اسلام آباد کے بحریہ ٹاؤن میں واقع ایک نجی اسپتال میں ڈاکٹر کی مبینہ غفلت کے باعث 6 سالہ زونیشہ عمیر انتقال کر گئی جس کے بعد والدین کی جانب سے تھانہ لوہی بھیر میں اسپتال اور ڈاکٹر کے خلاف ایف آئی آر بھی درج کروائی گئی اور وہ سوشل میڈیا پر شدید احتجاج بھی کر رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: پیدائش میں تاخیر سے بچے کی ہلاکت، عدالت نے انکوائری کا حکم دے دیا

سوشل میڈیا پر بچی کے والدین کے بیانات کے مطابق بچی کو ہر وقت نزلہ اور زکام رہتا تھا اور بہت سے ڈاکٹرز سے علاج کروانے کے باوجود مسئلہ حل نہیں ہو رہا تھا۔ جس کے بعد وہ اسے ای این ٹی ڈاکٹر ارشد چوہان کے پاس لے کر گئے۔ جنہوں نے بتایا کہ بچی کا انفیکشن بڑھ رہا ہے اور کان کی طرف جا رہا ہے۔ جس سے زونیشہ مستقبل میں قوت گویائی سے بھی محروم ہو سکتی ہے۔ جس سے بچنے کے لیے ڈاکٹر ارشد چوہان نے ایک معمولی سرجری کے ہدایت کی۔ اس بات پر وہ ڈاکٹر سے متفق تھے اور وہ زونیشہ کو سرجری کے لیے لے گئے۔ زونیشہ کے والدین کی جانب سے یہ بھی کہا گیا کہ ڈاکٹر نے سرجری کا وقت 20 سے 25 منٹ دیا تھا۔ لیکن 2 گھنٹے ہونے کو تھے اور وہ بچی کے حوالے سے کچھ بتا نہیں رہے تھے جس کے بعد ان کے غصے اور اصرار پر جب وہ آپریشن تھیٹر میں گئے تو ان کی بیٹی مردہ حالت میں پائی گئی۔

وی نیوز نے جب زونیشہ کے والد عمیر حسن سے بات کی تو انہوں نے بتایا کہ یہ سب سراسر ڈاکٹر کی غفلت کی وجہ سے ہوا ہے کیونکہ ڈاکٹر کی جانب سے ان کی بیٹی کے کسی بھی قسم کے ٹیسٹ نہیں کروائے گئے۔ صرف اس کے بلڈ ٹیسٹ کا پوچھا گیا تو انہوں نے ڈاکٹر سے کہا کہ تقریباً ایک ماہ قبل زونیشہ کا بلڈ ٹیسٹ ہوا تھا جس پر ڈاکٹر نے وہ رپورٹ طلب کی اور انہوں نے وہ تقریباً ایک ماہ قبل رپورٹ ڈاکٹر کو واٹس ایپ کی جس کے بعد ڈاکٹر نے اگلے ہی دن زونیشہ کی سرجری کا ٹائم دے دیا۔

مزید پڑھیے: ‎مظفرآباد کارڈیک اسپتال میں مریض کے انتقال پر لواحقین کی ہنگامہ آرائی

عمیر حسن کا کہنا تھا کہ ان کی بچی خود اسپتال چل کر گئی تھی بلکہ ٹھیک بھی تھی اور کسی قسم کا کوئی مسئلہ نہیں تھا۔ انہوں نے کہا کہ میری بیٹی کے آپریشن کا آغاز تقریباً 11:45 بجے ہوا۔ 2 گھنٹے گزرنے کے باوجود اسپتال انتظامیہ اور عملے کی جانب سے بیٹی کی حالت کے بارے میں کوئی معلومات فراہم نہیں کی گئی پھر جب میں نے مسلسل اصرار کیا تو عملہ اور ڈاکٹرز فرار ہو گئے اور ہمیں مکمل طور پر لاعلم رکھا گیا۔ مجبوراً جب ہم نے آپریشن تھیٹر کا دروازہ زبردستی کھلوا تو دیکھا کہ ہماری معصوم بچی کی موت ہوچکی ہے اور اس کی لاش آپریشن تھیٹر بیڈ پر پڑی ہے اور ڈاکٹر ارشد چوہان، انیستھیزیا کے ڈاکٹر انیق الرحمن اور باقی سارا عملہ موقع سے غائب ہو چکا ہے جس کے متعلق معلوم ہوا کہ بچی کی موت انیستھیزیا کے غلط طریقہ کار اور غیر پیشہ ورانہ لا پرواہی اور غفلت برتنے والے عملے کی وجہ سے ہوئی جو کہ ڈاکٹر ارشد چوہان کے زیر نگرانی کام کر رہے تھے۔

ایک سوال کے جواب میں عمیر حسن کا کہنا تھا کہ ابتدائی طور پر پولیس کی جانب سے ایف آئی آر درج کرنے سے انکار کر دیا گیا تھا لیکن کچھ جاننے والے اعلیٰ عہدوں پر فائز لوگوں سے کالز کروائیں جس کے بعد ایف آئی آر درج کی گئی۔ لیکن پولیس کے مطابق وہ اس وقت تک کچھ نہیں کر سکتے جب تک پوسٹ مارٹم رپورٹ نہ آجائے۔

مزید پڑھیں: فیصل آباد، آپریشن کے بعد پیٹ میں رہ جانے والی قینچی نے لڑکی کی جان لے لی

انہوں نے کہا کہ ’بچی کو ہم بعد میں پولی کلینک لے گئے تھے جہاں اس کا پوسٹ مارٹم ہوا تھا۔ فزیکل پوسٹ مارٹم کے بعد تو ڈاکٹر کا کہنا تھا کہ بچی کے ہاتھ پر صرف سرنج کا ہی نشان ہے جب کہ انٹرنل پوسٹ مارٹم کی رپورٹ ابھی تک نہیں آئی ‘۔

عمیر حسن کا کہنا تھا کہ وہ خود بھی پوسٹ مارٹم کی رپورٹ کا انتظار کر رہے ہیں تاکہ کاروائی کا عمل شروع ہو کیونکہ ہم انصاف چاہتے ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

6 سالہ بچی کی موت 6 سالہ مریضہ کی موت اسپتال کی غفلت سے موت اسلام اباد ڈاکٹر کی غفلت سے موت زونیشہ.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: 6 سالہ بچی کی موت 6 سالہ مریضہ کی موت اسلام اباد کا کہنا تھا کہ پوسٹ مارٹم کی جانب سے جس کے بعد ڈاکٹر کی انہوں نے کی موت

پڑھیں:

کوئٹہ، سرکاری دفاتر میں ایجنٹس کیخلاف ایف آئی اے کی کارروائی، 14 افراد گرفتار

ڈائریکٹر ایف آئی اے بلوچستان کے مطابق ملزمان مبینہ طور پر برتھ سرٹیفکیٹس، قومی شناختی کارڈز، پاسپورٹس اور دیگر سرکاری دستاویزات کے حصول کیلئے غیر قانونی طریقے سے سہولت فراہم کرتے اور شہریوں سے رقوم وصول کرتے تھے۔ اسلام ٹائمز۔ وفاقی تحقیقات ادارے ایف آئی ای نے کوئٹہ شہر میں مختلف وفاقی اداروں کے مبینہ ایجنٹس کے خلاف بڑے پیمانے پر کریک ڈاؤن کرتے ہوئے 14 افراد کو گرفتار کرلیا ہے۔ ڈائریکٹر ایف آئی اے بلوچستان بہرام مندوخیل کے مطابق کارروائی کے دوران نادرا، سوئی سدرن گیس کمپنی، پاسپورٹ آفس اور میٹروپولیٹن کارپوریشن سے متعلق مبینہ ایجنٹس کو حراست میں لیا گیا ہے، جو شہریوں کو مختلف سرکاری امور میں غیر قانونی سہولت کاری فراہم کرنے میں ملوث تھے۔ انہوں نے بتایا کہ گرفتار ملزمان مبینہ طور پر برتھ سرٹیفکیٹس، قومی شناختی کارڈز، پاسپورٹس اور دیگر سرکاری دستاویزات کے حصول کے لئے غیر قانونی طریقے سے سہولت فراہم کرتے اور شہریوں سے رقوم وصول کرتے تھے۔

ڈائریکٹر ایف آئی اے نے کہا کہ گرفتار ملزمان سے تفتیش جاری ہے اور ابتدائی تحقیقات کی روشنی میں ان کے نیٹ ورک میں شامل دیگر افراد کی نشاندہی کی جا رہی ہے۔ امید ہے کہ مزید گرفتاریاں بھی عمل میں آئیں گی۔ بہرام مندوخیل نے کہا کہ ایف آئی اے سرکاری اداروں میں بدعنوانی، جعلسازی اور غیر قانونی سہولت کاری کے خاتمے کے لئے کارروائیاں جاری رکھے گی اور قانون شکنی میں ملوث عناصر کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کی جائے گی۔

متعلقہ مضامین

  • پیپلز پارٹی کا فارم 47 پر حالیہ بیانیہ پی ٹی آئی بیانیے سے مطابقت رکھتا ہے، علی ظفر
  • کوئٹہ، سرکاری دفاتر میں ایجنٹس کیخلاف ایف آئی اے کی کارروائی، 14 افراد گرفتار
  • کراچی میں کھلے مین ہول میں گر کر 7 سالہ بچہ جاں بحق
  • راولپنڈی میں 14 سالہ فیکٹری ملازم کے ساتھ ’استاد‘ کی بدفعلی، لڑکا اسپتال میں داخل
  • کراچی: کیماڑی میں 6 سالہ بچی کے اغوا اور قتل میں ملوث مرکزی ملزم مبینہ پولیس مقابلے میں ہلاک
  • کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ
  • کراچی: ڈاکٹر آکاش قتل کیس میں گرفتار تینوں ڈاکو اپنے ساتھیوں کی فائرنگ سے ہلاک
  • کراچی، 7 سالہ بچی کے اغوا اور قتل میں ملوث ملزم مبینہ پولیس مقابلے میں ہلاک
  • کراچی: 6 سالہ بچی سے مبینہ زیادتی کرنے والا ملزم پولیس مقابلے میں مارا گیا
  • ولیکا اسپتال میں ایچ آئی وی کا ایک اور کیس رپورٹ، 18 ماہ کے بچے میں بیماری کی تصدیق