒ، شیخ الحدیث مولانا حسن جان شہیدؒ، شیخ الحدیث مفتی نظام الدین شامزئی شہیدؒ، مفتی جمیل خان شہیدؒ، مولانا ڈاکٹر خالد محمود سومرو شہیدؒ اور دیگر بے شمار شخصیات شامل ہیں، ان کے جماعتی کارکن، دوست اور دست و بازو تھے، جن کو دن دہاڑے اس لیے شہید کیا گیا کہ وہ ریاست و آئین پاکستان کے ساتھ کھڑے تھے اور ان میں سے آج تک کسی ایک کے قاتل کو نہیں پکڑا گیا۔ جو شخص اور جو جماعت خود شہداء کی امین ہو، وہ بھلا شہداء کی توہین کا سوچ بھی کیسے سکتی ہے؟ قصور جلسہ کے ایک لفظ کو مسخ کر کے پہاڑ بنانے والوں کا یہ وقتی ابال بہت جلد بیٹھ جائے گا۔ تمام زندگی بلامعاوضہ ملک و ملت کی خدمت کرنے والے، مدارس و مساجد کی حفاظت کے لیے دن رات ایک کرنے والے، قبائل کے لوگوں کو بغاوت سے بچانے والے اور مسلح دہشت گردوں کے خلاف ریاست کے لیے خود کش حملے، دھمکیاں اور گالیاں برداشت کرنے والے زیرک رہنما کو غدار قرار دینا نا مناسب ہے۔
اسلام میں شہید کا مقام و مرتبہ انتہائی بلند اور منفرد ہے۔ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے شہیدوں کی عظمت کو اتنے ارفع انداز میں بیان کیا ہے کہ انھیں مردہ کہنے سے بھی منع فرما دیا ہے۔ سورہ البقرہ اور سورہ آل عمران میں واضح فرمایا گیا کہ "جو لوگ اللہ کی راہ میں مارے جائیں، انھیں مردہ نہ کہو اور نہ ہی ایسا گمان کرو، بلکہ وہ اپنے رب کے پاس زندہ ہیں، انھیں رزق بھی دیا جا رہا ہے اور وہ اللہ کے اس فضل پر جو انھیں عطا کیا گیا ہے، انتہائی خوش اور مسرور ہیں"۔ یہ آیات واضح کرتی ہیں کہ شہید کی زندگی عام اموات جیسی نہیں ہوتی بلکہ وہ برزخ میں ایک خاص قسم کی حیاتِ طیبہ اور انعاماتِ الٰہی سے سرفراز ہوتے ہیں۔ احادیثِ مبارکہ میں بھی شہید کے بے پناہ فضائل کا ذکر ملتا ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ "اللہ کے نزدیک شہید کی خاص خصوصیات ہیں، خون کا پہلا قطرہ گرتے ہی اس کی مغفرت کر دی جاتی ہے، اسے جنت میں اس کا ٹھکانہ دکھا دیا جاتا ہے، اسے عذابِ قبر اور قیامت کی بڑی گھبراہٹ سے پناہ ملتی ہے، اس کے سر پر وقار کا ایسا تاج رکھا جائے گا جس کا ایک یاقوت دنیا اور مافیہا سے بہتر ہے اور اس کی اپنے اقارب میں سے ستر لوگوں کے لیے شفاعت قبول کی جائے گی"۔ کائنات کی سب سے عظیم ہستی حضرت محمد ﷺ کا شہادت کی بار بار تمنا کرنا اس بات کی دلیل ہے کہ بارگاہِ الٰہی میں شہادت کا مقام کتنا عظیم ہے۔ شہید کو یہ انفرادیت بھی حاصل ہے کہ جنت میں جانے کے بعد کوئی بھی شخص دنیا میں دوبارہ لوٹنے کی خواہش نہیں کرے گا، سوائے شہید کے، جو وہاں ملنے والے اکرام کو دیکھ کر یہ تمنا کرے گا کہ کاش اسے دنیا میں دس بار واپس بھیجا جائے تاکہ وہ بار بار اللہ کی راہ میں اپنی جان قربان کر سکے۔
احادیث کے مطابق شہید کو موت کی تکلیف اتنی ہی محسوس ہوتی ہے جتنی کسی انسان کو چیونٹی کے کاٹنے سے ہوتی ہے اور قیامت کے دن اس کے زخموں سے بہنے والے خون سے مشک کی خوشبو آئے گی۔قرآن و حدیث کی رو سے شہید کا درجہ انبیاء، صدیقین اور صالحین کے بالکل متصل ہے اور یہ اہل علم ہی جانتے ہیں لہٰذا سیاسی مقاصد کے لیے پاک صاف دامن پر چھینٹیں پھینکنے والے یاد رکھیں کہ مکافاتِ عمل کا نظام عنقریب پلٹا کھائے گا۔ وقت کا تقاضا ہے کہ نعروں، الزامات اور مذمتوں کی اس تعفن زدہ سیاست کو اب بند کیا جائے۔