نئی نجی ایئرلائن کا شاندار آغاز
اشاعت کی تاریخ: 1st, November 2025 GMT
ویب ڈیسک : پاکستان کی نئی ایئرلائن ایئر کراچی کا باضابطہ افتتاح ہوگیا، یہ ایئرلائن 42 شراکت داروں کے اشتراک سے قائم کی گئی ہے۔
شہرِ قائد کے اولڈ ایئرپورٹ پر پاکستان کی نئی نجی ایئرلائن ’’ایئر کراچی‘‘ کے باضابطہ افتتاح کے لیے تقریب کا انعقاد کیا گیا۔ اس پروقار تقریب کے ساتھ ہی ملکی ہوا بازی کے شعبے میں ایک نئے ادارے کی باضابطہ شمولیت ہوگئی۔
چیئرمین ایئر کراچی حنیف گوہر نے تقریب سے خطاب میں کہا کہ یہ ایئرلائن 42 کاروباری شراکت داروں کے اشتراک سے قائم کی گئی ہے، جو کراچی کی شناخت کو دوبارہ اجاگر کرنے کے عزم کی علامت ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ایئرلائن کے قیام کا خواب 2006 میں شروع ہوا تھا، اور طویل جدوجہد کے بعد آج یہ خواب حقیقت بن گیا ہے۔
بھارتی نژاد دنیا کی معروف کمپنی کو اربوں کا چونا لگا کر فرار
حنیف گوہر نے چیف آف آرمی اسٹاف جنرل عاصم منیر کے وژن اور سرمایہ کاری کے فروغ کے اقدامات کو سراہتے ہوئے کہا کہ ایئر کراچی کا آغاز ملکی معیشت کے استحکام اور مقامی صنعتوں کے فروغ کی جانب ایک مثبت قدم ہے۔
سیکریٹری ڈیفنس لیفٹیننٹ جنرل (ر) محمد علی نے تقریب میں بطور مہمانِ خصوصی شرکت کی۔ انہوں نے اس موقع پر کہا کہ کراچی کے بزنس کمیونٹی نے ایک بار پھر ملک کا نام فخر سے بلند کیا ہے۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ حکومت نئی ایئرلائنز اور ہوا بازی کے شعبے کے تمام اسٹیک ہولڈرز کو مکمل تعاون فراہم کرے گی۔
پاکستان اور جنوبی افریقہ کے درمیان فیصلہ کن ٹی ٹونٹی میچ آج ہوگا
سیکریٹری دفاع نے مزید کہا کہ ایئر کراچی اور پی آئی اے کے درمیان اشتراک سے ملکی ایوی ایشن انڈسٹری کی کارکردگی بہتر ہوگی۔
ذرائع کے مطابق ایئر کراچی نے پاکستان سول ایوی ایشن اتھارٹی (PCAA) کو رواں سال فروری میں ریگولر پبلک ٹرانسپورٹ (RPT) لائسنس کے لیے درخواست دی تھی، جس کے اجرا کا فیصلہ وفاقی حکومت کی منظوری کے بعد کیا جائے گا۔ بتایا گیا ہے کہ ایئر لائن کے قیام کے لیے ابتدائی 5 ارب روپے کی سرمایہ کاری کی گئی ہے، جب کہ ہر شیئرہولڈر نے 5 کروڑ روپے کی سرمایہ کاری کی ہے۔
نئے بھرتی کنٹریکٹ ملازمین کو ریگولر ہونے پر بھی پنشن نہیں ملے گی
ایئر کراچی کے چیف ایگزیکٹو آفیسر (CEO) کے طور پر سابق ایئر وائس مارشل (ر) عمران کو تعینات کیا گیا ہے، جب کہ ابتدائی مرحلے میں تین طیارے لیز پر حاصل کیے جائیں گے۔ ایئر کراچی کے نمایاں سرمایہ کاروں میں عقیل کریم ڈھیڈی، عارف حبیب، ایس ایم تنویر، بشیر جان محمد، خالد تواب، زبیر طفیل، اور حمزہ تبانی شامل ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: ایئر کراچی کہ ایئر کہا کہ
