پاکستان کی جانب سے افغانستان بارڈرز کی بندش سے کتنے کروڑ ڈالرز کا نقصان ہوا؟
اشاعت کی تاریخ: 10th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
اسلام آباد: پاکستان اور افغانستان کے درمیان سرحدی کشیدگی کے باعث بند کی گئی کراسنگ پوائنٹس سے ہونے والے مالی نقصانات کی تفصیلات سامنے آگئی ہیں۔ دونوں ممالک کے درمیان تجارتی راستے تقریباً ایک ماہ سے بند ہیں، جس کے نتیجے میں دوطرفہ تجارت اور علاقائی ترسیلات بری طرح متاثر ہوئی ہیں۔
ذرائع کے مطابق پاک افغان سرحد کے تمام 8 کراسنگ پوائنٹس کی بندش سے وسط ایشیائی ممالک کو جانے والی پاکستانی برآمدات بھی شدید متاثر ہوئیں، جبکہ ایک ہزار سے زائد ٹرک کراچی پورٹ پر پھنسے ہوئے ہیں۔ عام حالات میں افغانستان پاکستان سے ہر ماہ تقریباً 15 کروڑ ڈالر مالیت کی درآمدات کرتا ہے، جب کہ پاکستان کو افغان برآمدات کا حجم تقریباً 6 کروڑ ڈالر ماہانہ ہے۔
بارڈر کی بندش سے نہ صرف تجارت بلکہ مزدور طبقہ بھی متاثر ہوا ہے، اور اندازوں کے مطابق 20 سے 25 ہزار ورکرز بے روزگار یا متاثر ہوئے ہیں۔ افغانستان میں زرعی اجناس کی قیمتوں میں نمایاں کمی دیکھی گئی ہے — مثال کے طور پر افغانی انگور کا 10 کلوگرام پیکٹ جو پہلے 4,500 روپے میں فروخت ہوتا تھا، اب صرف 120 سے 140 روپے میں دستیاب ہے۔
سرحدی راستوں کی بندش کے ابتدائی 24 روز میں مجموعی نقصان کا تخمینہ تقریباً 20 کروڑ ڈالر لگایا گیا ہے، جس سے نہ صرف افغانستان بلکہ پاکستان کی برآمدی صنعت بھی دباؤ کا شکار ہے۔ تجارتی حلقوں نے دونوں ممالک سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ بات چیت کے ذریعے تنازعہ حل کریں تاکہ دوطرفہ تجارت بحال ہو سکے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: کی بندش
پڑھیں:
سندھ میں مٹی کے طوفان نے تباہی مچا دی، 46 گرڈ اسٹیشن بند، درجنوں شہر اندھیرے میں ڈوب گئے
سکھر:سندھ کے مختلف اضلاع میں آنے والی شدید آندھی، مٹی کے طوفان اور موسلا دھار بارش نے بڑے پیمانے پر تباہی مچا دی۔
مورو میں طوفانی ہواؤں کے باعث گھروں، دکانوں، ہوٹلوں اور سرکاری و نیم سرکاری عمارتوں کی چھتوں پر نصب سولر پلیٹیں اور سائن بورڈ اکھڑ کر دور جا گرے جبکہ متعدد مقامات پر درخت اور بجلی کی تاریں بھی زمین بوس ہوگئیں۔
ریسکیو ذرائع کے مطابق مختلف حادثات میں کم از کم پانچ افراد زخمی ہوئے جنہیں فوری طور پر قریبی اسپتال منتقل کر دیا گیا۔
کئی علاقوں میں شہری خوف و ہراس کا شکار رہے جبکہ طوفان کے باعث معمولات زندگی شدید متاثر ہوئے۔
دوسری جانب لاڑکانہ، شکارپور، دادو اور گرد و نواح میں خراب موسمی صورتحال کے باعث بجلی کا ترسیلی نظام بھی بری طرح متاثر ہوا۔
سیپکو حکام کے مطابق شدید آندھی اور بارش کے نتیجے میں 220 کے وی گرڈ اسٹیشن لوڈرا، شکارپور اور دادو سے آنے والی 132 کے وی مین سپلائی متاثر ہوگئی جس کے باعث لاڑکانہ سرکل کے متعدد فیڈرز بند ہوگئے۔
سیپکو کنٹرول سینٹر کے مطابق طوفانی موسم سے 220 کے وی اور 132 کے وی کی متعدد اہم ٹرانسمیشن لائنیں ٹرپ کر گئیں جبکہ کئی مقامات پر ٹاورز، پولز اور بجلی کی لائنوں کو نقصان پہنچا ہے۔
صورتحال کے باعث مجموعی طور پر 46 گرڈ اسٹیشنز متاثر ہوئے جس سے لاڑکانہ، قمبر، شہدادکوٹ، کشمور، کندھکوٹ، گھوٹکی، خیرپور، نوشہروفیروز، مورو اور دیگر علاقوں میں بجلی کی فراہمی معطل یا شدید متاثر ہوگئی۔
سیپکو کے چیف ایگزیکٹو آفیسر انجینئر اعجاز احمد چنہ کی ہدایات پر آپریشن، کنسٹرکشن، جی ایس او اور فیلڈ ٹیموں کو ہنگامی بنیادوں پر متحرک کر دیا گیا ہے۔
انجینئرز اور تکنیکی عملہ متاثرہ علاقوں میں مرمتی کاموں میں مصروف ہے اور خراب ہونے والے پولز، ٹاورز اور ٹرانسمیشن لائنوں کی بحالی کا عمل جاری ہے۔
سیپکو حکام کا کہنا ہے کہ ادارہ اپنے تمام دستیاب وسائل استعمال کرتے ہوئے بجلی کی جلد بحالی کے لیے کام کر رہا ہے تاہم شدید موسمی حالات کے باعث مرمتی سرگرمیوں میں مشکلات کا سامنا ہے۔
متاثرہ علاقوں کے صارفین سے صبر و تحمل کی اپیل کرتے ہوئے یقین دلایا گیا ہے کہ بجلی کی فراہمی جلد از جلد بحال کرنے کی ہر ممکن کوشش کی جا رہی ہے۔