پشاور: ثمر بلور کے (ن) لیگ کی جانب سے 2 مخصوص خالی نشستوں پر کاغذات نامزدگی جمع
اشاعت کی تاریخ: 10th, July 2025 GMT
پشاور(ڈیلی پاکستان آن لائن)عوامی نیشنل پارٹی (اے این پی) کو چھوڑ کر مسلم لیگ (ن) میں شامل ہونے والی ثمر بلور نے قومی اسمبلی کے لیے خواتین کی 2 مخصوص خالی نشستوں کے لیے مسلم لیگ (ن) کی جانب سے کاغذات نامزدگی جمع کر ا دیے ہیں، سابق رکن صوبائی اسمبلی جمشید مہمند کی اہلیہ نے بھی کاغذات نامزدگی جمع کرا دیے۔
ڈان نیوز کے مطابق پشاور میں الیکشن کمیشن کے دفتر کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ثمر بلور نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) کے ساتھ بہت عرصہ سے بات چیت ہورہی تھی، یہ ایک رات کا فیصلہ نہیں تھا، بلکہ ایک سال سے بات چیت چل رہی تھی۔
انہوں نے مزید کہا کہ اپنے شہر کے لیے کچھ کرنا چاہتی ہوں، جو لوگ پشاور پر مسلط کیے گئے، وہ لوٹ کھسوٹ میں مصروف ہیں۔
گزشتہ روز وزیراعظم سے ملاقات کے بعد مسلم لیگ (ن) کا حصہ بننے والی ثمر بلور نے کہا کہ غلام احمد بلور ہمارے خاندان کے سربراہ ہیں، غلام احمد بلور نے عملی سیاست سے کنارہ کشی اختیار کی تو اس کے بعد ن لیگ میں شمولیت کا فیصلہ کیا۔
ان کا کہنا تھا کہ اے این پی اور اس کی قیادت میرے لیے قابل احترام ہیں، آج ہارون بلور کی برسی ہے، ہم اپنے شہدا کو دل میں لیے پھرتے ہیں۔
ثمر بلور نے مزید کہا کہ خیبر پختونخوا حکومت کے نام پر سرکس چل رہا ہے، آئندہ انتخابات میں پشاور کے آبائی حلقے سے ہی (ن) لیگ کے ٹکٹ پر حصہ لوں گی۔
ریاست مزید نوکریاں نہیں دے سکتی، حکومت کا سرکاری اداروں کی نجکاری کا عندیہ
مزید :.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
کلیدی لفظ: ثمر بلور نے مسلم لیگ کہا کہ
پڑھیں:
سپریم کورٹ: اے پی ایس شہداء لواحقین کو پیکیج نہ ملنے پر وفاقی حکومت سے جواب طلب
فائل فوٹوسپریم کورٹ نے اے پی ایس شہداء لواحقین کو پیکیج نہ ملنے پر وفاقی حکومت سے جواب طلب کرلیا۔
کیس کی سماعت جسٹس محمد علی مظہر کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کی، جسٹس عرفان سعادت نے کہا کہ درخواست 25 دن تاخیر سے دائر کی گئی۔
پشاور ہائیکورٹ فیصلے پر توہین عدالت کی درخواست شہداء کےلواحقین کی جانب سے دائر کی گئی تھی، پشاور ہائیکورٹ نے توہین عدالت کی درخواست خارج کردی تھی۔
درخواست گزار کے وکیل نے کہا کہ شہداء کے لواحقین کو اعلان کردہ پیکیج نہیں ملا۔
جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ اگر کوئی پیکیج ملا ہے تو سب کو دیں، وفاقی حکومت بتائے کہ پشاور ہائیکورٹ فیصلے پر عملدرآمد ہوا یا نہیں۔
کیس کی مزید سماعت غیر معینہ مدت کیلئے ملتوی کردی گئی۔