ملک میں قومی کھیل ہاکی کے زوال کے باوجود یورپ میں پاکستان کے نام کی گونج
اشاعت کی تاریخ: 17th, August 2025 GMT
لاہور:
پاکستان کا قومی کھیل تو ان دنوں زوال کا شکار ہے لیکن ان دنوں بھی یورپ کے میدانوں میں پاکستان کا نام گونج رہا ہے۔
جرمنی کے شہر میوچن گلاڈباخ میں یورو ہاکی چیمپئن شپ میں ہال آف فیم ایوارڈ دینے کی تقریب ہوئی جس میں کھیل کے عظیم سفیر کے طورپر خدمات کے اعتراف اور پاکستان سے بے پناہ محبت پر جرمن ہاکی لیجنڈ اسٹفین بلوخر کو وائٹ پاکستانی (گورا پاکستانی) کہہ کرعزت دی گئی۔
اسٹیفن بلوخر کی پاکستان کے ساتھ گہری محبت اور لگاؤ ہے۔ اسٹیفن کو اپنے دور کا سب سے اسٹائلش ہاکی کھلاڑی سمجھا جاتا تھا۔ 1980 کی دہائی میں وہ عالمی ہاکی کے سب سے زیادہ پُرکشش اور دلکش اسٹار کے طور پر پہچانے جاتے تھے۔
لاہور کی تاریخی مال روڈ پر موٹر بائیک پر ان کی سواری کی یادیں آج بھی بہت سے لوگوں کے دلوں میں تازہ ہیں۔ گزشتہ برسوں میں اسٹیفن نے کئی مرتبہ دورہ پاکستان میں جرمنی اور پاکستان کی ہاکی کے درمیان ایک پل کا کردار ادا کیا۔
اسٹفین بلوخر نے 21 سال کے طویل وقفے کے بعد جرمن کلب کے ساتھ جرمن جونیئر ہاکی ٹیم کو بھی پاکستان لانے میں کامیابی حاصل کی۔ یہ بین الاقوامی ہاکی تعلقات کو دوبارہ زندہ کرنے میں ایک شاندار کارنامہ ہے۔
یورو ہاکی چیمپئن شپ کے فائنل پر اسٹیفن بلوخر کی شاندار کارکردگی اور کھیل کے عظیم سفیر کے طور پر خدمات کے اعتراف میں انہیں ہال آف فیم میں شامل کیا گیا۔ اسٹیفن بلوخر نے 1978 سے 1992 تک 259 ہاکی میچوں میں جرمنی کی نمائندگی کی اور 129 گول کیے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
دوسرا ون ڈے: آسٹریلیا کا پاکستان کو جیت کیلئے 232 رنز کا ہدف
ایک روزہ سیریز کے دوسرے میچ میں آسٹریلیا نے پاکستان کو جیت کے لیے 232 رنز کا ہدف دے دیا۔
لاہور میں جاری میچ میں پاکستان کی دعوت پر پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے آسٹریلیا کی ٹیم مقررہ 50 اوورز میں 9 وکٹوں کے نقصان پر 231 رنز بنا سکی۔
آسٹریلیا کی جانب سے کیمرون گرین اور کپتان جوش انگلس 51 رنز بنا کر آؤٹ ہوئے۔ میٹ رینشا 43، اولیور پیک 31، میتھیو شارٹ 15، مارنس لبوشین 5، میتھیو کوہنمن 5 اور ایلکس کیرے 0 کے انفرادی اسکور پر آؤٹ ہوئے۔
پاکستان کی جانب سے کپتان شاہین شاہ آفریدی نے 3 جبکہ عرفات منہاس، ابرار احمد اور حارث رؤف نے 2، 2 کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا۔