اسکرین گریب

 وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے کہا ہے کہ پارلیمنٹ جب چاہے گی آئین میں ترمیم کرے گی، آئین ججز کی مرضی کا نہیں ہوگا۔

فیصل آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ملک اس وقت کسی بھی قسم کے انتشار کا متحمل نہیں ہو سکتا، آئین میں ترمیم پارلیمنٹ کا حق ہے، ججز آئین کا حلف اٹھاتے ہیں، ججز سیاسی پارٹی نہیں ہوتے، ججز کہیں کہ آئین میں تبدیلی ہوگی تو وہ نہیں رہیں گے، آئین پارلیمنٹ اور لوگوں کی مرضی کا ہوگا، ججز کی تنخواہوں سے لے کر ایک ایک فیصلہ پارلیمنٹ کرتی ہے، یہ سیاسی استعفے ہیں، ان کے استعفے بھی سیاسی رہے ہیں، یہ بہت جانبدار رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ عدلیہ کا جب دل کرتا تھا سوموٹو پر وزیراعظم کو گھر بھیج دیتی تھی، جب دل کرتا تھا حکومت کو کٹہرے میں کھڑا کرکے لاچار کردیتے تھے، جس کو دل کرتا تھا ہٹا دیں اور جس کو دل کرے لے آئیں، یہ آپ کا کام نہیں، پارلیمنٹ کو پارلیمنٹ نظر آنا چاہیے، ان لوگوں نے پارلیمنٹ کو میونسپل کارپوریشن بنادیا تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ پنجاب میں الیکشن لڑنا مشکل تھا تو بائیکاٹ کردیا، خیبرپختونخوا میں الیکشن لڑ رہے ہیں، سہیل آفریدی بطور وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا اپنی ذمہ داریاں نبھائیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jang News

پڑھیں:

حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف

حیدرآباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (حیسکو) میں تنخواہوں اور الاؤنسز کی مد میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کرپشن کا انکشاف ہوا ہے۔

قومی اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے اجلاس میں آڈٹ حکام نے انکشاف کیا کہ حیسکو میں گھوسٹ ملازمین، ڈبل تنخواہوں کے ذریعے قومی خزانے کو نقصان پہنچایا گیا اور وفاقی تحقیقاتی ادارہ (ایف آئی اے)99 کروڑ 62 لاکھ کی مبینہ کرپشن کی تحقیقات کر رہا ہے۔

آڈٹ حکام نے مزید انکشاف کیا کہ حیسکو کی اندرونی انکوائری میں مزید 6 کروڑ 78 لاکھ روپے کی مشتبہ ادائیگیاں ہوئی ہیں۔

چیئرمین کمیٹی شاہدہ اختر کی زیرصدارت اجلاس میں ایف آئی اے حکام نے بتایا کہ اس معاملے میں ایف آئی آرز کی تعداد 5 ہوگئی تھی، 151 ملزمان تھے جن میں سے 14 کو گرفتار کیا گیا جبکہ دیگر ضمانت پر ہیں، ایک ارب روپے میں سے 13 کروڑ روپے کی ریکوری ہوئی ہے۔

رکن کمیٹی قاسم نون نے کہا کہ 13 کروڑ روپے کچھ بھی نہیں ہیں، سخت ایکشن لیا جائے، سید امین الحق نے کہا کہ گھوسٹ ملازمین کی تصدیق بھی کی گئی کہ وہ موجود ہیں۔

سینیٹر افنان اللہ خان نے کہا کہ وزارت کو چاہیے کہ وہ مداخلت کرے اور ذمہ داران کا تعین کرے۔

چیئرمین کمیٹی شاہد اختر نے کہا کہ یہ تو آڈٹ نے نشان دہی کر دی ہے، لگتا ہے کہ پاور ڈویژن کا کوئی چیک اینڈ بیلنس نہیں ہے، جس پر سی ای او حیسکو نے بتایا کہ 756 ملین روپے کی ذمہ داری بھی فکس ہو چکی ہے۔

شاہدہ اختر نے کہا کہ عدالت کے حکم تک یہ آڈٹ پیرا زیر التوا رہے گا، رکن کمیٹی سید حسین طارق نے سوال کیا کہ حیسکو میں بائیو میٹرک سسٹم کیوں نہیں ہے۔

پاکستان پیپلزپارٹی (پی پی پی) کی رکن شازیہ مری نے کہا کہ ہم ڈسکوز کو یہاں کمنٹس کے لیے نہیں احتساب کے لیے بلاتے ہیں، یہ لوگوں کو چور کہتے ہیں اور اپنی پرفارمنس کے گیت گاتے نہیں تھکتے۔

پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے ہدایت کی کہ 13 کروڑ روپے کی ریکوری کی آڈٹ سے تصدیق کرائی جائے، جو ریکوری رہ گئی ہے وہ معاملہ زیر التوا رہے گا۔

متعلقہ مضامین

  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • انفرااسٹرکچر پر امریکی حملوں کا جواب شدید اور وسیع ہوگا، ایران
  • چینی سائنسدانوں کی اہم پیش رفت، نیند بڑھانے والا قدرتی مالیکیول دریافت
  • دبئی ایئرپورٹ پر اے آئی امیگریشن سسٹم متعارف، 3.4 سیکنڈ میں کلیئرنس
  • سرکاری ملازمین پنشن میں اضافہ، خیبرپختونخوا حکومت کا بڑا ریلیف اعلان
  • جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے رکنِ پارلیمنٹ  کی نوجوان خاتون کے ساتھ نازیبا ویڈیو سامنے آگئی
  • حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف
  • کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن
  • سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل