ایران: جالوت کے مقابلے میں داؤد (ع)
اشاعت کی تاریخ: 15th, August 2025 GMT
اسلام ٹائمز: ایلکس ویٹینکا اپنے تجزیے میں سوال اٹھاتے ہیں کہ کیا گولیتھ یا جالوت جیسی مستکبر قوت امن کے عمل میں شراکت دار ہوسکتی ہے؟ سات اکتوبر کے بعد اسرائیل کی فوجی مہمات جو غزہ، لبنان، شام اور یمن تک پھیلی ہوئی ہیں، انہوں نے ایران پر اسرائیل کے براہ راست حملے نے بہت سے خلیجی حکام کو اس نتیجے پر پہنچایا ہے کہ اسرائیل اب محض ”ڈیٹرنس“ نہیں، بلکہ غلبہ حاصل کرنا چاہتا ہے۔ ان کے خیال میں اسرائیل نے مشرق وسطیٰ کی صورت حال کو دیکھتے ہوئے علاقائی نظام کو الٹانے کے لیے اپنی فوجی طاقت کا استعمال کیا ہے۔ تحریر: پروفیسر سید تنویر حیدر نقوی
اسرائیل کی جارحانہ پالیسیاں ایسی ہیں جس سے صرف نظر وہی کر سکتا ہے جو اس کے جرائم میں اس کا برابر کا شریک ہو۔ عرب ممالک کو یہ زعم تھا کہ اگر ہم اسرائیل کی جارحیتوں کو پس پشت ڈالیں گے تو اسے کے صلے میں اسرائیل کو ہماری آمریتوں سے کوئی پرخاش نہیں ہوگی۔ اسرائیل جس طرح روز بروز اپنے ارادوں کو مہمیز دے رہا ہے اسے دیکھ کر اب اکثر عرب ممالک گبھرائے ہوئے ہیں۔ ”مڈل ایسٹ انسٹیٹیوٹ ان واشنگٹن ڈی سی“ کے ایک سینئر فیلو ”ایلکس ویٹینکا“ (Alex Vatanka) نے اپنے ایک تازہ ترین تجزیے میں اسرائیل کی خواہشات کا رخ دیکھتے ہوئے عرب ممالک کی بدلتی ہوئی ترجیحات پر ماہرانہ انداز میں روشنی ڈالی ہے۔
اپنے آرٹیکل میں ایلکس رقم طراز ہیں کہ ٹرمپ انتظامیہ اگرچہ ”ابراہم معاہدے“ کو مشرق وسطیٰ، قفقاز اور وسطی ایشیا میں وسعت دینے پر زور دے رہی ہے لیکن یہ انتظامیہ عرب اور مسلم دنیا کے تاثرات میں پیدا ہونے والی ڈرامائی تبدیلی کو نظر انداز کر رہی ہے۔ جہاں کبھی اسرائیل کو یہودیوں کے بقول اس ”ڈیوڈ“ (حضرت داؤدؑ)کے طور پر دیکھا جاتا تھا جو گولیتھ (جالوت) جیسی عرب دنیا سے لڑ رہا تھا، آج خود یہ دونوں کردار الٹ نظر آتے ہیں۔ بے قابو فوجی طاقت اور غیر متزلزل امریکی حمایت سے اسرائیل کو نہ صرف ایک علاقائی طاقت کے طور پر بلکہ امریکی حمایت یافتہ علاقائی تسلط پسند طاقت کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔ خلیجی عرب ریاستوں کے لیے نئے منظر نامے میں یہ اچانک تبدیلی ایک مخمصے کے طور پر دیکھی جاتی ہے۔
ایلکس ویٹینکا اپنے تجزیے میں سوال اٹھاتے ہیں کہ کیا گولیتھ یا جالوت جیسی مستکبر قوت امن کے عمل میں شراکت دار ہوسکتی ہے؟ سات اکتوبر کے بعد اسرائیل کی فوجی مہمات جو غزہ، لبنان، شام اور یمن تک پھیلی ہوئی ہیں، انہوں نے ایران پر اسرائیل کے براہ راست حملے نے بہت سے خلیجی حکام کو اس نتیجے پر پہنچایا ہے کہ اسرائیل اب محض ”ڈیٹرنس“ نہیں، بلکہ غلبہ حاصل کرنا چاہتا ہے۔ ان کے خیال میں اسرائیل نے مشرق وسطیٰ کی صورت حال کو دیکھتے ہوئے علاقائی نظام کو الٹانے کے لیے اپنی فوجی طاقت کا استعمال کیا ہے۔ اگر ابراہم معاہدہ، ایران اور اس کے "محور مزاحمت" کے خطرے کے خلاف ”اسٹیٹس کو“ کی حامی طاقتوں کے درمیان ایک متحدہ محاذ بنانے کے حوالے سے تھا، تو اس محاذ کے کلیدی کردار میں اب تغیر آ چکا ہے۔
