غزہ میں جاری اسرائیلی جارحیت نے بعض اسرائیلی فوجیوں کو ایسے جذباتی اور نفسیاتی دباؤ میں ڈال دیا ہے کہ وہ غزہ میں آپریشنز سے بچنے کے لیے خود کو زخمی کرنے لگے ہیں۔

اسرائیلی میڈیا کے مطابق فوجیوں کی اس صورتحال پر اسرائیل میں ماؤں کے ایک فلاحی گروپ نے اس حوالے سے حکومتی پالیسیوں پر تنقید کی ہے اور شکایت بھی درج کروادی ہے۔

غزہ کی طویل مدت جاری جنگ نے اسرائیلی فوجیوں میں شدید ذہنی تناؤ، نیند اور بھوک کے مسائل اور دماغی تنزلی جیسے مسائل پیدا کردیے ہیں۔ فوجیوں میں خودکشی اور خود کو زخمی کرنا اب ایک عمومی رویہ بنتا جارہا ہے۔

ماؤں کے گروپ نے اپنے بیان میں بتایا کہ بہت سے فوجی میدان جنگ سے واپس آنے کے بعد دوبارہ جانے سے بچنے کے لیے جان بوجھ کر اپنے آپ کو زخمی کر رہے ہیں تاہم اس کے باوجود حکومت انہیں واپس غزہ میں بھیج رہی ہے جو کہ سراسر ظلم ہے۔

گروپ نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ ان کے بچوں کو جنگ سے واپس بلایا جائے کیونکہ وہ مزید ذہنی و جسمانی نقصان برداشت نہیں کرسکتے۔ ایک ماں کا کہنا تھا کہ بہت سے نوجوان "bleak" یعنی شدید افسردگی اور مایوسی میں ہیں اور انہیں دوبارہ غزہ روانہ کرنا ان کی فلاح کے خلاف ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: کو زخمی

پڑھیں:

گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست

فیصل کریم کنڈی نے خط میں کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔ اسلام تائمز۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان کے نام خط لکھ کر ضم شدہ قبائلی اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے اور اس میں توسیع کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کر کے انضمام کے وقت کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے خط میں مطالبہ کیا کہ قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔

انہوں نے تجویز دی کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر مشتمل مشترکہ کمیٹی قائم کر کے قبائلی اضلاع کی معاشی صورتحال کا جائزہ لیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے ٹیکسوں کے نفاذ سے قبل ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کی معاشی و مالی صورتحال کا جائزہ لینا ضروری ہے، جبکہ ٹیکسوں کا معاملہ مشترکہ مفادات کونسل یا کسی مناسب آئینی فورم پر فوری طور پر پیش کیا جائے۔

گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ قبائلی عوام نے پاکستان کے امن، استحکام اور سلامتی کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ وفاق اور صوبے کی یکساں ٹیکس پالیسی قبائلی عوام کا ریاست پر اعتماد بحال کرنے میں مددگار ثابت ہوگی، جبکہ ٹیکس ریلیف سے ضم شدہ اضلاع کی سماجی و معاشی ترقی اور قومی دھارے میں انضمام کا عمل مزید تیز ہوگا۔

متعلقہ مضامین

  • ایرانی حملے میں 10 شدید زخمی فوجیوں کو جرمنی کے ہسپتال منتقل کیا گیا، نیویارک ٹائمز
  • مغربی کنارے میں اسرائیلی فورسز اور آبادکاروں کا دھاوا، 4 فلسطینی شہید
  • سندھ حکومت پولیس فورس کو جدید خطوط پر استوار کرنے کیلئے پرعزم ہے، وزیراعلیٰ سندھ
  • نیٹ پیپر لیک: دہلی سے اٹھنے والا احتجاج بھارت بھر میں پھیل گیا، دہلی یونیورسٹی نے طلبہ کو جنتر منتر جانے سے روک دیا
  • کراچی، رینجرز اور ایس آئی یولیس کے ساتھ مقابلے میں 3 بھتہ خور ہلاک، ایک زخمی گرفتار
  • ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
  • چیک ریپبلک میں فوجی ہیلی کاپٹر گر کر تباہ؛ ایک فوجی ہلاک اور 4 زخمی
  • پٹرولیم قیمتوں کے روزانہ تعین پر سینیٹ میں توجہ دلاؤ نوٹس جمع
  • موبائل کمپنیوں کو 4 برسوں میں 3 ارب 41 کروڑ جرمانہ، سروس اور کوریج کی بہتری کیلئے مہلت
  • گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست