ایک اور الیکٹرک کار پاکستان آنے کو تیار
اشاعت کی تاریخ: 9th, July 2025 GMT
پاکستان میں الیکٹرک وہیکل مارکیٹ میں کیپیٹل اسمارٹ موٹرز جلد ہی مکمل طور پر الیکٹرک JMEV Elight سیڈان متعارف کروانے جا رہی ہے۔
کمپنی سوشل میڈیا پر اس کار کی تشہیر کر رہی ہے۔ حالیہ پوسٹس میں اسے ایک کوپ اسٹائل گاڑی قرار دیا گیا ہے جس کا فیوچرسٹک خاکہ ہے اور یہ وعدہ کیا گیا ہے کہ یہ جلد پاکستان آ رہی ہے۔
Elight اپنی انتہائی خوبصورت ڈیزائن، ایروڈائنامک باڈی جس کا ڈریگ کو ایفیشنٹ صرف Cd 0.
JMEV کی ویب سائٹ پر درج بین الاقوامی خصوصیات کے مطابق Elight میں مندرجہ زیل خصوصیات شامل ہیں۔
ایڈاپٹو ایل ای ڈی ہیڈلیمپس، جو خودکار ہائی/لو بیم ایڈجسٹمنٹ کی صلاحیت رکھتے ہیں
ریٹریکٹ ایبل (خودکار بند ہونے والے) برقی دروازوں کے ہینڈلز
ہلکی وزن کی اسٹیل-ایلومینیم ہائبرڈ باڈی جو کارکردگی اور حفاظت کو بہتر بناتی ہے
یاد رہے کہ یہ کار ان شہری صارفین کے لیے ایک آئیڈیل انتخاب سمجھی جا رہی ہے جو پاکستان میں صاف، مؤثر اور اسٹائلش سواری کی تلاش میں ہیں۔
یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ کیپیٹل اسمارٹ موٹرز نے اپریل 2025 میں چینی آٹو موٹیو جائنٹ جیلی کے ساتھ ایک مفاہمتی یادداشت (MoU) پر دستخط کیے جو پاکستان میں پریمیم نیو انرجی وہیکل (NEV) برانڈز لانے کے لیے اسٹریٹجک شراکت داری کا آغاز ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: رہی ہے
پڑھیں:
’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ ایران پر اب تک کے سب سے بڑے فوجی حملے کی منظوری دینے کے قریب ہیں۔
امریکی خبر رساں ادارے سے گفتگو میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ میں ایران پر ایک بہت بڑے حملے پر غور کر رہا ہوں جو پہلے ہونے والے تمام حملوں سے کہیں بڑا ہوگا۔
انھوں نے مزید کہا کہ اگرچہ ابھی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا۔ تمام عسکری آپشنز زیر غور ہیں۔ میں فیصلہ کرنے کے بہت قریب ہوں اور اس کی تمام تیاریاں بھی مکمل ہیں۔
امریکی صدر ٹرمپ نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ اگر وہ چاہیں تو اسرائیل دو منٹ میں اس کارروائی میں شامل ہو جائے گا تاہم ہمیں کسی کی ضرورت نہیں۔
قبل ازیں ایران کے حمایت یافتہ یمنی حوثیوں کے بحیرہ احمر میں دو سعودی آئل ٹینکروں پر حملے کے بعد امریکی صدر نے ایران اور حوثیوں دونوں کو بڑی فوجی سزا دینے کی دھمکی بھی دی تھی۔
صدر ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر لکھا تھا کہ اگر حوثیوں نے دوبارہ ایسے حملے کیے تو امریکا انھیں ایران کی کارروائی تصور کرے گا کیونکہ حوثی اس کے حمایت یافتہ گروہ ہیں۔
دوسری جانب مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث عالمی منڈی میں برینٹ خام تیل کی قیمت ایک بار پھر 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرچکی ہے۔
بحیرہ احمر اور باب المندب میں جہاز رانی کو لاحق خطرات نے عالمی توانائی منڈی میں تشویش بڑھا دی ہے۔
ادھر اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے نے کہا کہ صورتحال قابو سے باہر ہوتی جا رہی ہے۔ خطہ مسلسل وسیع ہوتے تصادم کی لپیٹ میں آ رہا ہے۔ ایک بحران دوسرے بحران کو جنم دے رہا ہے اور ہر نئی کشیدگی اگلی کشیدگی کا سبب بن رہی ہے۔