کیش ٹرانزیکشنز پر نیا ٹیکس لاگو ”بینکوں میں پیسے جمع کروانے والے صارفین خبردار ہو جائیں
اشاعت کی تاریخ: 9th, July 2025 GMT
لاہور( نیو زڈیسک)فیڈرل بورڈ آف ریو نیو نے 2 لاکھ روپے سے زائد کی کیش ٹرانزیکشنز کو ہائی رسک قرار دے کر نگرانی کا عمل مزید سخت کر دیا،فنانس ایکٹ 2025 کے تحت کیش ٹرانزیکشنز پر نئی پابندیاں عائد کر دی گئیں۔میڈیا رپورٹ کے مطابق2 لاکھ روپے سے زائد کیش جمع کروانے پر خودکار ٹریسنک کی جائے گی، 2 لاکھ روپے سے زائد کیش جمع کروانے پر 20.
ایک ہی ٹرانزیکشن میں 2 لاکھ سے زائد کیش جمع کرانے پر رقم سے لیجر میں کریڈٹ بھی نہیں ہوگی، ٹیکس قوانین کی خلاف ورزی پر ایف بی آر خودکار سسٹم سے نگرانی کرے گا۔مشکوک کیش ٹرانزیکشنز پر متعلقہ بینک ایف بی آر کو رپورٹ بھی کر سکے گے، 2 لاکھ سے زائد رقم پر جمع کنندہ سے ثبوت اور وضاحت بھی طلب کی جا سکتی ہے،ایف بی آر کا ہائی رسک ٹرانزیکشنز پر سخت ٹریکنگ سسٹم نافذ کردیا گیا۔
مزیدپڑھیں:عالمی اور مقامی مارکیٹ میں سونے کی قیمت میں بڑی کمی ریکارڈ
ذریعہ
ذریعہ: Daily Ausaf
کلیدی لفظ: کیش ٹرانزیکشنز ٹرانزیکشنز پر سے زائد کی
پڑھیں:
رواں ماہ بجلی صارفین کو کتنا ریلیف ملے گا؟ پاور ڈویژن نے بتا دیا
اسلام آباد(نیوز ڈیسک)پاور ڈویژن کا کہنا ہے کہ جون 2026 میں بجلی صارفین کو 20 پیسے فی یونٹ ریلیف ملے گا۔ ترجمان پاور ڈویژن کے مطابق سہ ماہی ایڈجسٹمنٹ کی مد میں 1.93 روپے فی یونٹ کمی کا فائدہ صارفین کو منتقل کیا جا رہا ہے۔
ترجمان نے بتایا کہ ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ کے تحت اگرچہ 1.73 روپے فی یونٹ اضافہ ہوا ہے، تاہم اس کے باوجود مجموعی طور پر صارفین کو بجلی سستی فراہم کی جا رہی ہے۔
پاور ڈویژن کے مطابق جون 2026 میں بجلی کے نرخ جنوری تا مئی 2026 کی سطح پر ہی برقرار رہیں گے۔
حکومتی مؤقف کے مطابق اس فیصلے سے صارفین پر کسی بڑے اضافی بوجھ کو منتقل نہیں ہونے دیا گیا۔
ترجمان نے مزید بتایا کہ حکومت نے مؤثر حکمت عملی کے ذریعے صارفین کو 38 ارب روپے کے ممکنہ اضافی بوجھ سے بچایا ہے جبکہ سہ ماہی ایڈجسٹمنٹ کی مد میں 65 ارب روپے کا ریلیف براہِ راست صارفین کے حق میں منتقل کیا گیا ہے۔
پاور ڈویژن کا مزید کہنا ہے کہ مجموعی اقدامات کے نتیجے میں بجلی نرخوں میں بڑا اضافہ ٹل گیا ہے اور صارفین کو وقتی طور پر ریلیف فراہم کیا گیا ہے۔
مزید پڑھیں۔اسلام آباد میں دکانوں اور کاروباری مراکز کے اوقات میں توسیع، نیا شیڈول جاری