ایران کے حوالے سے ایلیکس لکھتے ہیں کہ مڈل ایسٹ کے عرب ممالک کے لیے اب ایرانی خطرہ بہت کم ہوگیا ہے جب کہ اس کے مقابلے میں اسرائیل علاقائی استحکام کے لیے اپنا ایک نیا چیلنج پیش کر رہا ہے جو گذشتہ معاہدوں کے حوالے سے بنیادی سوالات اٹھا رہا ہے۔ اسرائیل کے جارحانہ اقدامات کا ذکر کرتے ہوئے ایلیکس مذید کہتے ہیں کہ اسرائیلی حکومت کے تشویش پر مبنی گذشتہ اقدامات، جن میں جولائی 2024ء کی کسی بھی مستقبل کی فلسطینی ریاست کو مسترد کرنے والی کنیسٹ کی قرارداد اور جولائی 2025ء میں دو ریاستی حل کے لیے سعودی فرانس تجویز کو مسترد کرنا شامل ہے جو اقوام متحدہ کی ایک کانفرنس سے سامنے آئی تھی، اسرائیل کے حوالے سے پائے جانے والے عرب دنیا کے نئے تاثر کو مضبوط کرتی ہے۔
غزہ جنگ شروع ہونے کے بعد سے 60,000 سے زیادہ فلسطینیوں کی ہلاکت، اور اسرائیل اور ایران کی 12 روزہ جنگ کے نتیجے میں یہ تاثر بڑھتا جا رہا ہے کہ اسرائیل نہ صرف اپنے دفاع کے لیے، بلکہ خطے کی تزویراتی تبدیلی کے سفر کو مزید آگے بڑھانے کے لیے طاقت کا استعمال کرنے کے لیے تیار ہے۔ یہ تبدیلی میدان جنگ کی تبدیلی سے بھی آگے ہے۔ امریکہ اور اقوام متحدہ دونوں کے بین الاقوامی دباؤ کو بغیر کسی نتیجے کے مسترد کرنے کی اسرائیل کی صلاحیت ایک گہری سیاسی تبدیلی کا اشارہ دیتی ہے۔ خلیجی مبصرین کا حوالہ دیتے ہوئے ایلکس کا کہنا ہے کہ واشنگٹن بھی اسرائیل کو دشمنی ختم کرنے، یرغمالیوں کی رہائی کو محفوظ بنانے یا ایران کے ساتھ کشیدگی سے بچنے کے لیے مجبور نہیں کر سکتا۔
جون 2025ء میں امریکی اعتراضات کے باوجود اسرائیل نے ایرانی سرزمین پر اپنا حملہ امریکہ اور ایران کے جوہری مذاکرات کا ایک نیا دور شروع ہونے سے چند دن پہلے شروع کیا تھا۔ اس کے بعد امریکہ نے جلتی پر تیل ڈالنے کے لیے اسرائیل کے ساتھ مل کر خود ایرانی جوہری تنصیبات پر حملہ کیا۔ ان واقعات نے امریکی ڈیٹرنس اور اسرائیلی تحمل کے بارے میں دیرینہ مفروضوں کو توڑ دیا۔ اس پس منظر میں خلیجی رہنما ”ابراہیم معاہدے“ کا از سر نو جائزہ لے رہے ہیں۔ اصل میں جو معاہدہ بظاہر امن اور استحکام کو فروغ دینے کے لیے ایک فریم ورک کے طور پر پیش کیا گیا، اب وہ سمجھوتہ اسرائیل کی علاقائی بالادستی کو قانونی حیثیت دینے کا وسیلہ بن گیا ہے۔ یہ خاص طور پر اس سعودی عرب کے لیے زیادہ تشویشناک ہے جس نے علامتی طور پر اسرائیلی پروازوں کے لیے اپنی فضائی حدود کھول کر اصل معاہدے کی حمایت کی تھی۔ آج ریاض جس دو ریاستی حل پر اصرار کرتا ہے اور جو معمول پر لانے کا واحد راستہ ہے، اسے بھی اسرائیل کھلے عام مسترد کرتا ہے۔
