گروسیف نے سمر انٹرن شپ پروگرام 2025 کا آغاز کردیا
اشاعت کی تاریخ: 3rd, July 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی (اسٹاف رپورٹر )صحت، حفاظت و ماحولیات کے شعبے میں معروف، گروسیف نے 8 شرکاء کی قابلیت کی بنیاد پر شمولیت کے ساتھ سمر انٹرنشپ پروگرام 2025 کے کامیاب آغاز کا اعلان کردیا ہے۔
مذکورہ 8 طلبہ و طالبات نے ادارے کے مختلف کلیدی شعبوں، خصوصاً سیلز اور مارکیٹنگ، انفارمیشن ٹیکنالوجی، ایڈمنسٹریشن اور تیکنیکی سروسز میں 6 ہفتوں پر مشتمل انٹرنشپ کا آغاز کیا۔
اس پروگرام کے ذریعے ادارہ، نہ صرف درکار ملکی صنعتی استعداد، بلکہ افرادی قوت کے شعبے کو تقویت دینے کا اعادہ کرتا ہے۔ سیکھنے اور آگے بڑھنے کے ان اقدامات کا مقصد تعلیمی اور عملی شعبوں میں موجود خلیج کو پرُ کرنا ہے، اور اس طرح طلبہ و طالبات، خاصکر فارغ التحصیل نوجوانوں کے لیے تربیت کے اہم مواقعے پیدا ہورہے ہیں۔
یہ انٹرنشپ گروسیف کے کارپوریٹ سوشل ذمداری کے حوالے سے عزم کو بھی عیاں کرتی ہے، جس کا خاص ہدف اسمال اور میڈیم انٹرپرائزز اور قیادت کی صلاحیت رکھنے والے افراد کو اجاگر کرنا اور تابناک ملکی مستقبل کو یقینی بنانا ہے۔
یوں ادارہ قابل افراد کی حوصلہ افزائی اورحفاظت، صحت اور ماحولیات کی معلومات عام کرنے کے اپنے مشن کو آگے بڑھارہا ہے تاکہ آنے والے دنوں میں پاکستان ایک پائیدار اور قابلِ انحصار صنعتی مستقبل کو یقینی بناسکے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
بھارت کا سندھ طاس معاہدہ یکطرفہ طور پر معطل کرنا اشتعال انگیز ہے، اسحاق ڈار
منیلا میں آسیان ریجنل فورم سے خطاب کرتے ہوئے اسحاق ڈار نے کہا کہ مقبوضہ جموں و کشمیر کے تنازع کا حل ہی جنوبی ایشیا میں پائیدار امن کی بنیاد ہے۔ اسلام ٹائمز۔ نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کا کہنا ہے کہ بھارت کا سندھ طاس معاہدہ یکطرفہ طور پر معطل کرنا تشویشناک اور اشتعال انگیز اقدام ہے۔ منیلا میں آسیان ریجنل فورم سے خطاب کرتے ہوئے اسحاق ڈار نے کہا کہ مقبوضہ جموں و کشمیر کے تنازع کا حل ہی جنوبی ایشیا میں پائیدار امن کی بنیاد ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بھارت کا سندھ طاس معاہدہ معطل کرنا تشویشناک اور اشتعال انگیز اقدام ہے، سندھ طاس معاہدے سے متعلق یکطرفہ اقدامات 25 کروڑ پاکستانیوں کے مفادات کو متاثر کرسکتے ہیں۔ نائب وزیر اعظم کے مطابق اسلام آباد مفاہمتی عمل نے خطے میں امن کے لیے ایک اہم موقع فراہم کیا، تمام فریق تحمل کا مظاہرہ کریں اور سفارت کاری کے ذریعے مسائل حل کریں، افغان سرزمین پاکستان کے خلاف دہشت گردی کے لیے استعمال نہیں ہونی چاہیے۔