مخصوص نشستوں سے متعلق پی ٹی آئی نے پشاور ہائیکورٹ میں درخواست دائر کردی
اشاعت کی تاریخ: 9th, July 2025 GMT
مخصوص نشستوں سے متعلق پاکستان تحریک انصاف نے پشاور ہائیکورٹ میں درخواست دائر کردی۔
یہ درخواست پی ٹی آئی خیبرپختونخوا کے جنرل سیکریٹری علی اصغر نے دائر کی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ مخصوص نشستیں تحریک انصاف کا حق ہیں۔
اس درخواست میں مؤقف اپنایا گیا ہے کہ مخصوص نشستوں سے متعلق کیس میں پی ٹی آئی کو نہیں سنا گیا، پشاور ہائیکورٹ کو مخصوص نشستوں کے معاملے پر مِس لیڈ کیا گیا تھا۔
پشاورپشاورہائیکورٹ نے خیبرپختونخوا اسمبلی میں.
درخواست میں مؤقف اپنایا گیا ہے کہ پشاور ہائیکورٹ کا 13 اور 14 مارچ 2024 کا فیصلہ کالعدم قرار دیا جائے، درخواست گزار کو مخصوص نشستوں کا کیس لڑنے کا حق دیا جائے۔
پی ٹی آئی نے درخواست میں الیکشن کمیشن اور دیگر کو فریق بنایا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: پشاور ہائیکورٹ مخصوص نشستوں
پڑھیں:
باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا ،لاہور ہائیکورٹ
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 02 جون2026ء) لاہور ہائیکورٹ نے قرار دیا ہے کہ مالی مشکلات یا کسی نجی معاہدے کی بنیاد پر باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا اور یہ ذمہ داری اسلامی تعلیمات کے مطابق مستقل اور قابل نفاذ فریضہ ہے۔جسٹس محسن اختر کیانی نے 15 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ جاری کرتے ہوئے باپ اختر حسین اعوان کی درخواست خارج کر دی اور فیملی کورٹ و اپیلٹ کورٹ کے فیصلے برقرار رکھے۔عدالت نے قرار دیا کہ نابالغ بچے کا نان و نفقہ صرف قانونی نہیں بلکہ اخلاقی اور مذہبی ذمہ داری بھی ہے۔ غیر ادا شدہ نان و نفقہ باپ پر قرض تصور ہوگا جو وقت گزرنے سے ختم نہیں ہو سکتا۔فیصلے میں سور البقرہ، سور الطلاق اور متعدد احادیث نبوی کے حوالے دیتے ہوئے کہا گیا کہ معاہدے یا رضامندی کے ذریعے نابالغ بچے کے حقوق ختم نہیں کیے جا سکتے، خصوصا جب بچہ معذوری کی حالت میں ہو۔(جاری ہے)
درخواست گزار کا موقف تھا کہ 2005 میں فریقین کے درمیان ہونے والے رضامندی نامے کے تحت تاحیات خرچہ طے ہو چکا تھا اور ماضی کے نان و نفقہ کی وصولی قانونا چھ سال سے زائد مدت کے لیے نہیں کی جا سکتی۔عدالت نے ماضی کے نان و نفقہ سے متعلق اسلامی اصولوں کی روشنی میں نئی قانون سازی کی سفارش کرتے ہوئے فیصلے کی نقل لا اینڈ جسٹس کمیشن اور وزارت قانون و انصاف کو ارسال کرنے کا حکم بھی دیا۔