دریں اثنا ان کے خیال کے مطابق آذربائیجان اور قازقستان جیسی مسلم اکثریتی ریاستوں کو ابراہیم معاہدے میں شامل کرنے کی کوششیں امن کے نئے معاہدوں کے بارے میں کم اور امریکی قیادت کا اشارہ دینے اور ایران اور روس کے خلاف علاقائی صف بندی کو مضبوط کرنے کے بارے میں زیادہ ہیں۔ دونوں ممالک نے کئی دہائیوں سے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات برقرار رکھے ہوئے ہیں۔ لیکن ان کے اس عمل نے انہیں عوامی ردعمل سے محفوظ نہیں رکھا۔ آذربائیجان میں غزہ جنگ کے دوران مظاہروں نے فلسطینیوں کے لیے انصاف کی عدم موجودگی میں معمول پر آنے کی حدوں کو واضح کیا ہے۔ یہ 2020ء نہیں ہے۔ آج فلسطین کے حامی جذبات گہرے ہیں اور عرب اور مسلم معاشروں میں زیادہ پھیلے ہوئے ہیں۔
خلیجی ریاستوں کے لیے بنیادی تشویش یہ ہے کہ پیشگی طور پر اپنے دشمن پر حملہ کرنے والے اسرائیل کے "لمبے بازو “ اب خالصتاً دفاعی نہیں، بلکہ اب انہیں ایک حکمت عملی کے طور پر دیکھا جاتا ہے جس کا مقصد علاقائی ٹکڑے کرنا ہے۔ اس کا مطلب ملکوں کے نہ صرف فوجی انفراسٹرکچر پر بلکہ جیلوں اور نیم فوجی اڈوں پر بھی حملے ہیں اور اس کے ساتھ خوزستان، بلوچستان اور کرد علاقوں جیسے اقلیتی علاقوں میں بدامنی پھیلانے کی کوششیں ہیں۔ اسی طرح کا نمونہ شام میں پہلے ہی سامنے آچکا ہے، جہاں اسرائیل نے اقلیتوں کے تحفظ کے جھنڈے تلے ”دروز“ اکثریتی علاقوں میں کارروائیوں کو جائز قرار دیا ہے۔ خلیجی رہنماؤں کو خدشہ ہے کہ اگر یہ نظریہ معمول پر آ جاتا ہے، تو بالآخر اس کا اطلاق دیگر کمزور ریاستوں پر بھی ہو سکتا ہے۔ یہاں تک کہ خود عراق یا سعودی عرب پر بھی۔ یہ بڑھتا ہوا خوف کہ اسرائیل ایک علاقائی ”جالوت“ بن رہا ہے، مشکل سوالات کو جنم دیتا ہے۔
کیا عرب ریاستوں کو ایسے فریم ورک کی حمایت جاری رکھنی چاہیئے جو اسرائیل کو اس لائق بنائے یا پھر انہیں علاقائی ترجیحات کی عکاسی کے لیے کسی نئے معاہدے کا حصہ بننا چاہیئے؟ قطر اور عمان جیسی خلیجی ریاستیں پہلے ہی ایران اور مغرب کے درمیان ثالث کا کردار ادا کر چکی ہیں۔ سعودی عرب ایک محتاط درمیانی راستے پر گامزن ہیں جو ایران کے ساتھ تعلقات کو بحال کرتے ہوئے اسرائیل کے ساتھ راستے کھلے رکھنا اور اندرونی سطح پر ریاست کی تعمیر پر زور دینا چاہتا ہے۔ اس سارے منظر نامے میں عراق کو مستحکم کرنے، شام کے خاتمے کو روکنے اور یمن کے حوثیوں کو دوبارہ میز پر لانے کی کوششیں شامل ہیں۔ مقصد علاقائی توازن ہے، تسلط نہیں۔ 12 روزہ جنگ نے اس تبدیلی کو تقویت دی۔
ایرانی جوہری تنصیبات پر اسرائیل کے حملوں اور قطر میں العدید ایئر بیس پر ایران کے جوابی حملوں نے خلیجی ممالک کے امریکہ پر اعتماد کو متزلزل کر دیا ہے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی سعودی تیل کی اہم تنصیبات پر 2019ء کے حملوں کا جواب دینے میں ناکامی نے ان کی حالیہ ناکامی کے ساتھ مل کر، خلیجی بادشاہتوں کو سمجھا دیا ہے کہ امریکی ضمانتیں مشروط ہیں، اور یہ کہ اسرائیلی عسکریت پسندی ان کی دہلیز پر تباہی لا سکتی ہے۔ جب کہ دوسری طرف اس صورت حال میں ایران بھی ترقی کر رہا ہے۔ 12 روزہ جنگ کے بعد سے تہران نے اپنے قومی سلامتی کے آلات کی تنظیم نو کی ہے، صدر مسعود پیزشکیان اور علی لاریجانی جیسے مرکز پرستوں کی قیادت میں ایک نئی دفاعی کونسل تشکیل دی گئی ہے۔