پڑھیں:
بيزوس، مسک اور زکربرگ جیسے ارب پتی ہر سال ایک خفیہ سمر کیمپ میں کیوں اکٹھے ہوتے ہیں؟
امریکہ کی ریاست ایڈاہو کے ایک خاموش اور خوبصورت پہاڑی علاقے سن ویلی(Sun Valley) میں ہر سال جولائی کے مہینے میں ایک ایسی تقریب ہوتی ہے جہاں دنیا کے امیر ترین اور بااثر افراد اکٹھے ہوتے ہیں۔
اس خاص اور خفیہ محفل کو غیر رسمی طور پر ”ارب پتیوں کا سمر کیمپ“ کہا جاتا ہے۔ یہاں دنیا کے نامور اور طاقتور لوگ جیسے جیف بیزوس، مارک زکربرگ، بل گیٹس اور ایلن مسک بغیر کسی دکھاوے کے ایک ساتھ وقت گزارتے ہیں۔
یہ سلسلہ 1983 سے چلا آ رہا ہے جسے ایلن اینڈ کمپنی نامی ایک معاشی ادارہ منعقد کرواتا ہے۔ اس تقریب میں شامل ہونے کے لیے کوئی ٹکٹ نہیں خریدی جا سکتی اور نہ ہی انٹرنیٹ پر کوئی رجسٹریشن ہوتی ہے۔ یہاں صرف وہی لوگ آ سکتے ہیں جنہیں ذاتی طور پر دعوت نامہ بھیجا جاتا ہے۔ منتظمین کی طرف سے اس تقریب کی کوئی باقاعدہ مہمانوں کی فہرست یا شیڈول جاری نہیں کیا جاتا۔ اس سال یہ تقریب 7جولائی سے 11 جولائی 2026 تک منعقد ہوئی۔
اس کانفرنس کی سب سے بڑی بات یہ ہے کہ یہ روایتی دفتری میٹنگز کی طرح نہیں ہوتی۔ یہاں نہ طویل اجلاس ہوتے ہیں اور نہ ہی بڑی بڑی پریزنٹیشنز۔
امیر ترین شخصیات سوٹ بوٹ پہننے کے بجائے عام جوتوں اور آرام دہ کپڑوں میں نظر آتی ہیں۔ لوگ دن کے وقت پہاڑوں پر سیر کرتے ہیں، گولف کھیلتے ہیں، سائیکل چلاتے ہیں، مچھلی پکڑتے ہیں اور شام کو مل کر کھانا کھاتے ہیں۔
مزیدپڑھیں:عالمی منڈی میں سونے کی قیمت میں کمی
اس سال کی ملاقات میں جدید ترین ٹیکنالوجی اور آرٹیفیشل انٹیلی جنس یعنی اے آئی کا موضوع سب سے زیادہ چھایا رہا۔ اس تقریب میں ٹیکنالوجی اور کاروبار کی دنیا کے کئی بڑے نام شامل ہوئے۔
اگرچہ اس کیمپ میں میڈیا اور کیمروں کی اجازت نہیں ہوتی اور نہ ہی کوئی بڑا باضابطہ اعلان کیا جاتا ہے، لیکن ماہرین کا کہنا ہے کہ دنیا کے کئی بڑے کاروباری معاہدوں کی بنیاد اسی خاموش جگہ پر رکھی جاتی ہے جو بعد میں دنیا کے سامنے آتے ہیں۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ بہت سے شرکا اپنے اہلِ خانہ کو بھی ساتھ لاتے ہیں، جس کی وجہ سے یہ تقریب ایک کاروباری اجلاس سے زیادہ ایک پُرتعیش خاندانی تعطیلات کا منظر پیش کرتی ہے۔ تاہم، اس کے باوجود دنیا بھر کی نظریں ہر سال اس خفیہ سمر کیمپ پر لگی رہتی ہیں، کیونکہ یہاں ہونے والی ملاقاتیں مستقبل کی عالمی معیشت اور ٹیکنالوجی کی سمت کا تعین بھی کر سکتی ہیں۔