سینیئر ایڈووکیٹ نے درخواست گزاروں کیطرف سے کہا کہ مودی حکومت نے دفعہ 370 کو رد کرنے کے جواز پر سماعت کے دوران مکمل ریاست کا درجہ بحال کرنے کے سلسلے میں اس عدالت کو یقین دہانی کرائی تھی۔ اسلام ٹائمز۔ سپریم کورٹ آف انڈیا نے جموں و کشمیر کے مکمل ریاست کا درجہ بحال کرنے کی درخواست پر مرکزی حکومت سے جواب طلب کیا۔ چیف جسٹس بی آر گوائی اور جسٹس کے ونود چندرن کی بنچ نے مرکز کی طرف سے پیش ہونے والے سالیسٹر جنرل تشار مہتا سے کہا کہ وہ اس معاملے میں ظہور احمد بٹ اور عرفان حفیظ لون کی درخواستوں پر آٹھ ہفتوں کے اندر اپنا موقف پیش کریں۔ بنچ کے سامنے تشار مہتا نے کہا کہ ریاستی درجہ بحال کرنے کا فیصلہ کرنے کے ضمن میں بہت سے حقائق پر غور کیا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے (حکومت) انتخابات کے بعد مکمل ریاست کا درجہ دینے کی یقین دہانی کرائی تھی لیکن ملک کے اس علاقے میں صورتحال کچھ عجیب ہے۔

اس پر سینیئر ایڈووکیٹ گوپال شنکر نارائنن نے درخواست گزاروں کی طرف سے کہا کہ مودی حکومت نے دفعہ 370 کو رد کرنے کے جواز پر سماعت کے دوران مکمل ریاست کا درجہ بحال کرنے کے سلسلے میں اس عدالت کو یقین دہانی کرائی تھی۔ اس یقین دہانی پر اب 21 ماہ گزر چکے ہیں۔ ان کی دلیل پر بنچ نے کہا کہ پہلگام (دہشت گردانہ حملہ) میں جو کچھ ہوا اسے آپ نظر انداز نہیں کر سکتے ہیں۔ پارلیمنٹ اور ایگزیکٹو کو ریاست کے درجہ کے بارے میں فیصلہ کرنا ہوگا۔ واضح رہے کہ 22 اپریل 2025ء کو دہشت گردوں کے ایک گروپ نے پہلگام میں 26 سیاحوں کو ان کا مذہب پوچھ کر قتل کر دیا تھا۔ جس کے بعد پاکستان میں دہشت گردوں نیٹ ورک کے خلاف "آپریشن سندور" کے تحت مسلح آپریشن کیا گیا تھا۔ اکتوبر 2024ء میں دائر درخواست میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ جموں و کشمیر کے ریاستی درجہ کو بروقت بحال نہ کرنا وفاقیت کے نظریے کی خلاف ورزی ہے جو آئین کے بنیادی ڈھانچے کا حصہ ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: مکمل ریاست کا درجہ درجہ بحال کرنے یقین دہانی کرنے کے کہا کہ

پڑھیں:

فلاحی ریاست کا درس دینے والے غریبوں کے وظیفے پر سیخ پا کیوں؟ سعدیہ جاوید

ترجمان سندھ حکومت سعدیہ جاوید(فائل فوٹو)۔

ترجمان سندھ حکومت سعدیہ جاوید نے امیر جماعتِ اسلامی حافظ نعیم الرحمٰن کے بیان پر ردِعمل دے دیا۔

ایک بیان میں سعدیہ جاوید کا کہنا ہے کہ فلاحی ریاست کا درس دینے والے آج غریبوں کے وظیفے پر سیخ پا کیوں ہیں؟ 

ترجمان سندھ حکومت نے کہا کہ حافظ نعیم الرحمٰن کا بیان ان کی سطحی اور غریب دشمن سوچ کا عکاس ہے۔ بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کو فراڈ قرار دینا لاکھوں مستحق خاندانوں کی توہین کے مترادف ہے۔

متعلقہ مضامین

  • سپریم کورٹ نے نشے کی حالت کو بنیاد بناکر مجرم کی سزائے موت عمر قید میں تبدیل کرنے کی درخواست مسترد کر دی
  • فلاحی ریاست کا درس دینے والے غریبوں کے وظیفے پر سیخ پا کیوں؟ سعدیہ جاوید
  • بی ایم ڈبلیو سے 5 لاکھ جرمانہ وصولی، ڈی ایچ اے ویجیلینس سے جواب طلب
  • سپریم کورٹ: اے پی ایس شہداء لواحقین کو پیکیج نہ ملنے پر وفاقی حکومت سے جواب طلب
  • سپریم کورٹ: 5 سالہ بچی سے زیادتی و قتل کے مجرم کی سزائے موت برقرار، فیصلہ سنا دیا گیا
  • میاں بیوی کو تین سالہ بچی سمیت اٹھانے کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست ، لاہور ہائیکورٹ کی متعلقہ عدالت سے رجوع کرنے کی ہدایت
  • سپریم کورٹ؛ اے این ایف اہلکار کے چرس پینے سے متعلق جواب پر جج کے دلچسپ ریمارکس پر قہقہے
  • کمسن بچی کے قتل کیس میں مجرم کی اپیل مسترد، سزائے موت برقرار
  • اے پی ایس شہدا کے لواحقین کو معاوضہ پیکج کی عدم ادائیگی، سپریم کورٹ نے وفاقی حکومت سے جواب طلب کرلیا
  • زیر التوا مقدمات کو جلد نمٹانے کے لیے سپریم کورٹ کا بڑا انتظامی فیصلہ