ایران کے جنگ کے بعد کے پیغامات میں سفارت کاری پر زور دیا گیا ہے، جس میں پاکستان اور برکس کے رکن ممالک کی طرف اشارہ بھی شامل ہے۔ خلیجی حکام تیزی سے ایران کو ”گولیاتھ“ یا جالوت سے زیادہ ”ڈیوڈ“ یعنی داؤد (ع) جیسا سمجھتے ہیں۔ اس صورت حال میں خلیجی ریاستوں کو ایک قابل عمل علاقائی ترتیب پر دوبارہ غور کرنا چاہیئے۔ اسرائیل کے رویے میں تبدیلی کے بغیر ابراہیم معاہدے کو وسعت نہیں دی جا سکتی۔ امن غلبہ سے نہیں بلکہ تعاون سے آئے گا۔ اس کے لیے اسرائیل کو خطے کے ایک شہری کی طرح کام کرنے کی ضرورت ہے، نہ کہ قابض طاقت کی طرح۔ حقیقت پسندی یہی ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: میں اسرائیل کے حوالے سے پر اسرائیل اسرائیل کے اسرائیل کو کہ اسرائیل اسرائیل کی اسرائیل نے عرب ممالک کے طور پر صورت حال کی حمایت ایران کے کے ساتھ کے بعد رہا ہے ہیں کہ کے لیے جنگ کے اور اس
پڑھیں:
قابلِ فخر سعد ایدھی
کراچی ایئرپورٹ پر 23 ء مئی کو ایک ہجوم جمع تھا۔ اس ہجوم کے شرکاء جس میں مرد ، عورتیں، جوان اور بچے شامل تھے، سعد ایدھی کے استقبال کے لیے دور دراز علاقوں سے ایئرپورٹ پہنچے تھے۔ اس ہجوم میں فیصل ایدھی اور ان کی اہلیہ بھی شامل تھیں جو اپنے بیٹے کے استقبال کے لیے آئی تھیں۔ا ن کے ساتھ سعد ایدھی کی اہلیہ بھی تھی جن کی گود میں تین ماہ کی بچی بھی تھی۔ فیصل اپنے والد عبدالستار ایدھی کی روایت کے امین ہیں۔ عبدالستار ایدھی نے بہادری کے ساتھ انسانوں کی مدد کرنے کی زندہ مثالیں قائم کی تھیں۔ فیصل کو فخر ہے کہ ان کا بیٹا ان کے والد کے راستے پر گامزن ہے۔
سعد ایدھی اسرائیل کے کنسرٹیشن کیمپ سے رہا ہو کر ترکیہ پہنچے تھے تو استنبول سے کراچی آرہے تھے۔ سعد ایدھی نے جب فلوٹیلا میں سفر کر کے اسرائیل کا محاصرہ توڑ کر غزہ جانے کا فیصلہ کیا تھا تو ایدھی خاندان کے لیے ایک بری خبر تھی اور اس خبر کا ایک واضح پس منظر تھا۔ چند ماہ قبل ایک اور فلوٹیلا میں سوار ہو کر 430 کے قریب رضاکار غزہ روانہ ہوئے تھے تو اسرائیل کی نیوی نے بین الاقوامی سمندر میں فلوٹیلا پر فائرنگ کی تھی اور توپوں کے گولے پھینکے تھے۔
اسرائیلی فوجوں نے اس فلوٹیلا کے قافلے میں سوار افراد کو گرفتار کر کے بیہمانہ تشدد کا نشانہ بنایا تھا اور عام خیال تھا کہ اس دفعہ اسرائیل کی نیوی فلسطینی شہریوں سے یکجہتی کے لیے آنے والے افراد کو ہلاک کرنے سے گریز نہیں کرے گی۔ ایدھی خاندان کی خواتین سخت پریشان تھیں مگر سعد ایدھی کے والد فیصل ایدھی نے اپنے بیٹے کو اس خطرناک مشن پر جانے سے نہیں روکا تھا، یوں سعد کا حوصلہ بہت بلند ہوگیا تھا۔
