شہباز شریف سے مذاکرات ہوئے تو پوچھوں گا کب اقتدار واپس کرو گے؟، محمود اچکزئی WhatsAppFacebookTwitter 0 3 July, 2025 سب نیوز

اسلام آباد(سب نیوز)پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے چیئرمین و رکن قومی اسمبلی محمود خان اچکزئی نے کہا کہ شہباز شریف سے مذاکرات کس بات کے ہوں گے، شہباز شریف سے مذاکرات ہوئے تو پوچھوں گا کب اقتدار واپس کرو گے؟۔
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے محمود خان اچکزئی نے کہا کہ یہ حکومت زور زبردستی کے نتیجے میں اقتدار میں آئی، اگر بپھرے عوام باہر نکل آئے تو بہت مشکل ہو جائے گی، اگر ان پارٹیوں میں تھوڑی سی بھی جمہوریت ہوتی تو مخصوص نشستیں لینے سے انکار کرتے۔محمود خان اچکزئی نے کہا کہ اس کم بخت حکومت میں پاکستان ڈوب رہا ہے، وزیراعظم شہباز شریف بانسری بجا رہا ہے، یہ عوام کی نمائندہ حکومت نہیں ہے، اس اسمبلی کو نیتن یاہو کو عالمی دہشت گرد قرار دینے کی قرارداد پیش کرنی چاہئے تھی۔
انہوں نے کہا کہ یہ تو نیتن یاہو کا نام نہیں لے سکتے، ایران پر مذاکرات کے دوران حملہ کیا گیا، امت مسلمہ کو ایران پر حملے پر سخت احتجاج کرنا چاہیے تھا، ایران نے اسرائیل کو بھرپور جواب دیا، ایران کے بعد پاکستان کا نمبر ہے۔محمود خان اچکزئی کا کہنا تھا کہ خدا کے لیے یہ وقت تقسیم کا نہیں اتحاد پیدا کرنا ہوگا، بانی پی ٹی آئی کا گناہ یہ ہے کہ وہ الیکشن جیتا ہے، بانی پی ٹی آئی سے اس کی فیملی کی ملاقات نہیں کرائی جا رہی، بجٹ کے دوران پنجاب اسمبلی میں اپوزیشن نے بھرپور احتجاج کیا۔انہوں نے کہا کہ پاکستان غلط فیصلوں کی وجہ سے کسی بڑے حادثے کا شکار نہ ہو جائے، پاکستان کو آئین و قانون کے مطابق چلایا جائے۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔

WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرگورنر خیبرپختونخوا کی میری حکومت گرانے کی حیثیت نہیں، علی امین گنڈاپور گورنر خیبرپختونخوا کی میری حکومت گرانے کی حیثیت نہیں، علی امین گنڈاپور وفاقی حکومت نے 2روزہ عام تعطیل کا اعلان کردیا،نوٹیفکیشن جاری اسٹارلنک کو پاکستان میں سیٹلائٹ انٹرنیٹ کی فراہمی کیلئے شدید مشکلات، عارضی رجسٹریشن بھی ختم چیئرمین سی ڈی اے محمد علی رندھاوا کی زیر صدارت اجلاس، اسلام آباد کو مزید خوبصورت بنانے کیلئے بیوٹیفکیشن پلان پر عملدرآمدو دیگر اقدامات.

.. اسلام آباد ہائیکورٹ میں جولائی اور اگست میں تعطیلات کا شیڈول جاری وزیراعظم شہبازشریف 2 روزہ سرکاری دورے پر آذربائیجان پہنچ گئے TikTokTikTokMail-1MailTwitterTwitterFacebookFacebookYouTubeYouTubeInstagramInstagram

Copyright © 2025, All Rights Reserved

رابطہ کریں ہمارے بارے ہماری ٹیم

ذریعہ

ذریعہ: Daily Sub News

کلیدی لفظ: شہباز شریف سے مذاکرات

پڑھیں:

امریکا اور ایران کے درمیان بات چیت جاری، کوئی نہیں جانتا انجام کیا ہوگا، ڈونلڈ ٹرمپ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران اور امریکا کے درمیان مذاکرات کے خاتمے سے متعلق خبروں کو مسترد کرتے ہوئے انہیں غلط اور گمراہ کن قرار دیا ہے۔

سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر اپنے ایک بیان میں انہوں نے کہاکہ یہ اطلاعات درست نہیں ہیں کہ ایران اور امریکا نے چند روز قبل ایک دوسرے سے بات چیت بند کردی ہے۔

ان کے مطابق دونوں ممالک کے درمیان رابطے اور گفتگو کا سلسلہ مسلسل جاری ہے، اور آج بھی بات چیت ہوئی ہے۔

انہوں نے کہاکہ ان مذاکرات کا انجام کیا ہوگا، اس حوالے سے کوئی کچھ نہیں جانتا، تاہم ایران کو واضح پیغام دیا ہے کہ اب وقت آ گیا ہے کہ کسی نہ کسی صورت ایک معاہدہ کیا جائے۔

صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ایران گزشتہ 47 برس سے اسی طرز پر معاملات چلا رہا ہے اور یہ صورتحال مزید جاری نہیں رہ سکتی۔

واضح رہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی بدستور برقرار ہے، اور پاکستان دونوں ممالک میں معاہدہ کرانے کے لیے بھرپور سفارتکاری کررہا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

wenews امریکا ایران مذاکرات امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ معاہدہ وی نیوز

متعلقہ مضامین

  • ایران کے ساتھ امریکی امن مذاکرات ، اسرائیل شامل نہیں
  • ٹرمپ کے بدلتے پینترے
  • ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ
  • ایران کے جوہری پروگرام پر انتہائی ٹیکنیکل مذاکرات میں مہینے لگ سکتے ہیں، امریکی وزیرخارجہ
  • امریکا اور ایران کے درمیان بات چیت جاری، کوئی نہیں جانتا انجام کیا ہوگا، ڈونلڈ ٹرمپ
  • شہباز شریف کا کامیاب انسدادِ دہشت گردی کارروائیوں پر سکیورٹی فورسز کو خراجِ تحسین
  • بانی جس دن محمود اچکزئی سے مطمئن نہیں ہوں گے ہٹادیے جائیں گے، جنید اکبر
  • برآمدات بڑھانے کیلئے مؤثر اقدامات ترجیح ہیں: وزیرِ اعظم شہباز شریف
  • گلگت بلتستان سی پیک کا مرکز ہے: نواز شریف
  • ایران، امریکا مذاکرات: یورپی یونین بھی پاکستان کے کردار کی معترف لیکن مسئلے کا حل تاحال تاخیر کا شکار کیوں؟