ٹک ٹاک پر جوئے کی ترغیب دینے پر ڈکی بھائی لاہور ایئرپورٹ سے زیر حراست
اشاعت کی تاریخ: 17th, August 2025 GMT
معروف ٹک ٹاکر سعدالرحمٰن عرف ڈکی بھائی کو لاہور ائیرپورٹ سے حراست میں لے لیا گیا۔
نجی ٹی وی کے مطابق ذرائع نے بتایا ہے کہ ٹک ٹاکر ڈکی بھائی کو سوشل میڈیا پر جوئے کی ترغیب دینے اور فحش مواد پھیلانے کے الزام میں حراست میں لیا گیا۔
ذرائع کے مطابق ڈکی بھائی کو دبئی سے لاہور ائیر پورٹ پہنچنے پر حراست میں لیا گیا۔
ٹک ٹاکر نے اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر جوئے کی ایپلی کیشن سمیت فحش مواد اپ لوڈ کیا تھا، ڈکی بھائی کو نیشنل کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی نے حراست میں لیا ہے۔
یاد رہے کہ اس سے قبل اپریل کے مہینے میں ڈکی بھائی کیخلاف دوران ڈرائیونگ خطرناک اسٹنٹ کرنے پر مقدمات درج کیے گئے تھے۔
لاہور ہائی کورٹ نے یوٹیوبر سعدالرحمٰن المعروف ڈکی بھائی کی خطرناک ڈرائیونگ اسسٹنٹ کیس میں ضمانت منظور کرتے ہوئے پولیس کو گرفتاری سے روک دیا تھا۔
ڈکی بھائی نے اپنے خلاف موٹروے پولیس کی جانب سے دو مقدمات دائر کیے جانے کے بعد لاہور ہائی کورٹ میں درخواست ضمانت دائر کی تھی۔
جسٹس شہباز رضوی نے یوٹیوبر کی درخواست پر سماعت کی تھی، ڈکی بھائی خود پیش ہوئے تھے۔
عدالت نے ان کی درخواست منظور کرتے ہوئے پولیس کو انہیں گرفتار کرنے سے روک دیا اور درخواست گزار کو حکم دیا کہ وہ آئندہ ماہ مئی میں اپنے خلاف ہونے والے ٹرائل میں عدالت میں پیش ہوں۔
Post Views: 4.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: ڈکی بھائی کو
پڑھیں:
گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
فیصل کریم کنڈی نے خط میں کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔ اسلام تائمز۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان کے نام خط لکھ کر ضم شدہ قبائلی اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے اور اس میں توسیع کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کر کے انضمام کے وقت کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے خط میں مطالبہ کیا کہ قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔
انہوں نے تجویز دی کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر مشتمل مشترکہ کمیٹی قائم کر کے قبائلی اضلاع کی معاشی صورتحال کا جائزہ لیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے ٹیکسوں کے نفاذ سے قبل ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کی معاشی و مالی صورتحال کا جائزہ لینا ضروری ہے، جبکہ ٹیکسوں کا معاملہ مشترکہ مفادات کونسل یا کسی مناسب آئینی فورم پر فوری طور پر پیش کیا جائے۔
گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ قبائلی عوام نے پاکستان کے امن، استحکام اور سلامتی کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ وفاق اور صوبے کی یکساں ٹیکس پالیسی قبائلی عوام کا ریاست پر اعتماد بحال کرنے میں مددگار ثابت ہوگی، جبکہ ٹیکس ریلیف سے ضم شدہ اضلاع کی سماجی و معاشی ترقی اور قومی دھارے میں انضمام کا عمل مزید تیز ہوگا۔