غزہ جنگ: اسرائیلی فوجی بدترین نفسیاتی مسائل سے دوچار، 43 فوجیوں کی خودکشی
اشاعت کی تاریخ: 8th, July 2025 GMT
اسرائیلی ذرائع نے اعتراف کیا ہے کہ غزہ میں لڑائی کی وجہ سے اسرائیلی فوجی اہلکاروں میں شدید نفسیاتی مسائل پیدا ہورہے ہیں، اور ان کا کہنا ہے کہ 7 اکتوبر 2023 کے بعد سے 43 فوجی خودکشی کر چکے ہیں۔
یہ بات اسرائیلی ذرائع نے معروف عرب ٹیلی ویژن چینل ’الجزیرہ‘ کو بتائی۔ انہوں نے بتایا کہ ’الاقصیٰ طوفان‘ آپریشن کے آغاز سے لے کر اب تک 43 فوجی جنگ سے متعلق ذہنی مسائل کی وجہ سے خودکشی کر چکے ہیں۔
نفسیاتی بحران اور فوجی نفسیاتی صحت کی حالت
اس ضمن میں حالیہ واقعہ 24 سالہ فوجی ڈینیئل ایڈری کا تھا، جو لبنان اور غزہ میں محاذوں پر ہلاک ہونے والے فوجیوں کی لاشیں منتقل کرنے کا ذمہ دار تھا۔ اس نے ذہنی دباؤ اور نفسیاتی صدمے کے باعث خودکشی کی۔ اس واقعے کے بعد اسرائیلی اخبار ’ہارٹز‘ نے رپورٹ کیا کہ اسرائیلی فوج لوگوں کی کمی کی وجہ سے ذہنی امراض کے شکار ریزرو فوجیوں کو بھی غزہ میں لڑنے کے لیے بھرتی کر رہی ہے۔
یہ بھی پڑھیں مقبوضہ شمالی غزہ میں اسرائیلی فوجیوں پر حملے، کم از کم 5 ہلاک،14 زخمی، 2 کی حالت تشویشناک
اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ ذہنی دباؤ اور جنگی نفسیاتی مسائل کے شکار افراد کو بھی فوج میں شامل کیا جا رہا ہے تاکہ جنگی ضروریات کو پورا کیا جا سکے۔ مزید برآں، اسرائیلی وزارت داخلہ نے اعلان کیا تھا کہ 7 اکتوبر 2023 کے بعد سے 9,000 اسرائیلی فوجی مختلف ذہنی بیماریوں کا شکار ہو چکے ہیں۔
اسرائیلی فوج کی حالات سے نمٹنے کی کوششیں
اسرائیلی فوج کے اندر افسردگی، نفسیاتی بحران اور خودکشیوں کے بڑھتے ہوئے واقعات کے بعد، فوجی قیادت کو معلوم ہوا کہ فوجی اہلکار خودکشی کر رہے ہیں یا پھر فرار ہورہے ہیں۔
ایک فوجی کمانڈر نے ہارٹز کو بتایا کہ فوج میں ایسے لوگوں کو لڑائی کے لیے بھرتی کیا جا رہا ہے جو ذہنی طور پر مستحکم نہیں ہیں۔ اس کمانڈر کا کہنا تھا کہ اسرائیلی فوج کو مجبوراً ان افراد کو بھی بھرتی کرنا پڑ رہا ہے جو نفسیاتی بیماریوں کا شکار ہیں، اور یہ وہ لوگ ہیں جو علاج سے گزر رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیے حماس کے خلاف جھڑپوں میں 74 ہزار صہیونی فوجی زخمی، نصف تعداد نفسیاتی امراض کا شکار
اسرائیلی فوج میں نفسیاتی مدد کا فقدان
اس بحران کے دوران، اسرائیلی فوج نے 800 ماہر نفسیات کی خدمات حاصل کی ہیں اور ذہنی صحت کی مشاورت کے مراکز بھی قائم کئے ہیں تاکہ فوجیوں کی نفسیاتی حالت پر قابو پایا جا سکے۔ اس کے علاوہ، فوج میں شامل ہونے والے افراد میں سے کئی ایسے بھی ہیں جنہیں بغیر فوجی جنازوں کے دفن کیا گیا ہے۔
سیاسی ردعمل
