اسپیکر پنجاب اسمبلی ملک محمد احمد خان نے کہا ہے کہ استعفوں کا سلسلہ ابھی رکے گا نہیں،  مزید ججز کے استعفیٰ متوقع ہیں،  یہ ججز ایسے تھے جیسے پارٹیز تھی، ان ججز کا انصاف صرف ایک پارٹی کیلے تھا۔

لاہور میں میڈیا سے گفتگو میں اسپیکر پنجاب اسمبلی نے کہا کہ یہ ججز ایسے تھے جیسے پارٹیز تھی، ان ججز کا انصاف صرف ایک پارٹی کیلے تھا، ان ججز کی سزا صرف ایک پارٹی کیلئے تھی۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ لائن لمبی ہے، عمر عطا بندیال کے فیصلے بائسڈ تھے استعفوں کا سلسلہ ابھی رکے گا نہیں،  مزید ججز کے استعفیٰ متوقع ہیں۔

انہوں نے کہا کہ قانون سازی کا حق پارلیمنٹ کا ہے، ججز کی تعیناتی پارلیمنٹ کا حق ہے 
کیا نواز شریف کو حکومت سے نکالا جانا آئینی تھا۔

ملک احمد خان نے کہا کہ قانون سازی کرنے پر ویلڈن پارلیمنٹ، پارلیمنٹ کوووٹر کے پاس جانا پڑے گا،  یہ ممکن نہیں کہ آپ اپنی تقرری خود کریں، الجہاد ٹرسٹ کیس کے بعد کی ایک تاریخ ہے۔

پی ٹی آئی کا آئین کے ساتھ کبھی کوئی رشتہ نہیں رہا، ماضی میں عدالت کی منشا پر ترامیم کی گئیں، آئین کو اصل شکل میں بحال کیا جارہا ہے، پارلیمنٹ بتاتی ہے کہ ججز کیسے ہونگے 
پارلیمنٹ ججز کو برتھ دیتی ہے۔

دنیا میں دیکھا جائے کہ ججز کی تعیناتی کیسے ہوتی ہے، 27ویں آئینی ترمیم پر ایک سیاسی جماعت سیاست کررہی ہے، کئی ججز تشریح کرتے کرتے آئین لکھنے بیٹھ گئے۔

قبل ازیں انہوں نے علامہ اقبال میڈیکل کالج کی کانووکیشن سے خطاب کرتے ہوئے کالج کی تاریخی اہمیت کو سراہا اور تمام گریجویٹس اور والدین کو مبارکباد پیش کی۔

انہوں نے کہا کہ کالج سے فارغ التحصیل ڈاکٹرز مختلف شعبوں میں نمایاں خدمات سرانجام دے رہے ہیں اور ہونہار ڈاکٹرز کی کامیابیاں قابل تحسین ہیں۔

ملک احمد خان نے کہا کہ صحت کے شعبے میں تحقیق اولین ترجیح ہونی چاہیے اور جدید دور میں روایتی علاج کی ضرورت کم ہوتی جا رہی ہے، لہٰذا تحقیق کے لیے سرمایہ کاری ضروری ہے۔

انہوں نے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کی دیہی علاقوں تک علاج معالجہ کی سہولتیں فراہم کرنے، تعلیم، صحت اور دیگر شعبوں میں محنت اور لگن کو سراہا۔

اسپیکر نے خاص طور پر کینسر جیسی موذی بیماریوں کے علاج کے لیے وزیراعلیٰ مریم نواز کی کوششوں کو قابل تعریف قرار دیا اور کہا کہ اس شعبے میں کیے گئے اقدامات معاشرے کے لیے مثالی ہیں۔

Tagsپاکستان.

ذریعہ

ذریعہ: Al Qamar Online

کلیدی لفظ: پاکستان پاکستان کھیل نے کہا کہ انہوں نے ججز کی

پڑھیں:

غزہ میں غذائی بحران مزید سنگین، 14 لاکھ افراد کے شدید غذائی قلت کا شکار ہونے کا خدشہ

غزہ میں انسانی بحران مزید شدت اختیار کرتا جا رہا ہے اور رواں سال دسمبر تک تقریباً 14 لاکھ افراد کو شدید غذائی قلت کا سامنا ہونے کا خدشہ ہے۔ یہ تعداد اپریل سے جون 2026 کے دوران 12 لاکھ تھی۔ یہ انکشاف انٹیگریٹڈ فوڈ سکیورٹی فیز کلاسیفیکیشن (IPC) کی تازہ رپورٹ میں کیا گیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق غزہ کی 67 فیصد آبادی شدید غذائی عدم تحفظ  کا شکار ہو سکتی ہے، جبکہ 2 لاکھ 12 ہزار افراد غذائی بحران کے انتہائی ہنگامی مرحلے میں زندگی گزار رہے ہیں۔

