اسلام آباد(نیوز ڈیسک) فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے فنانس ایکٹ 2025 کے تحت 1 جولائی سے نقد کاروباری لین دین پر 20.5 فیصد ٹیکس نافذ کردیا ہے۔ یہ ٹیکس اُن نان فائلرز پر لاگو ہوگا جو 2 لاکھ روپے سے زائد کی نقد ادائیگی کرتے ہیں۔

سرکاری اعلامیے کے مطابق یہ قدم ٹیکس نیٹ کو وسعت دینے، ٹیکس آمدن بڑھانے اور معیشت کو دستاویزی شکل دینے کے لیے اٹھایا گیا ہے۔

ایف بی آر حکام کے مطابق یہ ٹیکس صرف کاروباری نوعیت کی لین دین پر عائد ہوگا۔ تنخواہیں، جائیداد کی آمدنی، زرعی خرید و فروخت، اور کیپیٹل گینز اس قانون سے مستثنیٰ ہوں گے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اس اقدام سے غیر رجسٹرڈ کاروباری سرگرمیوں پر کنٹرول میں بہتری آئے گی جبکہ نان فائلرز کو ٹیکس نیٹ میں لانے میں بھی مدد ملے گی۔ کاروباری حلقوں میں اس فیصلے پر ملی جلی آراء سامنے آئی ہیں، کچھ تاجروں نے اسے معیشت کے لیے سودمند قرار دیا جبکہ دیگر نے خدشہ ظاہر کیا کہ اس سے کاروباری لاگت میں اضافہ ہوگا۔

ایف بی آر نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ جلد از جلد ٹیکس فائلر بنیں تاکہ اضافی ٹیکس بوجھ سے بچا جا سکے۔

Post Views: 3.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: ایف بی آر

پڑھیں:

بجٹ 2026-27: وزیراعظم کی صنعتکاروں سے مشاورت، برآمدات اور سرمایہ کاری بڑھانے پر زور

اویس کیانی: وزیراعظم شہباز شریف نے ملک کے معروف صنعتکاروں اور کاروباری رہنماؤں سے ملاقات کرتے ہوئے آئندہ مالی سال 2026-27 کے بجٹ، معاشی استحکام اور سرمایہ کاری کے فروغ سے متعلق اہم مشاورت کی۔

ملاقات میں ملک کی بڑی کاروباری شخصیات نے شرکت کی جبکہ وزیراعظم نے کاروباری برادری کو ملکی معیشت کا اہم ستون قرار دیتے ہوئے کہا کہ حکومت اور نجی شعبے کے درمیان مضبوط شراکت داری ہی پائیدار معاشی ترقی کی ضمانت ہے۔

پاکستان آسٹریلیا دوسرا ون ڈے، قذافی اسٹیڈیم میں سیکیورٹی و ٹریفک انتظامات مکمل

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ حکومت کی معاشی پالیسی کا بنیادی محور برآمدات میں اضافہ، صنعتی ترقی اور سرمایہ کاری کا فروغ ہے۔ انہوں نے کہا کہ غیر رسمی معیشت کو ٹیکس نیٹ میں لانے، کاروباری سرگرمیوں کو آسان بنانے اور عوام کو ریلیف فراہم کرنے کیلئے بجٹ میں مختلف اقدامات شامل کیے جا رہے ہیں۔

شہباز شریف نے کہا کہ کاروبار دوست پالیسیوں کے باعث ملکی معیشت میں استحکام آیا ہے اور بیرونی سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال ہوا ہے۔ حکومت ایسی صنعتوں کی حوصلہ افزائی کر رہی ہے جو پیداوار، برآمدات اور روزگار کے مواقع میں اضافہ کر سکیں۔

غیر ملکی خاتون کے مبینہ اغوا کیس میں نیا موڑ، پولیس تفتیش میں اہم انکشافات

اجلاس کے دوران کاروبار، صنعت اور تجارت کے فروغ کیلئے حکومتی اقدامات پر بریفنگ بھی دی گئی۔ شرکاء کو بتایا گیا کہ ٹیکس مقدمات کے فوری فیصلوں کیلئے اصلاحات متعارف کرائی گئی ہیں جبکہ خصوصی کمرشل کورٹس کے قیام پر بھی کام جاری ہے۔

بریفنگ میں کراچی بندرگاہوں سے اندرون ملک رسائی بہتر بنانے، موٹرویز کی اپ گریڈیشن، ریلوے انفراسٹرکچر کی بہتری اور نیشنل اے آئی ٹرانسفارمیشن پلان سے متعلق پیش رفت سے بھی آگاہ کیا گیا۔

 نجی کمپنیاں گندم کے مقابلے میں آٹا دوگنی قیمت پر فروخت کرنے لگیں، کارروائی کا مطالبہ

کاروباری رہنماؤں نے معاشی بحالی، ٹیکس اصلاحات، ڈیجیٹل ادائیگیوں کے فروغ اور سرمایہ کاری دوست ماحول کی فراہمی پر وزیراعظم اور حکومتی ٹیم کی کاوشوں کو سراہا۔ وفد نے بجلی کے نرخوں میں کمی، ٹیکس ریفنڈز کی بروقت ادائیگی اور کاروباری آسانیوں کے اقدامات پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے حکومت کے ساتھ مکمل تعاون جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا۔

شرکاء نے آئندہ بجٹ کی تیاری میں کاروباری برادری کو اعتماد میں لینے کے اقدام کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے معاشی ترقی، صنعتی توسیع اور برآمدات میں اضافے کیلئے اپنی تجاویز بھی پیش کیں۔

 آزاد کشمیر:تعلیمی اداروں میں گرمیوں کی چھٹیوں کا اعلان

متعلقہ مضامین

  • بجٹ 2026-27: وزیراعظم کی صنعتکاروں سے مشاورت، برآمدات اور سرمایہ کاری بڑھانے پر زور
  • بجٹ میں عوام کو ریلیف دینے کیلئے پر عزم ہیں،وزیراعظم
  • مشکل معاشی حالات میں حکومت کا ساتھ دینے پر کاروباری برادری کا شکریہ،حکومت اور نجی شعبے کی مضبوط شراکت داری معاشی ترقی کی ضمانت ہے، وزیراعظم
  • بجٹ میں عوام کو ریلیف دینے کیلیے اقدامات کر رہے ہیں، وزیراعظم
  • کاروباری رہنماؤں کا حکومتی معاشی پالیسیوں پر اعتماد، تعاون جاری رکھنے کا عزم
  • وزیراعظم کی معروف صنعتکاروں، ممتاز کاروباری شخصیات سے ملاقات، پالیسی سازی، بجت سے متعلق مشاورت
  • مہنگائی کے دباؤ میں مزدوروں کو ریلیف دینے کی سفارش، کم از کم تنخواہ میں 12.5 فیصد اضافے کی تجویز
  • حکومت نے 11 ماہ میں عوام اور کاروباری اداروں کی جیبوں سے سوا 11 ہزار ارب روپے کا ٹیکس نکال لیا
  • 27 مئی تا یکم جون عید تعطیلات، ریلوے کی آمدن میں خاطرہ خواہ اضافہ
  • چیزیئس سے 40 لاکھ روپے کی ریکوری، فروخت کے اعداد و شمار میں فرق سامنے آگیا