اسرائیلی حزب اختلاف کے رہنما اور کنیسٹ کے ممبر، یائر لاپڈ نے وزیرِ اعظم نیتن یاہو پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وہ اسرائیلی فوجیوں کو خان یونس اور جنین میں موت کی طرف بھیج رہے ہیں، جبکہ حریدی یہودیوں کو فوج میں بھرتی کرنے کی مخالفت کر رہے ہیں۔
یسیرا بیٹیینو پارٹی کے سربراہ، ایوگڈور لیبرمین نے کہا کہ حالیہ مہینوں میں ہلاک ہونے والے فوجی محض حکومتی اتحاد کو برقرار رکھنے کے لیے قربانی کے بکرے بنے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اسرائیلی کابینہ قیدیوں کی رہائی کے معاملے پر کوئی معاہدہ کرنے سے گریزاں ہے۔
یہ بھی پڑھیں آپریشن طوفان الاقصیٰ نے 9000 اسرائیلی فوجیوں کو نفسیاتی مریض بنا دیا
تجزیہ کار کہتے ہیں کہ غزہ کی جنگ نے نہ صرف اسرائیلی فوجیوں کی جسمانی حالت کو متاثر کیا ہے بلکہ ان کی ذہنی صحت پر بھی سنگین اثرات مرتب کئے ہیں۔ بڑھتے ہوئے خودکشی کے واقعات اور نفسیاتی مسائل کے درمیان، اسرائیلی فوجی قیادت کو ان چیلنجز کا سامنا ہے جس سے ان کی جنگی کارکردگی پر بھی اثر پڑ سکتا ہے۔
اس بحران کے سیاسی اثرات اسرائیلی سیاست میں گہرے ہوتے جا رہے ہیں، اور بین الاقوامی سطح پر بھی اس کی گونج سنائی دے رہی ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اسرائیلی فوج خودکشی غزہ جنگ نفسیاتی مسائل.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اسرائیلی فوج نفسیاتی مسائل اسرائیلی فوجیوں اسرائیلی فوجی نفسیاتی مسائل اسرائیلی فوج فوجیوں کی رہے ہیں فوج میں کے بعد کے لیے
پڑھیں:
ایران میں تعمیر نو کی رفتار پر اسرائیل حیران ہے، وال اسٹریٹ جرنل
رپورٹ میں ایک اسرائیلی فوجی عہدیدار کے حوالے سے یہ بھی کہا گیا ہے کہ ایران نے ایک ایسا پل، جسے اسرائیلی فوج نے تین بموں سے نشانہ بنایا تھا، صرف چند دنوں میں دوبارہ تعمیر کر دیا۔ اس عہدیدار کے مطابق اس پیش رفت نے اسرائیلی فوجی کمانڈروں کو حیران کر دیا۔ اسلام ٹائمز۔ امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل نے رپورٹ کیا ہے کہ اسرائیل ایران میں تعمیر نو کی رفتار پر حیران ہے۔ وال اسٹریٹ جرنل نے اپنی ایک رپورٹ میں اسرائیلی اور مغربی حکام کے حوالے سے، نیز سیٹلائٹ تصاویر کے جائزے کی بنیاد پر، رپورٹ کیا ہے کہ ایران نے حالیہ مہینوں میں امریکہ اور اسرائیل کے حملوں سے متاثر ہونے والے اپنے بنیادی ڈھانچے کا ایک بڑا حصہ مختصر عرصے میں دوبارہ تعمیر کر لیا ہے۔ اخبار کے مطابق اس پیش رفت نے بعض اسرائیلی حکام میں تشویش پیدا کر دی ہے۔ رپورٹ کے مطابق تعمیرِ نو میں پہاڑوں کے اندر قائم میزائل اڈے، پل، بندرگاہیں اور صنعتی پیداواری تنصیبات شامل ہیں، اور اس کام کی رفتار اسرائیلی حکام کے ابتدائی اندازوں سے کہیں زیادہ رہی ہے۔ وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق یہ تیز رفتار بحالی اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ ایران، امریکہ اور اسرائیل کی وسیع فضائی مہم کے باوجود، جس میں جنگ کے عروج پر 20 ہزار سے زائد حملے کیے گئے اور اب بھی ایران کے ساحلی علاقوں میں جاری ہے، اپنی دفاعی اور صنعتی صلاحیت کو برقرار رکھنے اور بحال کرنے کی قابلِ ذکر استعداد رکھتا ہے۔
اخبار نے سیٹلائٹ تصاویر کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا کہ کنگاور کے قریب مارچ میں ہونے والے فضائی حملوں میں ایک میزائل اڈے کی دو سرنگوں کے داخلی راستے اور وہاں جانے والی سڑک تباہ کر دی گئی تھی، تاہم چند ہی ہفتوں بعد نئی تصاویر میں اس مقام پر نئی پختہ سڑک اور تازہ کھودی گئی سرنگوں کے داخلی راستے دکھائی دیے۔رپورٹ میں ایک اسرائیلی فوجی عہدیدار کے حوالے سے یہ بھی کہا گیا ہے کہ ایران نے ایک ایسا پل، جسے اسرائیلی فوج نے تین بموں سے نشانہ بنایا تھا، صرف چند دنوں میں دوبارہ تعمیر کر دیا۔ اس عہدیدار کے مطابق اس پیش رفت نے اسرائیلی فوجی کمانڈروں کو حیران کر دیا اور انہیں اپنے حملوں کی مؤثریت پر دوبارہ غور کرنے پر مجبور کیا۔ رپورٹ کے ایک اور حصے میں کہا گیا ہے کہ جولائی کے اوائل کی سیٹلائٹ تصاویر سے بندر انزلی میں واقع ایک جہاز سازی کے کارخانے کے بعض حصوں کی تعمیرِ نو کا آغاز بھی ظاہر ہوتا ہے۔ اسرائیل اس تنصیب کو آئی آر جی سی سے منسلک قرار دیتا ہے۔
وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق اسرائیل نے مارچ میں اس کمپلیکس، بندرگاہی تنصیبات، کمانڈ سینٹر اور دیگر اہداف کو اس مقصد سے نشانہ بنایا تھا کہ روس اور ایران کے درمیان سازوسامان کی ترسیل کے راستے کو منقطع کیا جا سکے۔ اسرائیل کے فضائی اور میزائل دفاعی نظام کے سابق کمانڈر ران کوخاو نے وال اسٹریٹ جرنل سے گفتگو میں کہا: "انہوں نے اپنے اسلحہ خانے دوبارہ بھر لیے ہیں۔ ایران کے پاس صنعتی صلاحیت اور تعمیرِ نو کی غیر معمولی استعداد موجود ہے۔" وال اسٹریٹ جرنل نے مزید لکھا کہ اگرچہ ایران کو امریکہ اور اسرائیل کے حملوں سے ہونے والے نقصانات کے ازالے کے لیے اب بھی ایک مہنگے اور وقت طلب عمل کا سامنا ہے، تاہم بنیادی ڈھانچے کی تیز رفتار بحالی نے ڈونلڈ ٹرمپ اور بنیامین نیتن یاہو کے ان دعوؤں کو چیلنج کیا ہے جن میں کہا گیا تھا کہ ایران کی صلاحیتوں کو فیصلہ کن اور تباہ کن نقصان پہنچایا گیا ہے۔
رپورٹ کے اختتام پر یہ بھی کہا گیا کہ ٹرمپ اور نیتن یاہو کو اپنے اپنے ممالک میں ان اہداف کے حصول میں ناکامی پر سیاسی دباؤ کا سامنا ہے جن میں ایران میں نظام کی تبدیلی، ایرانی جوہری پروگرام کا خاتمہ اور آبنائے ہرمز کو دوبارہ مکمل طور پر کھلوانا شامل تھا۔