Islam Times:
2026-06-03@07:50:52 GMT

زوال قریب ہے

اشاعت کی تاریخ: 17th, August 2025 GMT

زوال قریب ہے

اسلام ٹائمز: صیہونی اخبار مارکر نتیجہ گیری کرتے ہوئے لکھتا ہے کہ صیہونی رژیم پر تباہ کن دباو پایا جاتا ہے جس میں ہاوسنگ مارکیٹ کا بحران، سرمایہ کاروں میں اعتماد کا فقدان، احتجاجی مظاہرے اور عوامی اعتراضات، کریڈٹ ریٹنگ میں کمی، سرمایہ کاری کم ہو جانا، ماہرین خاص طور پر ٹیکنالوجی کے شعبے میں ماہرین کا ترک وطن کر جانا اور آخرکار بین الاقوامی سطح پر گوشہ نشینی کا شکار ہو جانا شامل ہے۔ ان تمام مسائل کے ساتھ ساتھ صیہونی حکمران اس وقت مختلف ممالک کی جانب سے پابندیوں کے خطرے سے بھی روبرو ہیں۔ لہذا اس اخبار کے مطابق 23 اقتصادی ماہرین کی جانب سے شائع ہونے والا یہ خط درحقیقت غاصب صیہونی رژیم کے لیے آخری وارننگ کی حیثیت رکھتا ہے۔ تحریر: علی احمدی
 
حال ہی میں امریکی اور یورپی یونیورسٹیوں کے 23 ماہرین اقتصاد نے جن میں 10 نوبل انعام حاصل کرنے والے ماہرین بھی شامل ہیں، ایک کھلا خط لکھا ہے اور غاصب صیہونی رژیم کو خبردار کیا ہے کہ غزہ سے متعلق صیہونی حکمرانوں نے جو پالیسی اختیار کر رکھی ہے وہ اسرائیلی معیشت کو تباہی کے دہانے پر لے آئی ہے۔ ان ماہرین نے اس بات پر زور دیا ہے کہ اگر موجودہ صورتحال جاری رہی تو اسرائیل ایک بڑی اقتصادی تباہی کا شکار ہو جائے گا۔ ان اقتصادی ماہرین نے صیہونی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو کے نام اپنے اس کھلے خط میں خبردار کیا ہے کہ غزہ سے متعلق موجودہ پالیسیاں جاری رکھے جانے کی صورت میں اس کے تباہ کن معیشتی اثرات ظاہر ہوں گے۔ اسرائیلی اخبار "مارکر" نے یہ خط شائع کیا ہے اور اسے "اب تک کا سخت ترین" خط قرار دیا ہے۔
 
اس خط میں دنیا کے نامور اقتصادی ماہرین نے بنجمن نیتن یاہو کی سربراہی میں صیہونی رژیم کی موجودہ کابینہ کو وارننگ دی ہے کہ اگر انہوں نے غزہ کے عوام کو بھوکا رکھنے کی حکمت عملی جاری رکھی تو اسرائیل کو اس کا بھاری اقتصادی تاوان ادا کرنا پڑے گا۔ ان ماہرین اقتصاد نے اس بات پر زور دیا ہے کہ درپیش خطرات صرف عارضی دباو کی حد تک نہیں ہیں بلکہ وہ اسرائیلی معیشت کی بنیادوں کو تباہ کر سکتے ہیں۔
اعتماد کا خاتمہ اور ہاوسنگ مارکیٹ کا بحران
صیہونی اخبار مارکر مزید وضاحت دیتے ہوئے لکھتا ہے کہ ان اقتصادی ماہرین کی وارننگ بے بنیاد نہیں ہے اور ابھی سے اسرائیلی معیشت کے اندر تشویش ناک اثرات اور علامات ظاہر ہونا شروع ہو گئے ہیں۔ ان میں سے ایک اہم ترین علامت ہاوسنگ مارکیٹ ہے جو اس رژیم میں دسیوں قسم کی سرمایہ کاری کا بنیادی ستون سمجھی جاتی ہے۔
 
