وزیراعظم شہباز شریف کی ایرانی صدر مسعود پزشکیان سے ملاقات، قطر سے یکجہتی کا اظہار
اشاعت کی تاریخ: 16th, September 2025 GMT
وزیراعظم محمد شہباز شریف نے اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان سے ہنگامی عرب۔اسلامی سربراہی اجلاس کے موقع پر ملاقات کی۔
قطر کے دارالحکومت دوحہ میں ہونے والی اس ملاقات میں نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار، آرمی چیف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر، وزیر دفاع خواجہ محمد آصف اور وزیر اطلاعات و نشریات عطااللہ تارڑ بھی شریک تھے۔
یہ بھی پڑھیے: قطر پر اسرائیلی حملہ: پاکستان، سعودی عرب اور ایران کی شدید مذمت
وزیراعظم نے قطر پر اسرائیلی جارحیت کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ امت مسلمہ کو ایسے حالات میں اتحاد کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔ دونوں رہنماؤں نے قطر کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کیا اور اسرائیلی جارحیت کے مقابلے میں مسلم دنیا کے اتحاد پر زور دیا۔
وزیراعظم نے کہا کہ دوحہ عرب۔اسلامی سربراہی اجلاس نے اسرائیلی جارحیت کے خلاف مسلم دنیا کا مضبوط اور متحد پیغام دیا ہے۔ انہوں نے گزشتہ ماہ ایرانی صدر کے پاکستان کے دورے کو یاد کرتے ہوئے پاک۔ایران تعلقات کو تمام شعبوں میں مزید وسعت دینے کے عزم کا اعادہ کیا۔
اس موقع پر وزیراعظم نے ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے لیے نیک تمناؤں اور احترام کا پیغام بھی پہنچایا۔
یہ بھی پڑھیے: وزیراعظم شہباز شریف کی ایرانی صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان سے ملاقات
ایرانی صدر مسعود پیزشکیان نے مسئلہ فلسطین پر پاکستان کے دوٹوک مؤقف کو سراہتے ہوئے کہا کہ وہ وزیراعظم شہباز شریف کے ساتھ مل کر پاک۔ایران تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے خواہاں ہیں۔
دونوں رہنماؤں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ خطے کی تیزی سے بدلتی ہوئی صورتحال کے پیش نظر قریبی رابطے جاری رکھیں گے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اسرائیل ایران دوحہ قطر مسعود پزشکیان.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اسرائیل ایران مسعود پزشکیان مسعود پزشکیان شہباز شریف ایرانی صدر
پڑھیں:
ایران نے فوجی اڈوں کے استعمال پر برطانیہ کو سخت وارننگ دے دی
ایرانی وزارت خارجہ کے بیان میں کہا گیا کہ برطانوی حکومت جارحیت کی مذمت کرنے کے بجائے حملہ آوروں کا ساتھ دے رہی ہے، جبکہ حملوں میں کسی بھی قسم کی معاونت جارحیت اور جنگی جرائم میں شراکت داری کے مترادف ہے۔ اسلام ٹائمز۔ ایران کی وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ ایران پر حملوں کے لیے برطانوی فوجی اڈوں کا استعمال بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے چارٹر کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ ایرانی وزارت خارجہ کے بیان میں کہا گیا کہ برطانوی حکومت جارحیت کی مذمت کرنے کے بجائے حملہ آوروں کا ساتھ دے رہی ہے، جبکہ حملوں میں کسی بھی قسم کی معاونت جارحیت اور جنگی جرائم میں شراکت داری کے مترادف ہے۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ ایسے اقدامات ایران کے خلاف براہِ راست جارحیت میں شرکت تصور کیے جا سکتے ہیں، جس کے سنگین نتائج برآمد ہوں گے۔ ایرانی وزارت خارجہ نے واضح کیا کہ ایران اپنی خودمختاری، سلامتی اور علاقائی سالمیت کے دفاع کا حق محفوظ رکھتا ہے۔ وزارت خارجہ نے خبردار کیا کہ جو بھی ملک ایران پر حملوں میں مدد فراہم کرے گا، اسے اپنے اقدامات کے نتائج بھگتنا ہوں گے۔