یوٹیوبر ڈکی بھائی کو گرفتار کر لیا گیا
اشاعت کی تاریخ: 17th, August 2025 GMT
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 16 اگست2025ء) یوٹیوبر ڈکی بھائی کو گرفتار کر لیا گیا، نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی نے یوٹیوبر کو لاہور ائیرپورٹ سے حراست میں لیا۔ تفصیلات کے مطابق ن یشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی نے معروف یوٹیوبر سعد الرحمان المعروف ڈکی بھائی کو گرفتار کرلیا۔
(جاری ہے)
ڈکی بھائی کو لاہور ایئرپورٹ سے گرفتار کیا گیا ہے جبکہ اُن کے خلاف نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی نے تحقیقات شروع کر رکھی ہیں۔
ذرائع این سی سی آئی اے کے مطابق ڈکی بھائی کا نام پی این آئی ایل میں شامل ہے اور اُن کے خلاف مختلف الزامات کے تحت تحقیقات جاری ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ مقدمات سے بچنے کے لیے ڈکی بھائی نے بیرون ملک فرار ہونے کی کوشش کی تاہم پی این آئی لسٹ میں نام شامل ہونے پر انہیں گرفتار کیا گیا۔.
ذریعہ
ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے ڈکی بھائی کو
پڑھیں:
اٹلی میں چار پاکستانی زرعی مزدوروں کا قتل، دو پاکستانی شہری گرفتار
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 02 جون 2026ء) اخبار کے مطابق جلی ہوئی گاڑی امینڈولارا نامی گاؤں کے قریب ایک پٹرول پمپ پر ملی، جو کالابریا کے وسیع زرعی علاقے میں واقع ہے۔
اخبار کے مطابق پٹرول پمپ کے سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج میں دو افراد کو منی وین کے دروازے باہر سے بند کرتے اور اس کے اندر آتش گیر مائع پھینکتے ہوئے دیکھا گیا۔
رپورٹ کے مطابق اس کے بعد گاڑی میں آگ بھڑک اٹھی اور دونوں مشتبہ افراد موقع سے فرار ہو گئے۔
فائر بریگیڈ نے آگ بجھانے کے بعد گاڑی کے اندر سے چار لاشیں برآمد کیں۔
مقامی پولیس چیف نے اس اطالوی اخبار سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، ’’یہ یقینی طور پر قتل کا واقعہ ہے، اب ہمیں صرف اس کی تفصیلات معلوم کرنا ہیں۔
(جاری ہے)
‘‘
اخبار نے مزید لکھا کہ گزشتہ چند مہینوں کے دوران اس علاقے میں پاکستانیوں کی گاڑیوں اور منی وینز کے نذر آتش کیے جانے کے 14 واقعات پیش آ چکے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق علاقے میں تارکین وطن کے مختلف گروہوں کے درمیان زرعی کام کی تقسیم، رہائشی دستاویزات (ریذیڈنسی پیپرز)، اور رہائش کے مسائل پر کشیدگی پائی جاتی ہے، جسے ممکنہ طور پر اس واقعے کے پس منظر سے جوڑا جا رہا ہے۔
اطالوی حکام اس واقعے کی تحقیقات جاری رکھے ہوئے ہیں تاکہ اکٹھے چار افراد کے اس قتل کے محرکات اور اس کے ذمہ دار افراد کے اس جرم میں کردار کی مکمل طور پر وضاحت ہو سکے۔
ادارت: مقبول ملک