Express News:
2026-06-03@04:36:28 GMT

ایک مفروضہ ملاقات کے چرچے

اشاعت کی تاریخ: 8th, July 2025 GMT

 سیاست بھی عجیب کھیل ہے۔ کئی دفعہ ایسی باتیں جو ممکن نہیں ہوتیں زیر بحث آجاتی ہیں۔ سب کو معلوم ہو تا ہے کہ یہ ممکن نہیں لیکن بحث شروع ہو جاتی ہے۔ شاید جب سیاست میں حقیقی کچھ نہیں ہوتا تو لوگ مفروضوں پر سیاست کرنے لگ جاتے ہیں۔ آج کل بھی سیاست کا مندا رجحان چل رہا ہے۔ سیاست میں کچھ خاص نہیں ہو رہا۔

جمود کا شکار ہے۔ اس لیے ایسی ایسی باتیں سامنے آجاتی ہیں جن کو سوچ کر بھی حیرانی ہوتی ہے۔ ایسی ہی ایک بات نواز شریف اور عمران خان ملاقات کی بھی ہے۔ ویسے مجھے یہ موجودہ حالات میں ممکن نظر نہیں آتی۔ لیکن پھر بھی اچھا چرچا ہے۔ سب بات کر رہے ہیں۔

میں پھر واضح کر دوں میری رائے میں اس وقت ملکی سیاست میں ایسا کوئی ماحول نہیں کہ نواز شریف چل کر اڈیالہ جائیں اور بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کریں۔ لیکن پھر بھی سب بات کر رہے ہیں تو میں نے سوچا آپ سے بھی اس پر بات کر لوں۔ پہلی بات یہ کیوں ممکن نہیں۔ سادہ بات ہے کہ سیاست مفادات کا کھیل ہے۔

لوگ اکٹھے بھی تب ہوتے ہیں جب مفادات اکٹھے ہوتے ہیں۔ جب دشمن مشترکہ ہو تب بھی اکٹھے ہوتے ہیں۔ اس لیے سیاست میں اتحاد یا اکٹھا چلنے کی دو ہی شرائط ہیں۔ پہلی یا مفاد مشترکہ ہو دوسرا یا دشمن مشترکہ ہو۔ اس وقت نواز شریف اور بانی پی ٹی آئی کا نہ تو مفاد مشترکہ ہے اور نہ ہی دشمن مشترکہ ہے۔ اس لیے اتحاد کیسا ۔ ملاقات کیسی۔ بانی پی ٹی آئی اس نظام کو ختم کرنا چاہتے ہیں۔ نواز شریف اس نظام کا تحفظ چاہتے ہیں۔

اس لیے مفادات کا ٹکراؤ ہے۔ اکٹھے چلنے کا کوئی ایجنڈا ہی نہیں ہے۔ کوئی دشمن بھی مشترکہ نہیں۔ بانی پی ٹی آئی کے دشمن نواز شریف کے دشمن نہیں ہیں۔ اس لیے سیاست کے سادہ اصول بھی اس ملاقات کے حق میں نہیں۔ ان کے مطابق بھی ملاقات ممکن نہیں۔

اس وقت نہ بانی پی ٹی آئی نواز شریف کو کچھ دے سکتے ہیں اور نہ ہی نواز شریف بانی پی ٹی آئی کو کچھ دے سکتے ہیں۔ اقتدار نواز شریف کے گھر میں موجود ہیں۔ اس کے لیے انھیں بانی پی ٹی آئی کی ضرورت نہیں۔

نواز شریف بھی بانی پی ٹی آئی کو کچھ نہیں دے سکتے۔ نواز شریف چاہتے ہوئے بھی بانی پی ٹی آئی کو اڈیالہ سے رہائی نہیں دے سکتے۔ بانی پی ٹی آئی کی رہائی نواز شریف کی سیاست کے لیے نقصان دہ ہو سکتی ہے۔ ان کی بیٹی اور بھائی کے اقتدار کے لیے خطرہ ہو سکتی ہے۔

نواز شریف اگر بانی پی ٹی آئی کی رہائی کی بات کریں تو ان کا مقتدرہ سے اتحاد ٹوٹ سکتا ہے۔ اس لیے کوئی ایسی شکل نظر نہیں آتی کہ نواز شریف بانی پی ٹی آئی کی رہائی کے لیے کوئی کردار ادا کر سکیں۔ سیاست میںکوئی بھی بات ایسے ہی نہیں ہوتی۔