غزہ کا علاقہ فلسطین میں شامل ہے۔ فلسطین کے دو حصے دریائے اردن کے مغربی کنارے سے متصل ہیں۔ غزہ کی سرحد ایک طرف مصر سے ملتی ہے تو جنوبی مغرب میں اسرائیل ہے اور مشرق اور جنوب میں بحیرہ روم واقع ہے۔ بحیرہ روم جس کو انگریزی میں Mediterraneen Sea کہا جاتا ہے، یہ افریقہ، یورپ اور ایشیا کے درمیان سمندر ہے جو تقریباً چاروں طرف سے زمین پر بھی گھرا ہوا ہے۔
یہ صرف وہاں سے کھلا ہوا ہے جہاں اسپین اور فرانس آمنے سامنے ہیں اور درمیان میں چند کلومیٹر کا سمندر بحیرہ روم کے شمال میں یورپ، جنوب میں افریقہ اور مشرق میں ایشیا موجود ہے۔ بحیرہ روم 2.5 ملین مربع کلومیٹر پر پھیلا ہوا ہے۔ اسرائیل نے گزشتہ بہت برسوں سے فلسطین کے تمام علاقوں کا بحیرہ روم کے راستہ کا گھیراؤ کیا ہوا ہے۔ غزہ اور فلسطین کے دیگر علاقوںمیں آباد عرب باشندوں کو بحیرہ روم میں نقل و حمل کی اجازت نہیں ہے۔ فلسطین سے محبت کرنے والے سماجی کارکن جن میں یورپ، امریکا، ایشیا، افریقہ اور لاطینی امریکا کے ممالک کے شہری بھی شامل ہیں مسلسل کوشش کررہے ہیں کہ اسرائیل کی ناکہ بندی کو ختم کرایا جائے۔
ان کارکنوں نے فلوٹیلا میں شامل بہت سے چھوٹے جہازوں کا کاررواں کے ذریعے جس میں دنیا بھر کے سماجی و سیاسی کارکن، صحافی اور خواتین شامل ہیں نے غزہ کے ساحل پر پہنچنے کا طریقہ اپنایا ہوا ہے۔ یہ کارکن اپنے خرچہ پر ترکیہ میں جمع ہوتے ہیں اور پھر یہ قافلہ بحیر ئہ روم سے گزرتا ہوا غزہ کے قریب پہنچتا ہے۔ پہلے تو اسرائیلی فوجیں غزہ کے قریب فلوٹیلا سے جہازوں میں سوار افراد کو بندرگاہ سے ہی نکال دیتے تھے مگر وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اسرائیلی فوج کا رویہ غیر انسانی ہوتا گیا۔ سعد ایدھی ترکیہ کی بندرگاہ Marmaris Port سے روانہ ہوئے تھے۔ ابھی یہ قافلہ فلسطین اور اسرائیل سے بہت دور بین الاقوامی سمندر میں پہنچا تھا کہ اسرائیل کی گن بوٹس نے فلوٹیلا کے جہازوں پر مارٹر توپ کے گولے پھینکنے شروع کردیے۔ پھر ان فوجیوں نے ربڑ کی گولیاں چلانا شروع کردیں ۔
بین الاقوامی سمندر میں اسرائیل کی اس جارحیت کا کئی جواز نہیں تھا مگر پھر یہ فوجی چھوٹے جہازوں میں کود گئے اور فلوٹیلا کے جہازوں میں رضاکاروں کی کی آنکھوں میں پٹیاں باندھ دی گئیں اور جب یہ لوگ بندرگاہ پر پہنچے تو فلوٹیلا میں شامل 450 افراد کو جن میں بوڑھے، بچے اور خواتین بھی شامل تھے گھسیٹ گھسیٹ کر چھوٹی سی جیل میں دھکیل دیا گیا۔ سعد ایدھی نے کراچی میں بتایا کہ تمام لوگوں کو مسلسل مرغے بنا کر رکھا گیا۔ اسرائیلی فوجی ان رضاکاروں پر بندوق کے پٹ سے حملہ کرتے رہے اور خاص طور پر گھٹنوں اور پسلیوں کو نشانہ بنایا جاتا رہا۔ کئی افراد کی پسلیاں ٹوٹ گئیں۔