اکتوبر 2023ء سے اب تک سرمایہ کاروں کی وسیع تعداد اسرائیل سے فرار کر چکی ہے اور اس طرح ہاوسنگ مارکیٹ شدید مندی کا شکار ہو چکی ہے۔ بڑے بڑے سرمایہ کاروں نے اپارٹمنٹس خریدنا روک دیا ہے اور گذشتہ چھ مہینوں میں صرف تل ابیب میں دسیوں ہزار اپارٹمنٹس بیچی جا چکی ہیں۔ اس رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ مقبوضہ فلسطین میں سرمایہ کار اس وقت یہ سوچ رہے ہیں کہ آئندہ ایک عشرے تک اپارٹمنٹس کی قیمتیں گرتی جائیں گی اور یہی سوچ اس بات کا باعث بنی ہے کہ وہ اربوں شیکل ہاوسنگ مارکیٹ سے نکال کر اسٹاک مارکیٹ میں منتقل کر رہے ہیں۔ سرمایہ کاروں کا یہ اقدام درحقیقت اسرائیلی معیشت کے مستقبل پر ان کا گہرا عدم اعتماد ظاہر کرتا ہے اور وہ حکومت کو معیشت مستحکم رکھنے میں کمزور محسوس کر رہے ہیں۔
 
عالمی سطح پر گوشہ نشینی اور پابندیوں کا خطرہ
اقتصادی ماہرین کے اس خط میں اندرونی بحرانوں کے ساتھ ساتھ بیرونی مشکلات کی جانب بھی اشارہ کیا گیا ہے۔ ماہرین اقتصاد نے نیتن یاہو کو خبردار کیا ہے کہ مغربی ممالک ممکن ہے اسرائیلی حکام کے خلاف اپنے طور پر اقدامات انجام دینا شروع کر دیں۔ یہ اقدامات یورپی ممالک، کینیڈا اور آسٹریلیا میں صیہونی حکمرانوں کے بین اکاونٹس بند کرنے نیز ان کے اموال ضبط کرنے پر مشتمل ہو سکتے ہیں۔ خط لکھنے والے ایک ماہر اقتصاد نے خبردار کرتے ہوئے کہا: "اگر اسرائیلی پالیسی سازوں پر براہ راست مقدمہ نہ چلایا گیا تو اسرائیلی شہریوں کی آئندہ نسلوں کو موجودہ پالیسیوں کی بھاری قیمت چکانی پڑ جائے گی۔" صیہونی اخبار مارکر لکھتا ہے کہ صیہونی رژیم نے غزہ میں جو جنگ شروع کر رکھی ہے اس نے اسرائیلی معاشرے کے اعتماد کے ساتھ ساتھ اقتصادی ڈھانچے کو بھی شدید نقصان پہنچایا ہے۔
 
سیاہ مستقبل اور آخری وارننگ
صیہونی اخبار مارکر نتیجہ گیری کرتے ہوئے لکھتا ہے کہ صیہونی رژیم پر تباہ کن دباو پایا جاتا ہے جس میں ہاوسنگ مارکیٹ کا بحران، سرمایہ کاروں میں اعتماد کا فقدان، احتجاجی مظاہرے اور عوامی اعتراضات، کریڈٹ ریٹنگ میں کمی، سرمایہ کاری کم ہو جانا، ماہرین خاص طور پر ٹیکنالوجی کے شعبے میں ماہرین کا ترک وطن کر جانا اور آخرکار بین الاقوامی سطح پر گوشہ نشینی کا شکار ہو جانا شامل ہے۔ ان تمام مسائل کے ساتھ ساتھ صیہونی حکمران اس وقت مختلف ممالک کی جانب سے پابندیوں کے خطرے سے بھی روبرو ہیں۔ لہذا اس اخبار کے مطابق 23 اقتصادی ماہرین کی جانب سے شائع ہونے والا یہ خط درحقیقت غاصب صیہونی رژیم کے لیے آخری وارننگ کی حیثیت رکھتا ہے۔
 
