ویب ڈیسک :وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کو ملک کا پہلا مکمل کیش لیس اور ڈیجیٹل شہر بنانے کے منصوبے کے تحت ایچ-9 ہفتہ وار مارکیٹ کو باقاعدہ طور پر پاکستان کی پہلی مکمل کیش لیس مارکیٹ میں تبدیل کر دیا گیا ہے۔
چیئرمین سی ڈی اے محمد علی رندھاوا نے ایچ-9 میں اس جدید ترین نظام کا افتتاح کیا۔

 افتتاحی تقریب میں ممبر فنانس، چیف آفیسر ایم سی آئی، سی ای او زندگی، اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے نمائندگان، سی ڈی اے اور ضلعی انتظامیہ کے افسران سمیت تاجروں اور خریداروں کی بڑی تعداد موجود تھی۔

پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں عالمی مارکیٹ میں قیمتوں کے تناسب سے رد و بدل ہو گیا

 چیئرمین سی ڈی اے نے مارکیٹ کے مختلف اسٹالز پر جا کر ڈیجیٹل پیمنٹ کے ذریعے خریداری کی اور انتظامات کا جائزہ لیا۔

 اس موقع پر حکام نے بتایا کہ کیش لیس لین دین کرنے والے صارفین کے لیے خصوصی ڈسکاؤنٹس بھی رکھے گئے ہیں تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ ڈیجیٹل نظام کو اپنائیں۔

 سی ڈی اے کے مطابق کیش لیس سسٹم کو جلد ہی تمام کمرشل سینٹرز، شاپنگ مالز، اسپتالوں، ہوٹلوں، ریستورانوں اور اسلام آباد ایئرپورٹ تک توسیع دی جائے گی۔

گرین شرٹس آج روایتی حریف کو کرکٹ سکھانے کے لئے میدان میں آئیں گے

 چیئرمین رندھاوا نے ایم سی آئی، کمرشل بینکس اور اسلام آباد انتظامیہ کی کوششوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم کے ویژن کے مطابق یہ اقدام شہریوں کو جدید سہولتیں فراہم کرنے کی طرف ایک اہم قدم ہے، جس کا مقصد اسلام آباد کو پاکستان کا پہلا مکمل ڈیجیٹل اور کیش لیس شہر بنانا ہے۔
 

.

ذریعہ

ذریعہ: City 42

کلیدی لفظ: اسلام آباد سی ڈی اے کیش لیس

پڑھیں:

عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت 100 ڈالر سے تجاوز، مزید اضافے کا خدشہ

اسلام آباد: مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جہاں برینٹ کروڈ پہلی بار 100 ڈالر فی بیرل کی سطح عبور کر گیا، جبکہ امریکی خام تیل بھی 90 ڈالر فی بیرل سے اوپر پہنچ گیا۔

تازہ عالمی مارکیٹ رپورٹس کے مطابق خطے میں جاری غیر یقینی صورتحال اور سپلائی میں ممکنہ رکاوٹوں کے خدشات نے خام تیل کی قیمتوں کو نئی بلند ترین سطح پر پہنچا دیا ہے۔

ماہرین توانائی کا کہنا ہے کہ اگر مشرق وسطیٰ کی صورتحال مزید کشیدہ ہوئی اور تیل کی ترسیل متاثر ہوئی تو برینٹ کروڈ کی قیمت 120 ڈالر فی بیرل تک پہنچ سکتی ہے۔

تیل کی قیمتیں کیوں بڑھ رہی ہیں؟

تجزیہ کاروں کے مطابق ایران سے تیل کی سپلائی متاثر ہونے کے خدشات، بحیرہ احمر میں حوثیوں کی جانب سے بحری سرگرمیوں میں رکاوٹ اور اہم تجارتی راستوں پر بڑھتے ہوئے خطرات نے عالمی توانائی مارکیٹ کو شدید دباؤ میں ڈال دیا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ ایران کے اہم آئل ٹرمینل جزیرہ خارگ کو کسی بھی ممکنہ نقصان یا تیل کی صنعت میں ہڑتال کی صورت میں عالمی سطح پر سپلائی مزید متاثر ہو سکتی ہے، جس سے قیمتوں میں مزید تیزی آنے کا امکان ہے۔

پاکستان پر کیا اثر پڑ سکتا ہے؟

توانائی ماہرین کے مطابق اگر عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت اسی رفتار سے بڑھتی رہی تو پاکستان میں بھی پیٹرول، ڈیزل اور دیگر پیٹرولیم مصنوعات مزید مہنگی ہونے کا امکان ہے۔ اس کے علاوہ ٹرانسپورٹ، بجلی کی پیداوار، صنعتی لاگت اور مہنگائی پر بھی اس کے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ عالمی تیل منڈی میں جاری غیر یقینی صورتحال برقرار رہی تو نہ صرف توانائی کی قیمتیں مزید بڑھ سکتی ہیں بلکہ عالمی معیشت اور سپلائی چین بھی شدید دباؤ کا شکار ہو سکتی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • ایران پر 13 ویں رات فضائی حملوں کے اہداف مکمل کر لیے گئے، سینٹکام
  • آج کہاں کہاں بادل برسیں گے ،محکمہ موسمیات نے بڑی پیشگوئی کردی
  • ’’خیبر پی کے ڈیجیٹل ٹرانسفارمیشن پالیسی اینڈ روڈ میپ 2030ء ‘‘ کا اجراء 
  • جارحیت کی قیمت واشنگٹن کو بہت مہنگی پڑے گی، عباس عراقچی
  • پنجاب میں پہلی مرتبہ سیلاب کی پیشگی اطلاع کیلئے ڈرون مانیٹرنگ کا آغاز
  • پنجاب میں پہلی بار سیلاب کی پیشگی اطلاع کیلئے ڈرون مانیٹرنگ شروع
  • خیبر پختونخوا، گلگت بلتستان، پنجاب اور کشمیر میں تیز بارشوں کی پیشگوئی، لینڈ سلائیڈنگ کا خدشہ
  • میڈ اِن پاکستان الیکٹرک گاڑی کی مارکیٹ میں آمد جلد متوقع، بی وائی ڈی نے اہم اعلان کردیا
  • اسلام آباد، بلاول بھٹو سے وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان امجد حسین کی ملاقات
  • عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت 100 ڈالر سے تجاوز، مزید اضافے کا خدشہ