آرمی چیف نے سعودی وفد سے کہا بھارت چمکتی مرسڈیز، پاکستان بھراڈمپر، تصادم پر اندازہ لگالیں نقصان کس کا زیادہ ہوگا؟
اشاعت کی تاریخ: 17th, August 2025 GMT
وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا ہے کہ پاکستان پر دباؤ آیا کہ جہاز گرانے کے بعد بھارت کیخلاف مزید کوئی کارروائی نہ کی جائے، آرمی چیف نے سعودی وفد سے کہا بھارت چمکتی مرسڈیز اور پاکستان بھرا ہوا ڈمپرٹرک ہے، دونوں گاڑیوں کے تصادم ہونے پر اندازہ لگالیں نقصان کس کا زیادہ ہوگا؟
لاہور میں سیمینار سے خطاب میں محسن نقوی نے کہاکہ جنگ کے دوران ہماری انٹیلی جنس ایجنسیز نے بہترین کارکردگی دکھائی، بھارت جو بھی منصوبہ بندی کرتا تھاہمیں بروقت معلوم ہوجاتا تھا۔
انہوں نے کہا کہ بھارت کے طیارے گرائے گئے اسکے شواہد منٹوں میں ہمارے پاس تھے، مارگرائے جانیوالے 6 بھارتی طیارو کی ویڈیوز بھی ہمارے پاس موجود ہیں، بھارتی فوج کی ہر موومنٹ ہمارے پاس وقت سے پہلے پہنچ جاتی تھی، بھارت نے جو میزائل فائر کیے ایک بھی میزائل ہمارے بیس پر نہیں گرسکا۔
انہوں نے کہاکہ جنگ کے دوران پس پردہ ہیروز نے جو کارکردگی دکھائی انہیں سلام پیش کرتاہوں، ہم ریڈار میں دیکھ چکے تھے کہ ہماری ائیرفورس نے بھارتی طیارے گرادیے ہیں مگر ہم نے فیصلہ کیا تھا کہ ثبوت ہاتھ میں آنے تک بھارتی طیارے گرانے کا اعلان نہیں کرینگے۔
وزیر داخلہ نے کہاکہ پاکستان پر دباؤ آیا کہ جہاز گرانے کے بعد بھارت کے خلاف مزید کوئی کارروائی نہ کی جائے، آرمی چیف نے سعودی وفد سے کہا بھارت چمکتی مرسڈیز اور پاکستان بھرا ہوا ڈمپر ہے، دونوں گاڑیوں کے تصادم ہونے پر اندازہ لگالیں نقصان کس کا زیادہ ہوگا؟ اس پر وہ چپ ہوگئے۔
انہوں نے کہا کہ بھارت کی اوربہت سی چیزیں ہمارے ٹارگٹ میں تھیں باآسانی نشانہ بناسکتے تھے، بھارت میں جن مقامات کو نشانہ بنایا پہلے وہ اسے ہضم کرلے، اجیت دوول اور امیت شاہ اصل میں اس پورے ڈرامے کے پیچھے تھے، اجیت دوول اور امیت شاہ بھارتی حکومت چلا رہے ہیں۔
انہوں نے کہاکہ پاکستان کی تمام سیاسی جماعتیں متحد اورایکدوسرے کو سپورٹ کررہی تھی، بھارت پاکستان میں دہشت گردی کروارہا ہے، جب تک کشمیریوں کو ان کا حق نہیں مل جاتاچین سے نہیں بیٹھیں گے۔
وزیر داخلہ نے کہا کہ بھارت کیخلاف کامیابی کا سارا کریڈٹ وزیراعظم اور فیلڈ مارشل کو جاتا ہے اور گواہی دے سکتا ہوں کہ اس جنگ میں آرمی چیف عاصم منیر نے زبردست قیادت کی ۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: انہوں نے کہا ا رمی چیف نے کہاکہ
پڑھیں:
گلگت میں نئے منصوبوں کی نگرانی خود کروں گا: نواز شریف
گلگت (نوائے وقت رپورٹ) مسلم لیگ (ن) کے صدر محمد نواز شریف ایک روزہ دورے پر گلگت بلتستان پہنچ گئے جہاں عوامی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان میں شروع ہونے والے نئے منصوبوں کی خود نگرانی کروں گا۔ انہوں نے گلگت تک موٹر وے بنانے‘ ائرپورٹ کی توسیع اور الیکٹرک بسیں چلانے کا بھی اعلان کیا۔ انہوں نے کہا کہ گلگت سی پیک کا مرکز ہے، پوچھنا چاہتا ہوں گلگت کو نظرانداز کیوں کیا گیا۔ ٹوٹی سڑکیں دیکھ کر دکھ ہوتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ گلگت بلتستان میں شروع ہونے والے نئے منصوبوں کی خود نگرانی کروں گا، ووٹ دیں یا نہیں، یہاں کے مسائل کے حل کے لیے شہباز شریف سے بات کروں گا۔ طلبہ کو سکالرشپس دی جائیں گی، مزید لیپ ٹاپ دیے جائیں گے، میں وہ نوازشریف ہوں جو کسی پر تنقید کر کے کسی کی برائی کر کے ووٹ نہیں مانگتا ہم اپنی کارکردگی کی بنا پر ووٹ مانگتے ہیں۔ نواز شریف نے کہا کہ یہاں 20 گھنٹے لوڈشیڈنگ ہوتی ہے، یہ ہمیں منظور نہیں ہے، کسی اور کو منظور ہو تو ہو، یہ مجھے منظور نہیں ہے، میں جاکر شہباز شریف سے بات کروں گا، انہوں نے کہا کہ مجھے آپ نے کئی دفعہ دیس نکالا کیا ہے، مجھ سے گلہ نہیں کرو، یہ گلہ میں سننے کو تیار نہیں ہوں، یہ قصور آپ کا بھی ہے کہ مجھ جیسے بندے کو دیس نکالا کیوں ہونے دیا۔ نواز شریف نے کہا کہ کیوں مجھے جیلوں میں ڈالا گیا، کیوں مجھے دیس چھوڑ کر جانا پڑا، یہ بھی سوچنے والی ہے، میں اس پر بات نہیں کرنا چاہتا لیکن یہ بھی حقیقت ہے، ہم تمام سٹیک ہولڈرز کو بٹھا کر اس مسئلے کو حل کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان میں ہمارے علاوہ کسی جماعت نے ادھر کام نہیں کیا، یہاں کی سڑکوں کا حال دیکھ کر بہت دکھ ہوتا ہے۔ میں کسی جماعت کے خلاف بات نہیں کرنا چاہتا، لیکن پوچھنا چاہتا ہوں کہ کیوں چیزوں کونظر انداز کیا۔ میرا دل روتا ہے کہ آپ لوگوں کی سہولتوں کے لیے کیوں پیسا نہیں لگایاگیا، وہ پیسا کہاں گیا؟ یہاں ہسپتال بنایا تو ہم نے بنایا، ہائیڈل پاور پلانٹس ہم نے لگائے، نگر کا منصوبہ ہم نے مکمل کیا، مجھے بتائیں کسی اور پارٹی نے کوئی کام کیا ہو۔