خاتون سے زیادتی کا کیس: بھارتی کرکٹر یش دیال کیخلاف ایف آر درج
اشاعت کی تاریخ: 8th, July 2025 GMT
خاتون سے زیادتی کے کیس میں بھارتی کرکٹر یش دیال کے خلاف ایف آر درج کرلی گئی۔
بھارتی میڈیا کے مطابق رائل چیلنجرز بنگلور (آر سی بی) کے فاسٹ بولر یش دیال کے خلاف ایک خاتون سے زیادتی کا کیس رجسٹرڈ کیا گیا ہے۔
ایک خاتون نے فاسٹ بولر یش دیال پر جنسی استحصال کا الزام لگایا تھا، غازی آباد کی خاتون نے فاسٹ بولر پر جنسی استحصال کیخلاف مقدمہ درج کرنے کی درخواست دی تھی۔
خاتون نے الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ 5 سالہ تعلق کے دوران یش دیال نے جسمانی اور ذہنی تشدد کیا۔
خاتون نے شادی کا وعدہ کر کے مالی طور بھی استحصال کرنے کا الزام لگایا ہے۔
بھارتی میڈیا کا کہنا ہے کہ الزامات ثابت ہونے پر بھارتی کرکٹر کو 10 برس قید کی سزا کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
Post Views: 2.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
بحرین میں محرم الحرام کی آمد کیساتھ ہی شیعیان علیؑ کیخلاف کریک ڈاون میں تیزی
گرفتاریاں بحرین کی وزارت داخلہ کی طرف سے چلائی جانے والی ایک بڑھتی ہوئی مہم کے تناظر میں کی جا رہی ہیں، جو خطے میں جاری واقعات، بشمول شیعوں کو براہ راست نشانہ بنانے، کے بعد سامنے آئی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ شیعہ نشین عرب ملک بحرین پر قابض ال خلیفہ حکام اپنے جرائم کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہیں اور متعدد شہریوں کی گرفتاریوں کا ایک سلسلہ شروع کیا ہے۔ محرم الحرام کی آمد کیساتھ ہی بحرین میں شیعہ شہریوں کے خلاف سیکیورٹی اداروں کی طرف سے شروع کیے گئے کریک ڈاؤن کے تحت، انہیں تفتیش کے لیے طلب کرنے کے بعد متعدد شہریوں کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔ گرفتار کیے گئے افراد کے نام حسب ذیل ہیں: - ناصر الکشری (اهل بیت علیہم السلام کے ذاکر) - حاج عبدالجبّار میرزا - حاج حسین درویش - إیهاب الحمدی - احمد حسن - السید عبدالله ماجد - حسین الخیاط - محمود مسلم - حاج مهدی صالح - دو بھائی علی و حسن الغانم - رضا ابراهیم محمد حمادة - السید حسین جعفر - محمد سرحان
غاصب بحرینی حکام یہیں نہیں رکے بلکہ انہوں نے دو بچوں مصطفی یوسف اور زین محمد ابراهیم کو بھی گرفتار کر لیا ہے۔ شیعہ آبادی والے دیہاتوں میں سیکیورٹی الرٹ کی حالت ہے، جہاں حکام نے زیادہ تر دیہاتوں کے اطراف اپنی افواج تعینات کر رکھی ہیں، تاکہ وہ متعدد شہریوں کو طلب کر کے گرفتار کریں۔ یہ گرفتاریاں بحرین کی وزارت داخلہ کی طرف سے چلائی جانے والی ایک بڑھتی ہوئی مہم کے تناظر میں کی جا رہی ہیں، جو خطے میں جاری واقعات، بشمول شیعوں کو براہ راست نشانہ بنانے، کے بعد سامنے آئی ہے۔