حافظ سعید اور مسعود اظہر کی حوالگی بلاول کی ذاتی رائے، حکومتی موقف نہیں. خرم دستگیر
اشاعت کی تاریخ: 8th, July 2025 GMT
اسلام آباد (اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین-انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔08 جولائی ۔2025 )مسلم لیگ نون کے رہنما و سابق وزیر خارجہ خرم دستگیر نے کہا ہے کہ حافظ سعید اور مسعود اظہر کی بھارت حوالگی کا بیان بلاول بھٹو کی پارٹی پالیسی ہوسکتی ہے ، اس کا حکومت سے کوئی تعلق نہیں، ایسے بیان سے پہلے ریاست سے گفتگو لازمی ہے، بلاول بھٹو کو وضاحت دینی چاہیے نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بھارت کا دہشت گردی سے متعلق بیانیہ اب دنیا میں پٹ رہا ہے، جبکہ پاکستان نے دنیا کے سامنے خود کو ایک ذمہ دار ریاست کے طور پر پیش کیا ہے.
(جاری ہے)
خرم دستگیر نے کہا کہ حافظ سعید اور مسعود اظہر کی بھارت حوالگی سے متعلق بلاول بھٹو کا بیان ان کی پارٹی کی پالیسی ہو سکتی ہے لیکن اس کا حکومت پاکستان سے کوئی تعلق نہیں ان کا کہنا تھا کہ ایسے حساس معاملے پر بیان دینے سے قبل ریاست سے مشاورت ضروری ہے اور بلاول بھٹو کو اس پر وضاحت دینی چاہیے. ان کا کہنا تھا کہ دہشت گردی کا پرانا الزام پاکستان نے پہلے ہی فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (فیٹف) میں بھگتا مگر ہم نے اندرونی دہشت گردی کے خلاف ٹھوس اقدامات کیے اور اپنا مقدمہ کامیابی سے لڑا خرم دستگیر نے کہا بھارت نے خود پاکستان میں دہشت گردی کرانے کا اعتراف کیا ہے اور غیرذمہ دارانہ طریقے سے جنگ لڑنے کی کوشش کی لیکن پاکستان نے ہر فورم پر امن کی بات کی اور ثابت کیا کہ ہم خطے میں استحکام چاہتے ہیں. سابق وزیر نے کہا کہ بلاول بھٹو زرداری نے پاکستان کا مقدمہ بڑی قابلیت سے عالمی سطح پر پیش کیا تاہم ان کے حالیہ بیانات ان کی پارٹی کی پالیسی ہو سکتے ہیں نہ کہ حکومت پاکستان کی انہوں نے کہا کہ پاکستان کو اب ہر بات پر صفائی دینا بند کر دینی چاہیے کیونکہ ہمارا دفاع ہم دنیا کے سامنے موثر انداز میں کرچکے ہیں. خرم دستگیر نے مزید کہا کہ اگر بھارت نے پانی روکنے کی کوشش کی تو اسے اعلانِ جنگ سمجھا جائے گا انہوں نے پی ٹی آئی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ انہیں اسپیکر پنجاب اسمبلی سے معذرت کرنی چاہیے تھی انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ کسی بڑی سیاسی تبدیلی کی اطلاع نہیں اور کے پی میں گورنر راج کی خبروں کو بے بنیاد قرار دیا.
ذریعہ
ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے خرم دستگیر نے بلاول بھٹو نے کہا کہ انہوں نے
پڑھیں:
سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان
اسلام آباد ( ڈیلی پاکستان آن لائن ) سینیٹر شیری رحمان نے بھارت کے دہرے آبی رویئے پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے۔ ایک طرف بھارت سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنے کی دھمکی دیتا ہے، دوسری طرف سیلابی پانی پاکستان کی طرف چھوڑ دیتا ہے۔
’’جنگ ‘‘ کے مطابق شیری رحمان نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ بھارت نے سلال ڈیم کےگیٹ کھول کر لاکھوں پاکستانیوں کو سیلابی خطرے سے دو چار کر دیا، دریاؤں کے پانی کو تنازع نہیں بلکہ ذمے داری کے ساتھ چلایا جانا چاہیے، بھارت کی غیر ذمے دارانہ پالیسی خطے کے امن اور اعتماد کے لیے خطرناک ہے۔بھارت کی جانب سے پانی کے بہاؤ سے متعلق بر وقت معلومات نہ دینا چیلنج بن گیا ہے، دریائے چناب کے پانی کے بہاؤ میں غیر یقینی صورتِ حال پیدا ہو رہی ہے۔
پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
اُنہوں نے کہا کہ بھارت کے اقدامات سے آبپاشی کے نظام اور زرعی شعبے کو خطرات ہیں، دریائے چناب میں اچانک پانی کی کمی یا زیادتی سے نہری نظام متاثر ہو سکتا ہے، دریائے چناب پنجاب کے لاکھوں ایکڑ زرعی رقبے کو سیراب کرتا ہے، پانی کے بہاؤ میں تبدیلی سے فصلیں متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔پاکستان کے کسانوں کا روزگار دریاؤں کے منظم بہاؤ سے جڑا ہے، بھارت کی غیر یقینی آبی پالیسی زرعی خطرات میں اضافہ کر رہی ہے، آبی وسائل کو ذمے دارانہ طریقے سے استعمال کیا جانا چاہیے۔بھارت کو معاہدوں کی پاسداری کرنا ہوگی، بھارت کو مغربی دریاؤں کے پانی کو ذخیرہ کرنے یا دوسرے کیچمنٹ میں منتقل کرنے کی اجازت نہیں۔
اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل، 21 کروڑ روپے سے زائد رقم بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم
مزید :