آپ لوگ کہہ سکتے ہیں کہ نواز شریف جب وزیر اعظم تھے تب بھی تو بانی پی ٹی آئی سے ملنے اڈیالہ گئے تھے۔ اب کیوں نہیں جا سکتے۔ یہ درست ہے کہ نواز شریف نے ماضی میں بانی پی ٹی آئی سے ایک سیاسی ورکنگ ریلشن شپ قائم کرنے کی کوشش کی۔

ایسا انھوں نے وزیر اعظم بننے سے پہلے بھی کیا جب بانی پی ٹی آئی انتخابی مہم کے دوران گر گئے تب بھی نواز شریف ان کی خبر لینے اسپتال گئے۔ اپنی انتخابی مہم ان کے لیے ملتوی کی۔ پھر وزیر اعظم بننے کے بعد بنی گالہ گئے۔ لیکن دونوں دفعہ ایک ایجنڈا موجود تھا۔

نواز شریف کا اندازہ تھا کہ اسٹبلشمنٹ کی واحد آپشن بانی پی ٹی آئی ہے۔ وہ نہیں چاہتے تھے کہ بانی پی ٹی آئی اسٹبلشمنٹ کی گود میں بیٹھ کر ان کی حکومت کو ختم کرنے کی کوشش کریں۔ وہ سیاسی قوتوں کو ساتھ لے کر چلنا چاہتے تھے۔ پیپلزپارٹی اپوزیشن میں ہوتے ہوئے ان کے ساتھ تھی، وہ بانی پی ٹی آئی کو بھی ساتھ لے کر چلنا چاہتے تھے۔ اس لیے بنی گالہ گئے۔ ایک ایجنڈا موجود تھا۔

لیکن آج دیکھیں یہ ملاقات کامیاب رہی یا ناکام ۔ اگر نواز شریف کے نقطہ نظر سے دیکھا جائے تو وہ آج سوچتے ہونگے میں ایسے ہی گیا۔ جانے کا کوئی فائدہ نہیں ہوا۔ بانی پی ٹی آئی نے جانے کی کوئی لاج نہیں رکھی۔ نواز شریف کی حکومت ختم کرنے کے لیے اسٹبلشمنٹ کے کندھوں پر بیٹھ کر خوب کھیل کھیلا۔ نواز شریف کو نا اہل کروایا ، مائنس کرنے کی ہر کوشش کی۔

جیل بھیجا، گندی زبان استعمال کی، ہر ظلم کیا۔ اگر نواز شریف نہ بھی جاتے تو اچھا نہ تھا۔ جانے کاکوئی فائدہ نہیں ہوا۔ بانی پی ٹی آئی نے اپنا کھیل کھیلا۔اس لیے آج نواز شریف کیوں جائیں۔ ان کے پاس کیا ایجنڈا ہے۔ اور بانی پی ٹی آئی کی کیا گارنٹی ہے۔ بانی پی ٹی آئی کے چکر میں چوہدری نثار نے نواز لیگ سے اپنی سیاست ختم کر لی۔ نواز شریف کو بانی پی ٹی آئی کے گھر لے جانا ہی چوہدری نثار کا سب سے غلط فیصلہ تھا۔

آج بھی بانی پی ٹی آئی کی کوئی گارنٹی نہیں۔ کوئی بھی ان کی گارنٹی دینے کے لیے تیار نہیں۔ جنھوں نے ماضی میں گارنٹی دی ہے وہ عبرت کا نشان بنے ہیں۔ بانی پی ٹی آئی نے ان کی گارنٹی کی کوئی پرواہ نہیں کی ہے۔ اب کوئی گارنٹی دینے کے لیے بھی تیار نہیں۔

فرض کریں نواز شریف اور بانی پی ٹی آئی کے درمیان کوئی بات طے بھی ہوجائے تو بانی پی ٹی آئی اس پر قائم رہیں گے اس کی کیا گارنٹی ہے۔ گارنٹی کا مسئلہ تو اسٹبلشمنٹ کو بھی درپیش ہے۔ وہ یوٹرن کو اپنی سیاست کا کمال کہتے تھے۔ آج وہی کمال ان کی راہ کی سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔

