ایران: پاکستان کے یومِ آزادی کی مناسبت سے شاندار تقریب، معرکہ حق کی یاد تازہ کی گئی
اشاعت کی تاریخ: 17th, August 2025 GMT
ایران میں پاکستان کے یومِ آزادی کی مناسبت سے شاندار تقریب کا انعقاد کیا گیا. پاکستان ہاؤس تہران میں منعقدہ تقریب میں یوم آزادی کے ساتھ ساتھ معرکہ حق اور آپریشن بنیان مرصوص کی کامیابی کی یاد بھی تازہ کی گئی۔
تقریب کا آغاز سبز ہلالی پرچم کی پرچم کشائی سے ہوا، جو پاکستان کے سفیر محمد مدثر ٹیپو نے قومی ترانے کی دھن پر انجام دی۔اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے پاکستانی سفیر نے کہا کہ مسلح افواج ہر حال میں مادرِ وطن کے دفاع کے لیے ہمہ وقت تیار ہیں، معرکہ حق کی کامیابی پاک فوج کی بے مثال صلاحیتوں اور قربانیوں کا منہ بولتا ثبوت ہے۔یومِ آزادی کی تقریب میں ایرانی دارالحکومت میں مقیم پاکستانی کمیونٹی اور سفارتخانے کے افسران کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔تقریب کے دوران پاکستان اور ایران کے تجارتی تعلقات کو مزید فروغ دینے کے عزم کا اظہار کیا گیا اور اعلان کیا گیا کہ دونوں ممالک اپنے تجارتی حجم کو 10 ارب ڈالر تک بڑھانے کے لیے کوشاں ہیں۔تقریب میں مظلوم کشمیری اور فلسطینی عوام کے لیے خصوصی دعا بھی کی گئی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
پڑھیں:
ایران جنگ طول پکڑنے پر ٹرمپ کو میڈیا اور اپنی انتظامیہ کے دباؤ کا سامنا
امریکی صدر کا کہنا تھا کہ اگر سفارتی کوششیں کامیاب نہ ہوئیں اور کوئی معاہدہ طے نہ پایا تو امریکہ ایران کے خلاف سخت کارروائی کرے گا۔ اسلام ٹائمز۔ ایران جنگ کے طول پکڑنے پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ میڈیا اور اپنی انتظامیہ کے دباؤ کا سامنا کر رہے ہیں۔ الجزیرہ ٹی وی کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو میڈیا اور ممکنہ طور پر اپنی ہی انتظامیہ کی جانب سے بڑھتے ہوئے دباؤ کا سامنا ہے، خاص طور پر اس حوالے سے کہ وہ بارہا یہ پیش گوئی کرتے رہے ہیں کہ موجودہ تنازع جلد ہی حل ہو جائے گا۔ تنازع کے آغاز پر ٹرمپ نے دعویٰ کیا تھا کہ جنگ صرف چند دن جاری رہے گی، بعد ازاں انہوں نے کہا کہ معاملہ چند ہفتوں میں حل ہو جائے گا، تاہم جنگ طویل عرصے سے جاری ہے اور اس کے خاتمے کے آثار تاحال واضح نہیں ہیں، اس کے باوجود ٹرمپ مسلسل اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ معاہدہ قریب ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ اگر سفارتی کوششیں کامیاب نہ ہوئیں اور کوئی معاہدہ طے نہ پایا تو امریکہ ایران کے خلاف سخت کارروائی کرے گا، صدر ٹرمپ روزانہ کی بنیاد پر اس مؤقف کا اعادہ کر رہے ہیں کہ فریقین معاہدے کے قریب پہنچ چکے ہیں، لیکن اگر بات چیت کسی نتیجے تک نہ پہنچی تو امریکا اپنی فوجی طاقت استعمال کرنے سے گریز نہیں کرے گا۔