مخصوص نشستوں کی تقسیم پر پشاور ہائیکورٹ کا فیصلہ: الیکشن کمیشن کو فہرست دوبارہ جاری کرنے کا حکم
اشاعت کی تاریخ: 9th, July 2025 GMT
پشاور ہائی کورٹ نے خیبرپختونخوا اسمبلی میں مخصوص نشستوں کی تقسیم سے متعلق مسلم لیگ (ن) کی درخواست پر محفوظ فیصلہ سنا دیا ہے، جس میں الیکشن کمیشن آف پاکستان کو مخصوص نشستوں کی فہرست ازسرنو ترتیب دینے کا حکم دیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد الیکشن کمیشن نے مخصوص نشستیں بحال کردیں، نوٹیفکیشن جاری
میڈیا رپورٹس کے مطابق پشاور ہائیکورٹ نے قرار دیا ہے کہ اقلیتوں اور خواتین کی مخصوص نشستوں کی تقسیم سیاسی جماعتوں کی جیتی گئی جنرل نشستوں کے تناسب سے ہونی چاہیے۔
عدالت نے الیکشن کمیشن کے 4 مارچ اور 26 مارچ 2024 کے نوٹیفکیشنز کو کالعدم قرار دیتے ہوئے حکم دیا ہے کہ نئی فہرست تمام امیدواروں اور سیاسی جماعتوں کو سننے کے بعد 10 دن کے اندر جاری کی جائے۔
عدالت نے یہ بھی واضح کیا کہ جب تک نیا فیصلہ نہیں آتا، مخصوص نشستوں پر کسی بھی رکن سے حلف نہ لیا جائے۔
یہ 2 صفحات پر مشتمل فیصلہ پشاور ہائی کورٹ کے جسٹس سید ارشد علی نے جاری کیا، جنہوں نے جسٹس خورشید اقبال کے ساتھ مل کر درخواست کی سماعت کی تھی۔
یہ بھی پڑھیں:الیکشن کمیشن نے مخصوص نشستیں بحال کردیں، کس پارٹی کے حصے میں کتنی سیٹیں آئیں؟
درخواست گزار کے وکیل نے موقف اختیار کیا تھا کہ الیکشن کمیشن نے مخصوص نشستوں کی تقسیم غیرمنصفانہ طریقے سے کی۔ ان کے مطابق مسلم لیگ (ن) کو خواتین کی 8 کے بجائے 9 نشستیں ملنی چاہیے تھیں، جب کہ جے یو آئی کو 10 نشستیں دی گئی ہیں۔
وکیل کا کہنا تھا کہ ن لیگ اور جے یو آئی دونوں کو 9، 9 نشستیں ملنی چاہیے تھیں کیونکہ مسلم لیگ (ن) نے 5 جنرل نشستیں جیتی ہیں۔
علاوہ ازیں وکیل نے عدالت کو بتایا کہ ملک طارق اعوان اور ہشام انعام اللہ نے مسلم لیگ (ن) میں شمولیت اختیار کی، تاہم الیکشن کمیشن نے ملک طارق اعوان کو ن لیگ کا رکن تسلیم نہیں کیا اور ان کی مخصوص نشست کسی اور کو دے دی گئی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
پشاور ہائیکورٹ جے یو آئی مخصوص نشستیں مسلم لیگ ن.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: پشاور ہائیکورٹ جے یو ا ئی مخصوص نشستیں مسلم لیگ ن
پڑھیں:
اے پی ایس شہدا کے لواحقین کو معاوضہ پیکج کی عدم ادائیگی، سپریم کورٹ نے وفاقی حکومت سے جواب طلب کرلیا
سپریم کورٹ آف پاکستان نے سانحہ آرمی پبلک سکول (اے پی ایس) کے شہدا کے لواحقین کو اعلان کردہ معاوضہ پیکج نہ ملنے کے معاملے پر وفاقی حکومت سے جواب طلب کرلیا ہے۔
کیس کی سماعت جسٹس محمد علی مظہر کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے کی۔ دوران سماعت جسٹس عرفان سعادت نے ریمارکس دیے کہ درخواست 25 دن کی تاخیر سے دائر کی گئی ہے۔
درخواست گزار کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ شہدا کے لواحقین کو حکومت کی جانب سے اعلان کردہ پیکج تاحال نہیں ملا۔
اس پر جسٹس محمد علی مظہر نے ریمارکس دیے کہ اگر کوئی پیکج دیا گیا ہے تو وہ تمام متاثرہ لواحقین کو ملنا چاہیے۔
انہوں نے وفاقی حکومت کو ہدایت کی کہ وہ عدالت کو آگاہ کرے کہ پشاور ہائیکورٹ کے فیصلے پر عملدرآمد ہوا ہے یا نہیں۔
سماعت کے دوران یہ بھی بتایا گیا کہ پشاور ہائیکورٹ کے فیصلے پر عملدرآمد نہ ہونے کے خلاف شہدا کے لواحقین کی جانب سے توہین عدالت کی درخواست دائر کی گئی تھی، تاہم پشاور ہائیکورٹ نے مذکورہ درخواست کو خارج کر دیا تھا۔
بعد ازاں سپریم کورٹ نے وفاقی حکومت سے جواب طلب کرتے ہوئے کیس کی مزید سماعت غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کردی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews جواب طلب سپریم کورٹ عدم ادائیگی معاوضہ پیکج وفاقی حکومت وی نیوز