کیا ایسا کوئی موقع تھا جب نواز شریف اور بانی پی ٹی آئی کے درمیان کوئی سیاسی معاہدہ ہو سکتا۔ میں سمجھتا ہوں ایک موقع تھا۔ جب عدم اعتماد پیش کرنے کی باتیں ہو رہی تھیں۔ نواز شریف بانی پی ٹی آئی کی مدت مکمل کرنے کے حق میں تھے۔ لیکن ان پر عدم اعتماد میں شامل ہونے کا دباؤ تھا۔

تب بانی پی ٹی آئی چاہتے تو نواز شریف سے ایک سیاسی معاہدہ کر سکتے تھے۔ بانی پی ٹی آئی لندن جا کر نواز شریف سے ملاقات کر سکتے تھے۔ لیکن اس وقت بانی پی ٹی آئی نے نہیں کیا۔ وہ جنرل باجوہ کو تا حیات ایکسٹینشن کی پیشکش کرتے رہے۔ نواز شریف سے معاہدہ نہیں کیا۔ پھر نواز شریف عدم اعتما دکے ساتھ آگئے۔ شاید وہ چند دن تھے جب نواز شریف سے بات ہو سکتی تھی۔ مستقبل کی سیاست پر بات ہو سکتی تھی۔ سیاست میں اصولوں پر بات ہو سکتی تھی۔ چارٹر آف ڈیموکریسی میں بانی پی ٹی آئی کی شمولیت پر بات ہو سکتی تھی۔ اب ممکن نہیں۔

نواز شریف اور بے نظیر کے درمیان چارٹر آف ڈیموکریسی تب ہی ہوا تھا۔ جب دشمن مشترک تھا۔ دونوں مشرف کے خلاف تھے۔ اس لیے اکٹھے ہوئے تھے۔ تحریک انصاف کی سب سے بڑی ناکامی تو یہی ہے کہ وہ کسی بھی سیاسی جماعت کے ساتھ اتحاد نہیں بنا سکی۔ اپوزیشن کا اتحاد بنانا سب سے آسان ہوتا ہے۔ حکومت مشترکہ دشمن ہوتی ہے۔ بانی پی ٹی آئی تو مولانا کے ساتھ اتحاد نہیں بنا سکے۔ انھوں نے نواز شریف کے ساتھ کیا ملاقات کرنی ہے۔ وہ مولانا کو سیاسی راستہ نہیں دے سکے۔ انھوں نے کسی اور کیا سیاسی راستہ دینا ہے۔

اس لیے میری رائے میں نواز شریف بانی پی ٹی آئی ملاقات کا کوئی امکان نہیں۔ ایک فیصد بھی امکان نہیں۔ دونوں اب سیاسی دشمن ہیں۔ یہی حقیقت ہے۔ نواز شریف جیت کے نشہ میں ہیں۔ انھوں نے ایک کھیل میں بانی پی ٹی آئی کو شکت دے دی ہے۔بانی پی ٹی آئی اس وقت شکست کا شکار ہیں۔ ان کے پاس کچھ نہیں۔ سیاست میں جس کے پاس کچھ نہیں۔ اس کا بھی کچھ نہیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

پڑھیں:

دیوار سے لگانے کی کوشش کی گئی تو وفاقی بجٹ پاس نہیں ہونے دیں گے ؛ سہیل آفریدی

سٹی 42:سہیل آفریدی نے احتجاج کی کال دیتےہوئے کہا  اگر اس مرتبہ بھی دیوار سے لگانے کی کوشش کی گئی تو ملک بھر سے پارلیمنٹرین 10جون کو قومی اسمبلی کے سامنے دھرنا دیں گے اور وفاقی بجٹ بھی پاس نہیں ہونے دیں گے۔

وزیر اعلی کے پی فیکٹری ناکہ سے واپس روانہ ہو گئے  ۔ وزیر اعلی سہیل آفریدی کی فیکٹری ناکہ سے روانگی سے قبل میڈیا ٹاک  میں کہا اگر اس مرتبہ بھی دیوار سے لگانے کی کوشش کی گئی تو ملک بھر سے پارلیمنٹرین 10جون کو قومی اسمبلی کے سامنے دھرنا دیں گے اور وفاقی بجٹ بھی پاس نہیں ہونے دیں گے۔2026-27کا بجٹ پیش کرنے جا رہے ہیں،مطالبہ کے کہ کے پی حکومت بانی کی ہے۔کے پی عوام نے بانی کو ووٹ دیا وہ انکو چاہتی ہے ۔کے پی عوام چاہے گی کہ بجٹ بانی کی خواہشات کے مطابق بنے ۔

