پاکستانی طلبہ کے لیے بڑی خوشخبری: عمان کی حکومت نے مکمل فنڈڈ اسکالرشپ کا اعلان کر دیا
اشاعت کی تاریخ: 17th, August 2025 GMT
اگر آپ 23 سال یا اس سے کم عمر پاکستانی طالب علم ہیں اور اعلیٰ تعلیم کے خواب دیکھ رہے ہیں تو یہ موقع آپ کے لیے ہے! عمان کی حکومت نے کلچر اینڈ سائنٹیفک کوآپریشن پروگرام کے تحت پاکستانی نوجوانوں کے لیے مکمل فنڈڈ اسکالرشپ کا اعلان کیا ہے۔
یہ اسکالرشپ نہ صرف تعلیمی اخراجات کو مکمل طور پر کور کرے گی، بلکہ بین الاقوامی سطح پر تعلیمی معیار کے مطابق آپ کو عمان کی بہترین جامعات میں تعلیم حاصل کرنے کا موقع بھی فراہم کرے گی۔
کن مضامین میں تعلیم حاصل کی جا سکتی ہے؟
اس اسکالرشپ کے ذریعے منتخب امیدوار عمان کی سرفہرست یونیورسٹیوں میں جن شعبہ جات میں بیچلر کی سطح پر تعلیم حاصل کر سکیں گے،ان میںانجینئرنگ ، ہیومینٹیز،آئی ٹی ،سائنس اورمیڈیسن شامل ہیں
کون درخواست دے سکتا ہے؟
درخواست دہندگان کے لیے درج ذیل اہلیت کا معیار طے کیا گیا ہے
پاکستانی شہریت ہونی چاہیے
عمر 23 سال یا اس سے کم ہونی چاہیے
انٹرمیڈیٹ یا مساوی تعلیم (گریڈ 12) گزشتہ تین سال میں مکمل کی گئی ہو
طبی لحاظ سے فٹ ہوں
عمان کی وزارت تعلیم سے مساوات کا سرٹیفکیٹ حاصل کیا گیا ہو
درخواست کے لیے درکار دستاویزات
قابلِ قبول پاسپورٹ
تعلیمی اسناد (میٹرک و انٹر)
عمانی مساوات کا سرٹیفکیٹ
انگریزی زبان کی مہارت کا ثبوت (اگر دستیاب ہو)
درخواست دینے کا طریقہ اور احتیاطی تدابیر
تمام درخواستیں انگریزی زبان میں جمع کرانی ہوں گی
فائل اپ لوڈ کرتے وقت یہ بات ذہن میں رکھیں
PDF فائل کا سائز 2MB سے زیادہ نہ ہو
تصاویر کی فائل 1MB تک محدود ہو
فائل ناموں میں اسپیشل کیریکٹرز (جیسے % # وغیرہ) استعمال نہ کریں
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
مزدوروں کیلئے خوشخبری، کم از کم ماہانہ اجرت 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز
ویب ڈیسک :پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ڈیولپمنٹ اکنامکس نےآئندہ مالی سال کے لیے کم از کم ماہانہ اجرت 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی سفارش کردی۔
اس حوالے سے پائیڈ نے شواہد پر مبنی فریم ورک تجویز کردیا جس کے تحت مالی سال 2026-27 کے لیے قومی سطح پر کم از کم اجرت 45000 روپے ماہانہ مقرر کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔
پائیڈ نے موجودہ کم از کم اجرت 40000 روپے کے مقابلے آئندہ مالی سال کیلئے 12.5 فیصد اضافہ تجویز کیا ہے۔
پاکستان آسٹریلیا دوسرا ون ڈے، قذافی اسٹیڈیم میں سیکیورٹی و ٹریفک انتظامات مکمل
پائیڈ کی رپورٹ کے مطابق کم از کم اجرت کی پالیسی اب صرف لیبر ڈیپارٹمنٹ تک محدود معاملہ نہیں رہی بلکہ یہ گھریلو قوتِ خرید، غربت کے خدشات ، غیر رسمی روزگار، مقامی طلب، پیداواری ترغیبات اور مجموعی سماجی استحکام پر براہِ راست اثر انداز ہوتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں:نئی کاواساکی موٹرسائیکل نےدھوم مچا دی
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ مالی سال 2026 کے جولائی تا اپریل عرصے میں اوسط افراطِ زر 6.19 فیصد رہی اور اپریل 2026 میں سال بہ سال افراطِ زر 10.9 فیصد تک پہنچ گئی ہے۔
غیر ملکی خاتون کے مبینہ اغوا کیس میں نیا موڑ، پولیس تفتیش میں اہم انکشافات