دہلی کی آلودہ و زہریلی ہوا میں سانس لینا ہوا مشکل، اے کیو آئی 500 کے پار
اشاعت کی تاریخ: 16th, November 2025 GMT
محکمہ موسمیات نے اتوار کی صبح دھند پڑنے کی پیشگوئی کی ہے، جس میں درجہ حرارت کم سے کم 11 اور زیادہ سے زیادہ 24 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ جائیگا۔ اسلام ٹائمز۔ بھارت کے دارالحکومت دہلی کے باشندوں کو اتوار کو بھی زہریلی ہوا سے راحت نہیں ملے گی۔ آلودگی کنٹرول بورڈ کے مطابق AQI آج صبح 551 ریکارڈ کی گئی، جو خطرے کے زمرے میں برقرار ہے۔ اس کی بڑی وجہ ہوا میں PM2.
گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران دہلی کا اوسط AQI 386 تھا، جو شدید زمرے میں آتا ہے، لیکن اتوار کی صبح یہ بگڑ کر 551 ہوگیا۔ یہ بنیادی طور پر PM2.5 کی سطح کے 351 اور PM10 کے 466 تک پہنچنے کی وجہ سے ہے۔ آلودگی کنٹرول بورڈ کے اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ وزیر پور، بوانا، منڈکااور AQI جیسے علاقوں میں بھی AQI اوپر ہے۔ 400۔ 11 نومبر کو AQI 428 تک پہنچ گیا، جو 2025 کا پہلا "حد سے زیادہ خطرناک" دن تھا۔ نومبر میں اب تک اوسط AQI 150 رہا ہے، جو پچھلے سالوں کے مقابلے میں قدرے 8.3 فیصد بہتر ہے، لیکن پھر بھی معیار کے لحاظ سے خطرناک ہے۔
محکمہ موسمیات نے اتوار کی صبح دھند پڑنے کی پیش گوئی کی ہے، جس میں درجہ حرارت کم سے کم 11 اور زیادہ سے زیادہ 24 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ جائے گا۔ 5 سے 6 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے ہوائیں چلیں گی، جس کی وجہ سے فضائی آلودگی میں کمی نہیں آ رہی، یہ صورتحال آئندہ تین سے چار روز تک برقرار رہنے کا امکان ہے۔ GRAP-3 فی الحال دارالحکومت دہلی میں نافذ ہے، لیکن اس کے باوجود ہوا کا معیار بہتر نہیں ہو رہا ہے۔ اس لئے اس میں آئندہ چند روز تک توسیع کی جاسکتی ہے۔ دہلی حکومت نے لوگوں کو صرف پبلک ٹرانسپورٹ استعمال کرنے کا مشورہ دیا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: سے زیادہ
پڑھیں:
مصنوعی مٹھاس دماغی صحت کے لیے خطرہ؟ نئی تحقیق میں یادداشت متاثر ہونے کا اشارہ
ایک نئی سائنسی تحقیق میں یہ انکشاف سامنے آیا ہے کہ مصنوعی مٹھاس کا زیادہ استعمال یادداشت اور ذہنی صلاحیتوں میں تیزی سے آنے والی کمی سے تعلق رکھ سکتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ یہ اجزا چینی کے متبادل کے طور پر استعمال کیے جاتے ہیں، تاہم ان کے طویل المدتی اثرات دماغی صحت کے لیے تشویش کا باعث بن سکتے ہیں۔
یہ تحقیق امریکن اکیڈمی آف نیورولوجی کے جریدے نیورولوجی میں شائع ہوئی، جس میں تقریباً 13 ہزار بالغ افراد کی آٹھ برس تک نگرانی کی گئی۔ تحقیق کے دوران کم یا بغیر کیلوریز والی مٹھاس کے سات عام اجزا کا جائزہ لیا گیا، جن میں ایسپارٹیم، سیکرین، ایسی سلفیم کے، اریتھریٹول، زائیلیٹول، سوربیٹول اور ٹیگاٹوز شامل تھے۔
تحقیقی نتائج کے مطابق وہ افراد جو روزانہ اوسطاً 191 ملی گرام مصنوعی مٹھاس استعمال کرتے تھے، جو تقریباً ایک کین ڈائٹ سوڈا میں موجود ایسپارٹیم کے برابر مقدار ہے، ان میں کم استعمال کرنے والوں کے مقابلے میں یادداشت اور ذہنی کارکردگی میں کمی کی رفتار 62 فیصد زیادہ دیکھی گئی۔
اسی طرح درمیانی مقدار میں مصنوعی مٹھاس استعمال کرنے والے افراد میں بھی ذہنی صلاحیتوں میں کمی کا خطرہ نمایاں رہا، جہاں یہ شرح کم استعمال کرنے والوں کے مقابلے میں 35 فیصد زیادہ ریکارڈ کی گئی۔
محققین کے مطابق یہ تعلق 60 سال سے کم عمر افراد اور ذیابیطس کے مریضوں میں زیادہ نمایاں دیکھا گیا، کیونکہ یہ افراد عام چینی کے بجائے مصنوعی مٹھاس کا زیادہ استعمال کرتے ہیں۔
تحقیق میں شامل سات میٹھے اجزا میں سے صرف ٹیگاٹوز ایسا جز تھا جس کا ذہنی صلاحیتوں میں تیز رفتار کمی سے واضح تعلق سامنے نہیں آیا، جبکہ باقی چھ اجزا اس خطرے سے منسلک پائے گئے۔
تحقیق کی مرکزی مصنفہ، یونیورسٹی آف ساؤ پالو سے وابستہ ڈاکٹر کلاڈیا کیمی سوئیموتو نے کہا کہ مصنوعی مٹھاس کو عموماً صحت مند متبادل سمجھا جاتا ہے، لیکن تحقیق کے نتائج اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ بعض مصنوعی میٹھے اجزا طویل عرصے تک استعمال کیے جانے کی صورت میں دماغی صحت پر منفی اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔
یہ مصنوعی مٹھاس عام طور پر ڈائٹ سوڈا، فلیورڈ واٹر، انرجی ڈرنکس، دہی اور دیگر کم کیلوریز والی پراسیسڈ غذاؤں میں استعمال کی جاتی ہے۔
تاہم محققین نے اس بات پر بھی زور دیا کہ یہ ایک مشاہداتی تحقیق ہے، اس لیے اس سے یہ حتمی نتیجہ اخذ نہیں کیا جا سکتا کہ مصنوعی مٹھاس ہی براہِ راست یادداشت میں کمی کی وجہ بنتی ہے۔ ان کے مطابق ان نتائج کی مزید تصدیق اور مختلف متبادل میٹھے اجزا کے اثرات جانچنے کے لیے مزید سائنسی تحقیق کی ضرورت ہے۔