مقبوضہ فلسطین میں نیتن یاہو کی پالیسیوں کے خلاف آئے دن عوامی مظاہرے اور احتجاج کا سلسلہ جاری رہتا ہے۔ وزیر جنگ یسرائیل کاتز اور وزیر تزویراتی امور ران کی رہائش گاہ کے قریب بھی عوامی مظاہرے انجام پاتے ہیں۔ غزہ میں حماس کے ہاتھوں قید اسرائیلی یرغمالیوں کے اہلخانہ اس احتجاج میں آگے آگے ہیں۔ نیتن یاہو کو خبردار کرنے والے اقتصادی ماہرین نے لکھا ہے کہ غزہ جنگ نہ صرف بھاری فوجی اخراجات کا باعث بن رہی ہے اور اس کے منفی سیاسی اثرات ظاہر ہو رہے ہیں بلکہ "عنقریب تباہ کن اقتصادی اور مالی بحران" سے بھی اس کا براہ راست تعلق ہے اور صیہونی رژیم کا پورا اقتصادی ڈھانچہ متاثر ہونے کا خطرہ ہے۔ یہ خطر لکھنے والے وہ اقتصادی ماہرین جو نوبل انعام یافتہ ہیں یہ ہیں: ڈارون عاصم اوگلو، اینگس ڈیٹن، پیٹر ڈائمنڈ، ایسٹر دوفلو، کلوڈیا گولڈن، ایرک میسکین، راجر مایرسن، ایڈمنڈ فیلپس، کرسٹوفر بساریڈس اور جوزف اسٹگلیٹر۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: صیہونی اخبار مارکر اقتصادی ماہرین اسرائیلی معیشت سرمایہ کاروں کے ساتھ ساتھ صیہونی رژیم کی جانب سے کا شکار ہو ماہرین نے نیتن یاہو تباہ کن ہو جانا رہے ہیں ہے اور کیا ہے دیا ہے

پڑھیں:

واشنگٹن مذاکرات کے بعد لبنان اور اسرائیل جامع معاہدے کے قریب؟ سفارتی پیشرفت کے باوجود بڑے چیلنجز برقرار

واشنگٹن میں ہونے والے حالیہ مذاکرات کے بعد لبنان اور اسرائیل کے درمیان ایک وسیع تر سیاسی و سیکیورٹی معاہدے کی امیدیں پیدا ہوئی ہیں، تاہم زمینی صورتحال اب بھی نازک ہے اور جنوبی لبنان میں جھڑپوں اور فضائی حملوں کا سلسلہ مکمل طور پر نہیں رک سکا۔ ان مذاکرات کا مقصد لبنان اور اسرائیل کے درمیان جاری جنگ بندی کو مضبوط بنانا، سرحدی سلامتی کے معاملات حل کرنا اور ایک ایسے فریم ورک پر اتفاق رائے پیدا کرنا ہے جو مستقبل میں ایک جامع سیاسی سمجھوتے کی بنیاد بن سکے۔

یہ بھی پڑھیں:لبنان جنگ بندی پراتفاق ہونے کے بعد امریکا، ایران مذاکرات دوبارہ تیز رفتاری سے شروع ہو گئے ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ کا اعلان

اس سلسلے میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ حزب اللہ اسرائیل کی جانب سے متبادل اقدامات کی صورت میں مکمل جنگ بندی کے لیے آمادہ ہے، کیونکہ لبنانی قیادت جزوی یا محدود سیز فائر کے بجائے ایک جامع اور مستقل معاہدے کی حامی ہے۔ یاد رہے کہ اپریل 2026 میں واشنگٹن میں اسرائیل اور لبنان کے درمیان کئی دہائیوں بعد براہِ راست مذاکرات کا آغاز ہوا تھا، جن میں سرحدی تنازعات، جنوبی لبنان کی سلامتی، جنگ بندی کے نفاذ اور طویل المدتی سیاسی انتظامات پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔

Day one of direct Israel–Lebanon talks in Washington, DC has concluded, US State Department spokesperson Tommy Pigott says, adding “progress continues” on political and security tracks, with another round scheduled for tomorrow.

