کال سینٹر کے نام پر فراڈ، ہنی ٹریپ کے ذریعے پیسے نکلوانے کا انکشاف
اشاعت کی تاریخ: 9th, July 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
فیصل آباد میں پکڑے گئے جعلی کال سینٹر فراڈ کیس کی ابتدائی تحقیقات نے ہوش اُڑا دینے والے انکشافات سے پردہ اٹھا دیا ہے۔
تحقیقات کے مطابق کال سینٹر کے ذریعے ایک منظم ہنی ٹریپ اسکیم چلائی جارہی تھی، جس میں خود کو خاتون ظاہر کر کے لوگوں سے دوستی کی جاتی، ان سے تصاویر کا تبادلہ کیا جاتا، اور پھر کیمرے پر کسی لڑکی سے بات کرا کر اعتبار حاصل کیا جاتا۔ جب شکار جال میں پھنس جاتا، تو اس کی ویڈیوز اور چیٹ کا استعمال کرکے اسے بلیک میل کیا جاتا اور رقم بٹوری جاتی۔
مزید انکشاف ہوا ہے کہ یہ گروہ یورپ اور دیگر ممالک میں آن لائن کاروبار کی جعلی ویب سائٹس چلا رہا تھا۔ ان ویب سائٹس پر صارفین کو کلک کرنے کے بدلے 1000 سے 1500 روپے کا لالچ دیا جاتا، لیکن کچھ وقت بعد ان سے سرمایہ کاری بھی کروائی جاتی، جس کے بعد نقصان ظاہر کر کے ان کی رقم ہضم کر لی جاتی۔
ذرائع کے مطابق اس فراڈ نیٹ ورک کا مرکز فیسکو (FESCO) کے سابق چیئرمین کی ملکیت ایک عمارت تھی۔ چھاپے کے دوران برآمد ہونے والی دستاویزات سے معلوم ہوا کہ وہی شخص کال سینٹر کا مالک تھا، اور اس نے کئی ملازمین کو باقاعدہ معاہدے کے تحت بھرتی کیا ہوا تھا۔
یہ کیس نہ صرف مالیاتی جرائم کا ایک سنگین نمونہ ہے بلکہ اس بات کی بھی نشاندہی کرتا ہے کہ کس طرح اعلیٰ عہدوں پر فائز افراد بھی جرائم میں ملوث ہو سکتے ہیں۔ مزید تحقیقات جاری ہیں اور عوامی حلقوں میں مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ ذمہ داروں کو نشانِ عبرت بنایا جائے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: کال سینٹر
پڑھیں:
واپڈا صارفین کے لیے خوشخبری، جون میں 20 پیسے فی یونٹ ریلیف برقرار
اسلام آباد،بجلی صارفین(awais laghari) کے لیے اچھی خبر سامنے آئی ہے کیونکہ جون 2026 کے دوران صارفین کو فی یونٹ 20 پیسے کا خالص ریلیف ملے گا جبکہ بجلی کی مجموعی قیمتوں میں کوئی اضافہ نہیں ہوگا۔
حکومتی ذرائع کے مطابق اس ریلیف کے نتیجے میں جون 2026 کے بجلی نرخ جنوری سے مئی 2026 کے مقابلے میں برقرار رہیں گے اور صارفین پر کوئی اضافی مالی بوجھ نہیں پڑے گا۔
پس منظر میں اپریل 2026 کے دوران عالمی توانائی منڈی کو شدید دباؤ کا سامنا رہا۔ ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی کے باعث آر ایل این جی کی قلت پیدا ہوئی جبکہ برینٹ خام تیل کی قیمت 70 ڈالر فی بیرل سے بڑھ کر 120 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی۔
ماہرین کے مطابق اگر بروقت اقدامات نہ کیے جاتے تو صارفین پر 5 سے 6 روپے فی یونٹ تک اضافی بوجھ پڑ سکتا تھا۔حکومت نے صورتحال سے نمٹنے کے لیے محدود لوڈ مینجمنٹ، مارکیٹوں کی جلد بندش، مقامی گیس کی اضافی فراہمی اور فرنس آئل کے محدود استعمال سمیت متعدد اقدامات کیے۔
، جس کے نتیجے میں فیول ایڈجسٹمنٹ کا اثر صرف 1.73 روپے فی یونٹ تک محدود رہا۔ حکام کا کہنا ہے کہ ان اقدامات سے تقریباً 38 ارب روپے کا ممکنہ اضافی بوجھ صارفین پر منتقل ہونے سے بچ گیا۔
دوسری جانب بہتر انتظامی اصلاحات، لائن لاسز میں کمی، بجلی کی طلب میں اضافے اور مختلف ٹیرف پیکیجز کے مثبت اثرات کے باعث سہ ماہی ایڈجسٹمنٹ میں 1.93 روپے فی یونٹ کمی ہوئی۔
مزید پڑھیں:وفاقی کابینہ، ادویات ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم نفاذ کی باقاعدہ منظوری دے دی
جس سے صارفین کو مجموعی طور پر 65 ارب روپے کا فائدہ پہنچا۔حکومت کا مؤقف ہے کہ توانائی کے شعبے میں بروقت فیصلوں اور مؤثر انتظامی حکمت عملی کے باعث عالمی اور علاقائی چیلنجز کے باوجود بجلی صارفین کو بڑے مالی بوجھ سے محفوظ رکھا گیا۔