Jasarat News:
2026-07-24@04:22:17 GMT

PTCLانتظامیہ اور CBAیونین کی ڈیمانڈ پر دستخط کی تقریب

اشاعت کی تاریخ: 3rd, November 2025 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

طویل انتظار کے بعد وہ لمحہ آیا جب پی ٹی سی ایل انتظامیہ نے پی ٹی سی ایل ورکرز اتحاد فیڈریشن پاکستان CBA کے ساتھ چارٹر آف ڈیمانڈ پر دستخط کرنے کی تقریب ہیڈکوارٹرز میں منعقد کی۔ جس میں پورے ملک سے CBA سینٹرل کونسل کے اراکین کے ساتھ ساتھ یونین کے ریجنل رہنماؤں نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ ہال اپنی گیلری سمیت کارکنان سے بھرا ہوا تھا۔ یاد رہے کہ 2023 میں ریفرینڈم کے ذریعے پی ٹی سی ایل ورکرز اتحاد فیڈریشن پاکستان نے اجتماعی سودا کاری کا سرٹیفکیٹ حاصل کیا تھا۔ اس وقت سے اب تک مذاکرات ، تنازعات ، NIRC کی ثالثی پھر مذاکرات اور پھر بورڈ آف ڈائریکٹرز کی منظوری۔ ان تمام مراحل سے گزر کر دونوں فریق آج اس تاریخی مرحلے پر پہنچے تھے۔ صبح سے یونین لیڈرز مرکزی یونین آفس میں جمع ہورہے تھے۔ نعروں کی گونج میں سیکرٹری جنرل
حافظ لطف اللہ خان ،صدر ضیاء الدین اور چیئرمین سردار اورنگزیب اپنی سنٹرل کونسل ارکان اور سیکڑوں حمایتیوں کے ہمراہ آڈیٹوریم میں داخل ہوئے۔ وہاں پر موجود لوگوں نے یونین لیڈرز کا پرتپاک استقبال کیا۔ نظامت کے فرائض ڈاریکٹر انڈسٹریل ریلیشنز محمد فرقان سر انجام دے رہے تھے۔ تلاوت قرآن پاک سے تقریب کا آغاز کیا گیا۔ تقریب سے مینجمنٹ کی طرف سے ایڈوائزر ٹو پی ٹی سی ایل پریزیڈنٹ مظہر حسین، گروپ ایچ آر چیف عمر فرید، وائس پریذیڈنٹ آئی آر عمران فضل نے خطاب کیا جبکہ CBA کی طرف سے سیکرٹری جنرل حافظ لطف اللہ خان، صدر ضیاء الدین اور چیئرمین سردار اورنگزیب نے خطاب کیا۔ اس کے بعد دستخط کی تقریب منعقد ہوئی۔ مینجمنٹ کی طرف سے وائس پریذیڈنٹ آئی آر عمران فضل اور سیکرٹری جنرل CBA حافظ لطف اللہ نے مفاہمت کی دستاویز پر دستخط کیے اور فائلز کا تبادلہ کیا۔ اس موقع پر CBA کے رہنماؤں نے ملازمین کے ساتھ اپنی گفتگو میں کہا کہ ہم ملازمین کی بہتری کے لیے اپنی جہدوجہد جاری رکھیں گے۔

 

وحید حیدر شاہ گلزار.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: پی ٹی سی ایل

پڑھیں:

پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ مضبوط معاشی شراکت داری قائم کرنا چاہتا ہے، عرفان سومرو

وزارت خارجہ کے ڈائریکٹر جنرل عرفان سومرو نے کہا ہے کہ تجارتی ڈپلومیسی حکومت پاکستان کی خارجہ پالیسی کا بنیادی ستون ہے اور پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ محض تجارتی حجم بڑھانے کا خواہاں نہیں بلکہ مضبوط اور پائیدار معاشی شراکت داری قائم کرنا چاہتا ہے۔

فیڈریشن ہاؤس کراچی میں فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (ایف پی سی سی آئی) کے زیر اہتمام ڈی ایٹ چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (D-8 CCI) کی پاکستان نیشنل کمیٹی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے دائریکٹر جنرل وزارت خارجہ عرفان سومرو نے کہا کہ ڈی ایٹ کے قیام کو تین دہائیاں گزر چکی ہیں، اب وقت آ گیا ہے کہ اس وژن کو عملی اقدامات میں تبدیل کیا جائے۔

ان کا کہنا تھا کہ ڈی ایٹ ممالک کی مشترکہ معیشت تقریباً 5 ہزار ارب ڈالر پر مشتمل ہے اور ایک ارب سے زائد آبادی مشرق بعید سے افریقہ تک پھیلی ہوئی ہے، جو باہمی تجارت اور سرمایہ کاری کے بے شمار مواقع فراہم کرتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ زراعت، معدنیات، سیاحت اور نوجوان افرادی قوت ڈی ایٹ ممالک کے اہم اثاثے ہیں، تاہم مختلف مفاہمتی یادداشتوں (ایم او یوز) پر مؤثر عمل درآمد نہ ہونے کے باعث رکن ممالک اپنی حقیقی معاشی صلاحیت سے بھرپور فائدہ نہیں اٹھا پا رہے۔

