سرینڈر کرنا پاکستان کی ڈکشنری میں شامل نہیں، بلاول بھٹو کا جنگ کے موضوع پر سیمینار سے خطاب
اشاعت کی تاریخ: 2nd, July 2025 GMT
سابق وزیرخارجہ و چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ پاکستان نے دہشتگردی کے خلاف جنگ میں ہراول دستے کا کردار ادا کیا ہے، اس جنگ کو منطقی انجام تک پہنچائیں گے، سرینڈر کرنا پاکستان کی ڈکشنری میں شامل نہیں ہے۔
اسلام آباد میں پالیسی ریسرچ انسٹیٹوٹ میں’دنیا کے امن کے لیے پاکستان کی دہشتگردی کے خلاف جنگ‘ کے عنوان پر سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ وہ دنیا کو یاد دلانا چاہتے ہیں کہ دہشتگردی ایک عالمی مسئلہ ہے، دہشتگردوں کے خلاف پاکستان پورے عزم کے ساتھ برسرپیکار ہے۔
بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ پاکستان نے دہشتگردی کے خلاف جنگ میں بھاری جانی و مالی نقصان اٹھایا ہے، ہم نے اپنی آنے والی نسلوں کو محفوظ پاکستان دینے کے لیے دہشتگردوں کو شکست دینی ہے، آپریشن ضرب عضب اور ردالفساد سے دہشتگردوں کی کمر توڑ دی ہے۔
انہوں نے کہا کہ سرینڈر کرنا پاکستان کی ڈکشنری میں نہیں ہے، پاکستان نے دہشتگردی کے خلاف جنگ میں 92 ہزار سے زیادہ جانوں کی قربانی دی ہے، پاکستان دہشتگردی کے خلاف جنگ میں ہراول دستے کا کردار ادا کررہا ہے، افغانستان کی عبوری حکومت پر زور دیا کہ وہ دوحہ معاہدے کی پاسداری کرے اور افغان سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال نہ ہونے دے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: دہشتگردی کے خلاف جنگ میں بلاول بھٹو پاکستان کی نے کہا
پڑھیں:
سرینڈر کا امریکی مطالبہ مسترد، ایران کا حملے کی صورت میں نئے محاذ کھولنے کا اعلان
خاتم الانبیا سینٹرل ہیڈ کوارٹرز کے ڈپٹی انسپکٹر بریگیڈیئر جنرل جعفر اسدی کا کہنا ہے کہ امریکا مکمل سرینڈر کا مطالبہ کر رہا ہے، لیکن ایرانی قوم کبھی نہیں جھکے گی، امریکا کے ساتھ دوبارہ جنگ ناگزیر ہے۔ اسلام ٹائمز۔ اسلامی جمہوریہ ایران نے سرینڈر کا امریکی مطالبہ ناقابل قبول قرار دیتے ہوئے حملے کی صورت میں نئے محاذ کھولنے کا اعلان کر دیا۔ پاسداران انقلاب کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل حسین محبی کہتے ہیں کہ ایرانی فوج کسی بھی ممکنہ صورتحال سے نمٹنے کیلئے پہلے سے زیادہ تیار ہے، دشمن کو جارحیت پر مختلف نوعیت کی فوجی کارروائیوں کا سامنا کرنا پڑے گا، میدان جنگ اور ہتھیاروں کی اقسام بھی مختلف ہوں گی، جنگ بندی کے دوران ہماری عسکری صلاحیتوں میں اضافہ ہوا۔
خاتم الانبیا سینٹرل ہیڈ کوارٹرز کے ڈپٹی انسپکٹر بریگیڈیئر جنرل جعفر اسدی کا کہنا ہے کہ امریکا مکمل سرینڈر کا مطالبہ کر رہا ہے، لیکن ایرانی قوم کبھی نہیں جھکے گی، امریکا کے ساتھ دوبارہ جنگ ناگزیر ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہم نے ابھی مکمل صلاحیتیں ظاہر نہیں کیں، جنگ میں نیٹو بھی شامل ہوتی ہے تو بھی ہمیں پریشانی نہیں۔