پاکستان آسٹریلیا دوسرا ون ڈے، قذافی اسٹیڈیم میں سیکیورٹی و ٹریفک انتظامات مکمل

بجٹ کے حوالے سے میری اور وزیر خزانہ سے ملاقات ہو تاکہ ان سے بجٹ کی اپروول لے سکیں۔ہم کل اسلام آباد ہائیکورٹ میں ایک پٹیشن دائر کرنے جا رہے ہیں،امید ہے اس دفعہ ہمیں ملاقات کی اجازت دی جائے گی،آج بھی بانی کی فیملی سے ملاقات نہیں ہونے دی گئی۔بانی نے کوئی جرم نہیں کیا،انکو اغوا کرکے ناحق قید رکھا گیا ہے۔

پنجاب کی جعلی حکومت،جیل انتظامیہ کی وجہ سے بانی کی آنکھ میں مسئلہ ہوا،عوام میں تشویش ہے کہ بانی کی ملاقات بند ہے،وہ اندر کیا کر رہے ہیں کہ تمام چیزیں روکی ہوئی ہیں۔یہ کیوں ملاقات نہیں کروا رہے،کے پی سے امتیازی سلوک کیوں کیا جا رہا ہے،میں نے ملاقات کا مطالبہ کرکےکوئی غلط ڈیمانڈ نہیں کی۔کے پی میں عوام نے بانی کو مینڈیٹ دیا یہ انکا حق ہے کہ بجٹ بانی کی مرضی کے مطابق ہو ۔ کے پی کا وزیر اعلی بانی تبدیل کر سکتے ہیں باقی کسی میں جرات نہیں،وہ ہلا بھی سکے ۔محسن نقوی سے ملاقات بیرسٹر گوہر کے کہنے پر ہوئی ۔افغانستان ہمارا برادر اسلامی ملک ہے،وہاں پر کیا انٹرسٹ ہو سکتا ہے اگر ہم ان سے لڑائی کریں ۔کسی کی خوشنودی کے لئے ان سے تعلقات خراب ہو رہے ہیں،

غیر ملکی خاتون کے مبینہ اغوا کیس میں نیا موڑ، پولیس تفتیش میں اہم انکشافات

بجٹ میں بانی کی ہدایات کو شامل کیا گیا ہے،سوشل ویلفیئرتعلیم،صحت کو شامل کیا گیا ۔بانی نے کہا تھا کہ جنگ کسی مسئلے کا حل نہیں پاکستان کو ثالثی کا کردار ادا کرنا چاہیئے

2026میں پاکستان انکے مشورے پر عمل کرتا ہے تو دنیا میں اسکی واہ واہ ہوتی ہے ۔ہر بندہ بولتا ہے کہ کرپشن ہو رہی ہے میں  نے وزیراعلی کے دروازے کھلے رکھے ہیں کرپشن کے ثبوت لائیں۔

متعلقہ مضامین

  • گلگت میں نئے منصوبوں کی نگرانی خود کروں گا: نواز شریف
  • عمران خان کی اب کوئی مقبولیت نہیں، وہ رہا ہو جائیں تو حقیقت سب کے سامنے آ جائے گی، وزیر صحت پنجاب خواجہ عمران نذیر
  • نواز شریف این او سی لے کر گلگت بلتستان گئے، راناثنا
  • دیوار سے لگانے کی کوشش کی گئی تو وفاقی بجٹ پاس نہیں ہونے دیں گے ؛ سہیل آفریدی
  • بانی جس دن محمود اچکزئی سے مطمئن نہیں ہوں گے ہٹادیے جائیں گے، جنید اکبر
  • بانی سے ملاقات تک خیبرپختونخوا کا بجٹ پاس نہ کیا جائے، علیمہ خان کی سہیل آفریدی کو تنبیہ
  • بانی پی ٹی آئی نے مجھے وزیر اعلی نامزد کیا کوئی طاقت مجھے نہیں ہٹا سکتی;سہیل آفریدی
  • جو ایم پی اے بانی کی رہائی کے لئے جدوجہد کرے گا وہ پاکستان کا سب سے بڑا ہیرو ہو گا ؛علیمہ خانم
  • ووٹ ملے نہ ملے گلگت بلتستان میں سہولیات فراہم کروں گا: نواز شریف
  • گلگت بلتستان سی پیک کا مرکز ہے: نواز شریف