ڈی جی وزارت خارجہ کے مطابق پاکستان کی ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ سالانہ تجارت تقریباً 11 ارب ڈالر ہے، جس میں 8 ارب ڈالر درآمدات جبکہ 2.8 ارب ڈالر برآمدات شامل ہیں، اس عدم توازن کو کم کرنے اور برآمدات میں اضافے کی ضرورت پر زور دیا۔

عرفان سومرو نے کہا کہ پاکستان کی بندرگاہیں اور نوجوان آبادی ملکی معیشت کے لیے قیمتی اثاثہ ہیں، کاروباری برادری پر زور دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہ پاکستانی سفارت خانوں کے ساتھ روابط بڑھائے تاکہ نئی منڈیوں تک رسائی اور سرمایہ کاری کے مواقع سے فائدہ اٹھایا جا سکے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت بین الاقوامی معاہدے اور سازگار پالیسی فریم ورک فراہم کر سکتی ہے، تاہم تجارت اور سرمایہ کاری کو فروغ دینا نجی شعبے کی ذمہ داری ہے، اس سلسلے میں ایف پی سی سی آئی کا کردار انتہائی اہم ہے۔

ڈائریکٹر جنرل وزارت خارجہ نے خواتین اور نوجوان کاروباری افراد پر زور دیا کہ وہ علاقائی تجارت اور اقتصادی سرگرمیوں میں بھرپور کردار ادا کریں، پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔

اس موقع پر ایف پی سی سی آئی کے صدر عاطف اکرام شیخ نے قاہرہ میں منعقدہ چوتھی ڈی ایٹ ٹریڈ منسٹر کونسل کے فیصلوں کا خیرمقدم کرتے ہوئے استنبول میں ترکیہ کی تنظیم TOBB کی سرپرستی میں ڈی ایٹ چیمبرز کے مستقل سیکرٹریٹ کے قیام کو اہم پیش رفت قرار دیا۔

ڈی ایٹ سیکریٹری جنرل سہیل محمود نے اپنے خصوصی پیغام میں رکن ممالک پر زور دیا کہ وہ حلال معیشت، مالیاتی انضمام اور علاقائی تجارت کے مواقع سے بھرپور فائدہ اٹھائیں۔

ایف پی سی سی آئی کے سینئر نائب صدر ثاقب فیاض مگوں نے کہا کہ ڈی ایٹ ممالک کے درمیان اندرونی تجارت میں نمایاں اضافہ وقت کی اہم ضرورت ہے اور فیڈریشن پریفرینشل ٹریڈ ایگریمنٹ (پی ٹی اے) کو ناگزیر سمجھتی ہے۔

اجلاس میں انڈونیشیا، ترکیہ، ایران، مصر، ملائیشیا، نائجیریا، آذربائیجان اور بنگلہ دیش کے قونصل جنرلز، سینئر سفارت کاروں، ایف پی سی سی آئی کے نائب صدور امان پراچہ، آصف سخی، سابق صدر زبیر طفیل، سابق نائب صدور خالد تواب، حنیف گوہر، شبیر منشا، ناہید مسعود، نازلی عابد، ماہین خان اور دیگر کاروباری رہنماؤں نے بھی شرکت کی۔

متعلقہ مضامین

  • ارشد ندیم کی قیادت میں پاکستانی دستے کی کامن ویلتھ گیمز کی رنگا رنگ افتتاحی تقریب میں شاندار شرکت
  • علماء کا سرویکل کینسر سے بچاؤ کی مہم میں محکمہ صحت کے ساتھ تعاون کا اعلان 
  • سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی
  • ایک ’’غدارِ وطن‘‘ کی سوانح عمری
  • پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ مضبوط معاشی شراکت داری قائم کرنا چاہتا ہے، عرفان سومرو
  • اداکار شان بیگ اور روما مائیکل رشتۂ ازدواج میں منسلک، مداحوں کو خوشخبری سنا دی
  • نیشنل اسپیشل گیمز: کراچی میں  فٹبال ٹورنامنٹ کے بعد اختتامی تقریب کا انعقاد
  • ’مضبوط رہیں‘، ریپر طلحہ انجم کا بھارتی طلبا کے ساتھ اظہارِ یکجہتی
  • یورپی یونین کا گوگل پر 89 کروڑ یورو جرمانہ، سرچ انجن پر اجارہ داری کے غلط استعمال کا الزام
  • سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور اس کی پاسداری کریں گے: پاکستان