وزیراعظم کی خصوصی ہدایت پر سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں اضافی امدادی سامان کی ترسیل
اشاعت کی تاریخ: 17th, August 2025 GMT
وزیراعظم شہباز شریف کی خصوصی ہدایت پر سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں اضافی امدادی سامان کی ترسیل جاری ہے جب کہ وزیر اعظم کی ہدایت پر وفاقی وزراء خیبر پختونخوا کے سیلاب سے متاثرہ اضلاع میں ریلیف آپریشنز میں حصہ لیں گے۔
وزیراعظم کی ہدایت پر وفاقی وزیر امور کشمیر و گلگت بلتستان انجینئر امیر مقام ضلع شانگلہ و بونیر، وفاقی وزیر پاور ڈویژن ضلع بونیر، وفاقی وزیر مذہبی امور سردار یوسف ضلع مانسہرہ اور وزیر اعظم کے معاون خصوصی مبارک زیب ضلع باجوڑ میں امدادی سامان کی سیلاب متاثرین تقسیم کی نگرانی کریں گے۔
کل بھی، وفاقی وزیر کشمیر و گلت بلتستان انجینئر امیر مقام نے وزیراعظم کی خصوصی ہدایت پر پورا دن کے پی میں سیلاب متاثرہ علاقوں میں گزارا اور امدادی سرگرمیوں کی نگرانی کی اور امدادی سامان کی ترسیل کا خود جائزہ لیا۔
وزیراعظم کی ہدایت پر این ڈی ایم اے سیلاب سے متاثرہ تمام اضلاع میں ریلیف آپریشن کر رہا ہے، پاک فوج سمیت دیگر تمام خدماتی ادارے اور این جی اوز بھی ریلیف کے کاموں میں بھرپور حصہ لے رہے ہیں۔
وزیراعظم صوبہ خیبر پختونخوا کے سیلاب متاثرہ تمام اضلاع میں این ڈی ایم اے کی امدادی کاروائیوں کی خود نگرانی کر رہے ہیں، پی ایم ریلیف پیکج کے تحت امدادی سامان پر مشتمل مزید ٹرک متاثرہ اضلاع میں بھیجے جا رہے ہیں۔
امدادی سامان میں راشن، خیمے اور ادویات شامل ہیں.
وزیراعظم نے چیئرمین این ڈی ایم اے کو خیبر پختونخوا ، گلگت بلتستان اور آزاد جموں و کشمیر کے ڈیزاسٹر مینجمنٹ کے اداروں سے مسلسل رابطے میں رہنے اور امدادی سرگرمیوں کو مزید مربوط بنانے کی ہدایت کی۔
وزیرِ اعظم نے این ڈی ایم اے کو صوبائی حکومتوں بشمول پی ڈی ایم ایز/جی بی ڈی ایم اے کے ساتھ مل کر متاثرہ علاقوں میں امداد کے حوالے سے ترجیحی فہرست کو حتمی شکل دینے کی ہدایت کی۔
وزیراعظم نے کہا کہ مشکل کی اس گھڑی میں سیلاب متاثرین کے ساتھ کھڑے ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: متاثرہ علاقوں میں سیلاب سے متاثرہ امدادی سامان کی ڈی ایم اے وزیراعظم کی وفاقی وزیر اضلاع میں کی ہدایت ہدایت پر
پڑھیں:
وفاقی آئینی عدالت: پولٹری فیڈ ملز سے 4 فیصد اضافی ٹیکس کی وصولی غیرقانونی قرار
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) بجٹ سے چند روز قبل ہی آئینی عدالت سے حکومت کو ریونیو کی مد میں بڑا جھٹکا، وفاقی آئینی عدالت نے پولٹری فیڈ ملز سے 4 فیصد اضافی ٹیکس کی وصولی غیرقانونی قرار دے دی۔
نجی وی چینل دنیا نیوز کے مطابق وفاقی آئینی عدالت نے غیر رجسٹرڈ پولٹری فارمز کو فیڈ سپلائی کرنے سے متعلق اہم فیصلہ جاری کر دیا۔ جسٹس عامر فاروق کی سربراہی میں دو رکنی بنچ نے فیصلہ جاری کیا۔
وفاقی آئینی عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ ٹیکس قانون کے سیکشن 31 اے میں ابہام ہے، حکومت نے غیررجسٹرڈ پولٹری فارمز کو فیڈسپلائی کرنے پر مل مالکان پر اضافی ٹیکس عائد کیا، اضافی ٹیکس سال 2024 کے فنانس ایکٹ کی مد میں وصول کیا جا رہا تھا۔
لاہور ائیرپورٹ اغواء کیس کا ڈراپ سین، غیرملکی خاتون دوست کے ساتھ رضامندی سے گئی
فیصلے میں کہا گیا کہ قانون کے مطابق پولٹری فارمز کو ٹیکس سے مستثنیٰ قرار دیا گیا ہے، قانون کے مطابق استثنی ملنے پر پولٹری فارمز رجسٹریشن کے پابند نہیں ہیں، قانون غیررجسٹرڈ پولٹری فارمز کو مکمل تحفظ فراہم کرتا ہے۔
وفاقی آئینی عدالت نے فیصلے میں مزید لکھا کہ رجسٹریشن کی قانونی پابندی نہ ہونے پر پولٹری فارمز اور فیڈ ملز کو سزا نہیں دی جا سکتی۔
وفاقی آئینی عدالت نے لاہور ہائیکورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا۔ لاہور ہائیکورٹ نے پولٹری فیڈ ملز سے 4 فیصد اضافی ٹیکس کی وصولی کو درست قرار دیا تھا۔ پولٹری فیڈ ملز مالکان نے اضافی ٹیکس کی وصولی کیخلاف عدالت سے رجوع کیا تھا۔
ڈیل مکمل جھوٹ ہے ، پی ٹی آئی کوئی ڈیل نہیں کررہی، عمران خان کو خاموش کروانے کے لیے قید تنہائی میں رکھاگیا ہے،علیمہ خان
مزید :