آئی پی سی کے مطابق گزشتہ سال اکتوبر میں ہونے والی جنگ بندی کے بعد امدادی سرگرمیوں میں اضافے سے حالات میں وقتی بہتری آئی تھی اور مئی کے دوران تقریباً 14 لاکھ 90 ہزار افراد تک غذائی امداد پہنچائی گئی۔ تاہم امداد کی مقدار ضرورت سے کہیں کم ہے، روزگار کے مواقع تقریباً ختم ہو چکے ہیں اور 83 فیصد خاندانوں کے پاس آمدنی کا کوئی مستقل ذریعہ موجود نہیں، جس کے باعث آبادی کی اکثریت مکمل طور پر امدادی سامان پر انحصار کرنے پر مجبور ہے۔

یہ بھی پڑھیے ایمنسٹی انٹرنیشنل کا نیتن یاہو کی گرفتاری کا مطالبہ، آئی سی سی میں مقدمہ چلانے پر زور

رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ اپریل 2027 تک 5 سال سے کم عمر 74 ہزار 200 بچے شدید غذائی قلت کا شکار ہو سکتے ہیں، جن میں 11 ہزار 432 بچوں کی حالت انتہائی تشویشناک ہونے کا خدشہ ہے اور انہیں فوری طبی و غذائی امداد درکار ہوگی۔

رپورٹ کے مطابق اس وقت غزہ میں ہر 5 میں سے صرف ایک بچے کو مناسب خوراک میسر ہے، جبکہ تقریباً نصف خاندانوں کو روزانہ فی فرد 15 لیٹر سے بھی کم پانی دستیاب ہے، جو عالمی انسانی معیار سے کہیں کم ہے۔

اسی طرح 24 ہزار 600 سے زائد حاملہ خواتین اور دودھ پلانے والی مائیں شدید غذائی قلت کا شکار ہیں اور انہیں فوری ہنگامی غذائی امداد کی ضرورت ہے۔

آئی پی سی کے مطابق جاری جنگ کے نتیجے میں غزہ کا بنیادی ڈھانچہ بھی بری طرح تباہ ہو چکا ہے۔ تقریباً 75 فیصد رہائشی مکانات مکمل یا جزوی طور پر تباہ ہو گئے ہیں، 70 فیصد سڑکیں ناقابل استعمال ہو چکی ہیں، 95 فیصد زرعی ڈھانچہ متاثر ہوا ہے، جبکہ 92 فیصد سے زائد کاروباری ادارے تباہ یا بند ہو چکے ہیں۔

رپورٹ میں ورلڈ بینک، یورپی یونین اور اقوام متحدہ کے مشترکہ تخمینے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ 7 اکتوبر 2023 سے جاری اسرائیلی فوجی کارروائیوں کے نتیجے میں غزہ میں 35.2 ارب ڈالر مالیت کا بنیادی ڈھانچہ تباہ ہو چکا ہے، 22.7 ارب ڈالر کا معاشی نقصان ہو چکا ہے، جبکہ غزہ کی بحالی اور تعمیرِ نو کے لیے کم از کم 71.4 ارب ڈالر درکار ہوں گے۔

آئی پی سی نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا ہے کہ غزہ تک انسانی امداد کی بلا رکاوٹ اور مسلسل رسائی یقینی بنائی جائے، غذائیت سے متعلق ہنگامی پروگراموں میں توسیع کی جائے اور مستقل جنگ بندی کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں تاکہ انسانی بحران مزید سنگین نہ ہو۔

رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ جنگ بندی کے باوجود اکتوبر 2025 سے فضائی حملوں، گولہ باری اور ڈرون حملوں کا سلسلہ جاری ہے، جبکہ معاہدے کے بعد بھی 900 سے زائد شہری جان کی بازی ہار چکے ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

غذائی قلت غزہ فلسطین

متعلقہ مضامین

  • اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کی ڈپٹی سیکرٹری وزارتِ خزانہ عائشہ جاوید کو بین الاقوامی اعزاز پر مبارکباد
  • اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کی ڈپٹی سیکرٹری وزارتِ خزانہ عائشہ جاوید کو عالمی اعزاز پر مبارکباد
  • میسی ارجنٹائن کے صدر بنیں گے؟ نئی پیشگوئی نے سب کو حیران کردیا
  • غزہ میں غذائی بحران مزید سنگین، 14 لاکھ افراد کے شدید غذائی قلت کا شکار ہونے کا خدشہ
  • بالآخر بنگلہ دیش کے صدر محمد شہاب الدین نے بھی مستعفی ہونے کا فیصلہ کرلیا
  • ملک کے مختلف علاقوں میں بارشوں کا سلسلہ جاری، پنجاب، خیبرپختونخوا اور کشمیر میں مزید بارش کی پیشگوئی
  • آج کہاں کہاں بادل برسیں گے ،محکمہ موسمیات نے بڑی پیشگوئی کردی
  • خیبر پختونخوا، گلگت بلتستان، پنجاب اور کشمیر میں تیز بارشوں کی پیشگوئی، لینڈ سلائیڈنگ کا خدشہ
  • ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل خیبر پختونخوا اپنے عہدے سے مستعفی
  • پنجاب کے وزیر تعلیم رانا سکندر حیات کا اسکولوں میں خود پڑھانے کا اعلان