لاہور ہائیکورٹ بار اور لاہور بار نے ججز سنیارٹی کیس کا فیصلہ چیلنج کر دیا
اشاعت کی تاریخ: 9th, July 2025 GMT
لاہور ہائیکورٹ بار اور لاہور بار نے سپریم کورٹ کے ججز سنیارٹی کیس کے فیصلے کو چیلنج کرتے ہوئے الگ الگ انٹراکورٹ اپیلیں دائر کر دی ہیں۔
ان اپیلوں میں 5 رکنی بینچ کے فیصلے کو کالعدم قرار دینے کی استدعا کی گئی ہے۔ اس کے ساتھ ہی اپیلوں میں اس فیصلے اور اس کے نتیجے میں ہونے والے اقدامات کو معطل کرنے کی بھی درخواست کی گئی ہے۔
اپیلوں میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ سپریم کورٹ کا یہ فیصلہ آئین اور طے شدہ عدالتی اصولوں کے خلاف ہے۔ دونوں بارز کا کہنا ہے کہ ججز کی سنیارٹی طے کرنے کا مسلمہ طریقہ کار موجود ہے اور یہ اصول آئین کے مطابق طے کیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیے اسلام آباد ہائیکورٹ کے 5 ججز نے سینیارٹی لسٹ کیخلاف سپریم کورٹ سے رجوع کرلیا
مزید یہ کہ دونوں بارز نے یہ بھی موقف اختیار کیا ہے کہ صدر مملکت کو سنیارٹی طے کرنے کی ہدایت کرنے کی آئین میں کوئی گنجائش نہیں ہے۔
واضح رہے کہ صدر مملکت آصف علی زرداری نے 29 جون کو سپریم کورٹ کے فیصلے کی روشنی میں اسلام آباد ہائیکورٹ کے ججز کی سنیارٹی طے کی تھی۔ انہوں نے اپنے فیصلے میں جسٹس سرفراز ڈوگر کو اسلام آباد ہائیکورٹ کا سینئر ترین جج ڈکلیئر کیا تھا۔
یہ فیصلہ سپریم کورٹ کے فیصلے کی روشنی میں کیا گیا ہے، جس کے بعد صدر مملکت نے جسٹس سرفراز ڈوگر سمیت دیگر 2 ججز کے تبادلوں کو بھی مستقل قرار دے دیا۔
یہ بھی پڑھیے صدرِ مملکت کی جانب سے اسلام آباد ہائیکورٹ کے ججز کی سینیارٹی کے تعین پر سینیئر وکلا کیا کہتے ہیں؟
صدر مملکت کے فیصلے کے بعد وزارت قانون نے اسلام آباد ہائیکورٹ کے ججز کی سنیارٹی کے حوالے سے نوٹیفکیشن جاری کیا۔ نوٹیفکیشن کے مطابق جسٹس سرفراز ڈوگر اسلام آباد ہائیکورٹ کے سینئر ترین جج بن گئے۔ سنییارٹی لسٹ میں جسٹس محسن اختر کیانی کا دوسرا اور جسٹس گل حسن اورنگزیب کا تیسرا نمبر ہوگیا۔
بعدازاں جوڈیشل کمیشن نے اسلام آباد ہائیکورٹ کے سینیئر ترین جج جسٹس سرفراز ڈوگر کو اسلام آباد ہائیکورٹ کا چیف جسٹس مقرر کردیا۔ گزشتہ روز انہوں نے اپنے عہدے کا حلف بھی اٹھا لیا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اسلام آباد ہائیکورٹ ججز سنیارٹی سپریم کورٹ لاہور ہائیکورٹ بار.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اسلام ا باد ہائیکورٹ ججز سنیارٹی سپریم کورٹ لاہور ہائیکورٹ بار اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس سرفراز ڈوگر کورٹ کے ججز سپریم کورٹ صدر مملکت کے فیصلے ججز کی
پڑھیں:
نیب کیسز کی مرکزی اپیلوں اور ضمانت کی درخواستوں کی سماعت سے متعلق سپریم کورٹ کا فیصلہ جاری کردیاگیا
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)نیب کیسز کی مرکزی اپیلوں اور ضمانت کی درخواستوں کی سماعت سے متعلق سپریم کورٹ کا فیصلہ جاری کردیاگیا۔
نجی ٹی وی چینل جیونیوز کے مطابق سپریم کورٹ نے کہا ہے کہ عدالتیں میڈیا کی پذیرائی یا عوامی مقبولیت کے کیلئے فیصلے نہیں کرسکتیں ،عدالت کا بنیادی فرض آئین اور قانون کے مطابق فیصلے کرنا ہے،قانون سے ہٹ کردائرہ اختیار کو اختیار کرنا یافرض کر لینا عدالتی اصولوں کے منافی ہے،عدالت نہ غیرقانونی دائرہ اختیار استعمال کر سکتی ہے، نہ قانونی دائرہ اختیار سے دستبردار ہو سکتی ہے،دائرہ اختیار کا تعین صرف آئین اور قانون کرتے ہیں۔
سندھ حکومت پولیس فورس کو جدید خطوط پر استوار کرنے کیلئے پرعزم ہے، وزیراعلیٰ سندھ
فیصلے میں کہا گیا ہے کہ آرٹیکل 175کے تحت ہر عدالت صرف وہی دائرہ اختیار استعمال کرسکتی ہے جو آئین یا قانون نے دیا ہو، آئین اور قانون کی مقررہ حدود سے تجاوز اختیارات سے ناجاز تجاوز کے مترادف ہے،دائرہ اختیار کے بغیر دیا گیا فیصلہ کالعدم اورغیرموثر ہوتا ہے،دائرہ اختیار کے بغیر فیصلے کو رم نان جوڈائس کے اصول کی زد میں آتے ہیں،ہر عدالت اپنے آئینی اور قانونی دائرہ اختیار کی پابند ہے،وفاقی آئینی عدالت اور سپریم کورٹ کے دائرہ ہائے اختیار الگ الگ ہیں،وفاقی آئینی عدالت اور سپریم کورٹ کے اختیارات ایک دوسرے پر حاوی نہیں ،وفاقی آئینی عدالت اور سپریم کورٹ ایک دوسرے کے اختیار میں مداخلت بھی نہیں کر سکتے۔
اداکارہ روما مائیکل اداکار شان بیگ سے شادی کے بندھن میں بندھ گئیں
عدالت نے کہاکہ ایک ہی مقدمے پردو متوازی عدالتی دائرہ ہائے اختیار قانون میں قابل قبول نہیں،ایک ہی مقدمے میں ضمانت سپریم کورٹ اوراپیل وفاقی آئینی عدالت میں نہیں چل سکتی،جہاں قانون اپیل کا حق فراہم نہ کرے وہاں فریق اپنے پسند سے نیا قانونی راستہ اختیار نہیں کرسکتا، قانون فورم شاپنگ یعنی پسند کی عدالت منتخب کرنے کے رجحان کی اجازت نہیں دیتا، صرف فریقین کی خواہش یا رضا مندی سے عدالت دائرہ اختیار استعمال نہیں کرسکتی،عدالت فریقین کی منشاء یا خواہش پر لامحدود دائرہ اختیار استعمال نہیں کر سکتی۔
آپریشن العزم ؛مستونگ کے علاقہ کھڈکوچہ میں کارروائی، فتنہ الہندوستان کے 4دہشتگرد ہلاک
مزید :