???? LIVE coverage ⤵️ https://t.co/tsxQueIYdS

— Al Jazeera English (@AJEnglish) June 3, 2026

تاہم سفارتی پیشرفت کے باوجود زمینی حقائق اب بھی پیچیدہ ہیں۔ اسرائیل نے حالیہ دنوں میں جنوبی لبنان میں فضائی حملے جاری رکھے جبکہ حزب اللہ اور اسرائیلی افواج کے درمیان کشیدگی مکمل طور پر ختم نہیں ہوئی، یہی وجہ ہے کہ مذاکراتی عمل کو ابھی حتمی کامیابی قرار نہیں دیا جا رہا۔ اگرچہ امریکی قیادت کی جانب سے یہ دعویٰ بھی سامنے آیا تھا کہ اسرائیل اور حزب اللہ نے فائرنگ روکنے پر اتفاق کر لیا ہے، تاہم بعد میں دونوں جانب سے متضاد بیانات اور بعض مقامات پر جھڑپوں کی اطلاعات سامنے آئیں، جس سے واضح ہوا کہ مستقل امن کے لیے مزید مذاکرات درکار ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:اسرائیل کا لبنانی شہر ’صور‘ خالی کرنیکا حکم، شدید حملوں سے کشیدگی بڑھ گئی

اگر یہ مذاکرات کامیاب ہوتے ہیں تو ممکنہ معاہدے میں جنوبی لبنان سے اسرائیلی افواج کے مرحلہ وار انخلا، لبنانی فوج کی تعیناتی، سرحدی سلامتی کے نئے انتظامات اور اقوام متحدہ کی قرارداد 1701 پر عمل درآمد جیسے نکات شامل ہو سکتے ہیں۔ تاہم حزب اللہ کے اسلحے اور اس کے مستقبل کے کردار کا معاملہ اب بھی سب سے بڑا اختلافی نکتہ تصور کیا جا رہا ہے۔ مجموعی طور پر واشنگٹن مذاکرات مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے خاتمے کی جانب ایک اہم قدم ضرور ہیں، لیکن لبنان، اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان دیرپا امن کے لیے ابھی کئی سیاسی اور سیکیورٹی رکاوٹیں عبور کرنا باقی ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

اسرائیل امریکا لبنان واشنگٹن

متعلقہ مضامین

  • کینیڈا کے کثیر القومی کلچر کو بھارتی ڈانس کلچر کی یلغار کا سامنا، سماجی ماہرین نے خبردار کر دیا
  • کیا آپ بھی رات دیر تک جاگتے ہیں؟ ماہرین نے سنگین خطرات سے خبردار کردیا
  • واشنگٹن مذاکرات کے بعد لبنان اور اسرائیل جامع معاہدے کے قریب؟ سفارتی پیشرفت کے باوجود بڑے چیلنجز برقرار
  • میٹا اے آئی سمیت چیٹ بوٹس کے ذریعے سوشل میڈیا اکاؤنٹس ہیک ہونے کا خطرہ، ماہرین کی وارننگ
  • سینٹ پیٹرزبرگ انٹرنیشنل اکنامک فورم، پاکستانی اعلیٰ سطحی وفد شرکت کریگا
  • بحرین میں اہل تشیع سے امتیازی سلوک
  • ماہرین فلکیات نے مقناطیسی میدان رکھنے والے سیاروں کا سراغ لگا لیا
  • وفاقی بجٹ کی تاریخ تبدیل، 5 جون کو پیش نہیں ہو گا
  • اوباڑو : تیز آندھی اور بارش کے باعث مختلف حادثات میں 50 کے قریب افراد زخمی
  • وفاقی بجٹ 5 جون کو پیش نہیں کیا جائیگا