Global Sumud Flotilla کے منتظمین کا کہنا ہے کہ اسرائیل کے فوجیوں نے کم از کم 15 افراد کو جنسی بدسلوکی کا نشانہ بنایا۔ ان منتظمین کا یہ بھی کہنا ہے کہ اسرائیل کے فوجی دستے نے ایک جہاز کو کنسرٹیشن کیمپ میں تبدیل کیا اور اس جہاز کے گرد خاردار تار لگادیئے گئے۔ پھر اس عارضی جیل میں کم گنجائش کے باوجود 450کے قریب رضاکاروں کو رکھا گیا۔ آسٹریلین ڈاکٹر کا کہنا ہے کہ اسرائیلی فوجیوں نے جانوروں سے زیادہ بدتر سلوک کیا ۔ اٹلی کے ماہرمعاشیات نے اسرائیلی فوج کے بدترین سلوک کو بیان کرتے ہوئے کہا کہ انھیں 24 گھنٹوں کے دوران بار بار تشدد کا نشانہ بنایا گیا اور کئی دفعہ رضاکاروں کو زمین پر گھسیٹا گیا ، ان کی آنکھوں پر پٹیاں باندھی گئیں اور انھیں پینے کے لیے پانی تک نہیں دیا گیا۔
سعد ایدھی نے بتایا کہ دون دن کی قید کے دوران صرف ایک ایک بوتل پانی دیا گیا۔ پھر تقریباً ہر رضاکار کے گھٹنوں کو مجروح کرنے کی کوشش کی گئی۔ اسرائیل کے وزیر دفاع نے ایک رضا کار لڑکی کے بال کھینچے اور یہ وڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئی تو یورپ میں شدید احتجاج ہوا۔ فرانس کی حکومت نے اسرائیلی وزیر دفاع کا ویزا منسوخ کردیا۔ یورپی یونین کی ترجمان نے اسرائیل کے رضاکاروں پر تشدد کی شدید مذمت کی۔ برطانیہ، جرمنی، اسپین اور دنیا بھر کے دیگر ممالک نے مظلوم رضاکاروں کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا۔
اسرائیل کی حکومت کو اس بات کی توقع نہیں تھی کہ ایشیائی اور افریقی ممالک کے علاوہ برطانیہ ، فرانس اور جرمنی وغیرہ بھی اسرائیل کی انسان دشمن پالیسیوں کے خلاف اتنا سخت ردعمل ظاہر کریں گے۔اس فلوٹیلا کے 50 جہازوں میں زیادہ تعداد اسپین اور دیگر یورپی ممالک کے باشندوں کی تھی۔ یہ لوگ اسرائیل کے جرائم کو آشکار کرنے کے لیے فلوٹیلا کے جہازوں میں سوار ہوئے تھے۔
انھیں اگرچہ اپنے مشن کی کامیابی کی زیادہ امید نہیں تھی مگر انسانیت کی خاطر اور غزہ کے عوام کے ساتھ یکجہتی کے لیے یہ تمام افراد اس فلوٹیلا کا حصہ بنے تھے۔ اس فلوٹیلا میں شریک سماجی کارکنوں نے اسپین کی خانہ جنگی کی یاد تازہ کردی۔ جب اسپین کے فاشسٹ جنرل فرانکو کی حکومت کے خلاف جدوجہد کرنے والے اس بریگیڈ میں دنیا بھر کے ادیب، شاعر اور دانشور شامل ہوئے۔ انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیموں نے مطالبہ کیا ہے کہ فلوٹیلا کے رضاکاروں پر اسرائیلی فوج کے بیہمانہ سلوک کے خلاف عالمی عدالت انصاف فوری طور پر کارروائی کرے اور اسرائیل کے خلاف اقتصادی پابندیاں عائد کی جائیں۔
فلسطین کے لیے جدوجہد کرنے والے یہ مختلف ممالک کے کارکن صرف فلسطین کے عوام کے بنیادی حقوق کے تحفظ کے لیے جدوجہد کررہے ہیں۔ سعد ایدھی پر پوری قوم کو فخر ہے۔ سعد ایدھی اور دیگر انسانی حقوق کے کارکنوں نے جو جدوجہد کی ہے، وہ وقت جلد آئے گاجب اس جدوجہد کے مثبت نتائج برآمد ہونگے اور فلسطین ایک متحدہ ملک کے طور پر دنیا کے نقشہ پر ابھرے گا۔