سینیٹ انتخابات،پی ٹی آئی میں اختلافات کھل کر سامنے آگئے
اشاعت کی تاریخ: 10th, July 2025 GMT
سینیٹ انتخابات سے قبل پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) خیبرپختونخوا میں اختلافات کھل کر سامنے آگئے۔
پارٹی ذرائع کے مطابق وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈا پور کی جانب سے اراکین صوبائی اسمبلی کو مشعال یوسفزئی کے کاغذات نامزدگی پر دستخط نہ کرانے کے باوجود 2 اراکین صوبائی اسمبلی شکیل خان اور طارق اریانی نے مشعال یوسفزئی کے سینیٹ کے کاغذات نامزدگی پر دستخط کر دیے۔
وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا نے اراکین اسمبلی کو مشعال یوسفزئی کے نام پر دستخط کرنے سے سختی سے روکا تھا اور واضح طور پر کہا تھا کہ پارٹی پالیسی کے تحت ان کے کاغذاتِ نامزدگی پر کوئی دستخط نہ کرے۔
باوجود اس کے مشعال یوسفزئی نے سینیٹ کے لیے اپنے کاغذاتِ نامزدگی الیکشن کمیشن میں جمع کرا دیے ہیں، کاغذات پر ایم پی اے شکیل احمد خان تجویز کنندہ جبکہ طارق اریانی تائید کنندہ کے طور پر سامنے آئے ہیں۔
شکیل احمد خان کی مبینہ ”ہٹ دھرمی“ پر وزیراعلیٰ نے انہیں صوبائی کابینہ سے برطرف کر دیا، پارٹی کے اندر اس صورتحال سے سیاسی دراڑیں مزید گہری ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
99 ووٹ لے کر بنگلہ دیش نے دنیا کو حیران کردیا، اقوام متحدہ جنرل اسمبلی کی صدارت جیت لی
بنگلا دیش کے وزیر خارجہ خالد الرحمان اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81 ویں اجلاس (2026-2027) کے لیے صدر منتخب ہوگئے ہیں۔ انہوں نے ایک سخت اور قریبی مقابلے میں قبرص کے امیدوار آندریاس ایس کاکورس کو شکست دی۔
193 رکنی اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں ہونے والی رائے شماری میں خالد الرحمان نے 99 ووٹ حاصل کیے جبکہ ان کے حریف آندریاس کاکورس کو 91 ووٹ ملے۔ انتخاب میں کوئی رکن ملک غیر حاضر یا غیر جانبدار نہیں رہا۔ کامیابی کے لیے 96 ووٹ درکار تھے۔
اقوام متحدہ کے قواعد کے مطابق جنرل اسمبلی کے صدر کا انتخاب ہر سال تمام رکن ممالک کی خفیہ رائے شماری کے ذریعے کیا جاتا ہے اور ہر ملک کو ایک ووٹ کا حق حاصل ہوتا ہے۔
اگرچہ یہ انتخاب باضابطہ طور پر مسابقتی ہوتا ہے، تاہم عمومی طور پر مختلف علاقائی گروپوں کے درمیان باری باری صدارت کا اصول اپنایا جاتا ہے۔
81 ویں اجلاس کے لیے ایشیا پیسیفک گروپ کو امیدوار نامزد کرنے کا حق حاصل تھا، جس کے نتیجے میں بنگلہ دیش اور قبرص کے حمایت یافتہ امیدواروں کے درمیان مقابلہ ہوا۔
خالد الرحمان ستمبر 2026 میں جنرل اسمبلی کے 81 ویں اجلاس کے آغاز پر اپنے عہدے کا باضابطہ چارج سنبھالیں گے اور ایک سال تک اس منصب پر فائز رہیں گے۔ اس دوران وہ جنرل اسمبلی کے اجلاسوں کی صدارت، عالمی مسائل پر مباحثے کی نگرانی اور رکن ممالک کے درمیان مذاکرات کو آگے بڑھانے کی ذمہ داری ادا کریں گے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق یہ کامیابی عالمی سفارت کاری میں بنگلا دیش کے بڑھتے ہوئے کردار کی عکاسی کرتی ہے۔ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی صدارت کو ایک اہم سفارتی منصب سمجھا جاتا ہے جو عالمی امن، ترقی، ماحولیاتی تبدیلی اور اقوام متحدہ کی اصلاحات جیسے اہم معاملات پر اثر انداز ہونے کا موقع فراہم کرتا ہے۔
دوسری جانب پاکستان کے نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے خالد الرحمان کو کامیابی پر مبارکباد دی۔ انہوں نے سوشل میڈیا پر اپنے پیغام میں کہا کہ خالد الرحمان کا وسیع سفارتی تجربہ اور کثیرالجہتی تعاون کے لیے ان کی وابستگی جنرل اسمبلی کی مؤثر قیادت میں اہم کردار ادا کرے گی۔
Heartiest felicitations to my dear brother, H.E. Dr. Khalilur Rahman, Foreign Minister of Bangladesh on his election as President of the 81st Session of the UN General Assembly.
Having had closely engaged with him, I am confident that his vast diplomatic experience and steadfast…
اسحاق ڈار نے امید ظاہر کی کہ اقوام متحدہ میں دونوں ممالک کے درمیان تعاون مزید مضبوط ہوگا اور عالمی امن، پائیدار ترقی اور بین الاقوامی مکالمے کے فروغ کے لیے مشترکہ کوششیں جاری رہیں گی۔