اسلام آباد:

مسلم لیگ (ن) کے سینئر رہنما سینیٹر عرفان صدیقی نے دو ٹوک انداز میں ان افواہوں کی تردید کی ہے کہ نواز شریف عمران خان سے ملاقات کیلئے اڈیالہ جیل جا رہے ہیں۔

نجی ٹی وی چینل کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ عمران خان کے معاملات سے نواز شریف کا کچھ لینا دینا نہیں، ان پر ٹھوس مقدمات قائم ہیں اور عدالتیں اپنے فیصلے دے رہی ہیں۔

سینیٹر عرفان صدیقی نے کہا کہ ویسے بھی عمران خان کی وجہ سے ایسا کون سا بحران پیدا ہو گیا ہے کہ نواز شریف ان سے مدد لینے کیلئے اڈیالہ جیل جائیں؟ کیا پاکستان کی اکانومی رک گئی ہے؟ کیا ہمارے دوستوں نے ہم سے منہ موڑ لیا ہے؟ کیا ہم بھارتی حملے کا منہ توڑ جواب نہیں دے سکے؟ آخر کس لیے نواز شریف عمران خان کے پاس جائیں؟

عرفان صدیقی نے کہا کہ  عمران تو خود دروازے کھٹکھٹا رہے ہیں لیکن ان کی شنوائی نہیں ہو رہی، اس طرح کے جھوٹے اور بے بنیاد بیانیے پی ٹی آئی خود بنا رہی ہے تاکہ کارکنوں کو تسلی دی جائے اور بتایا جائے کہ عمران خان کا مقام کتنا بلند ہے۔

سینیٹر عرفان صدیقی نے کہا کہ بعض اچھے اور معتبر صحافیوں کا اس بے بنیاد اور افواہ کو خبر بنا کر پھیلانا افسوسناک ہے۔

ایک سوال کے جواب میں عرفان صدیقی نے کہا کہ محمود خان اچکزئی اچھے انسان ہیں نواز شریف سے ان کے تعلقات بہت اچھے اور باہمی احترام کے ہیں، میرے بھی وہ اچھے دوست ہیں لیکن اس وقت وہ پی ٹی آئی کے اتحادی ہیں، تحریک تحفظ آئین پاکستان کے سربراہ ہیں۔ قومی حکومت کے بارے میں ہم سے مذاکرات کرنے سے قبل وہ اپنے اتحادی عمران خان سے پوچھیں کہ کیا وہ چوروں، ڈاکوؤں، اور فارم 47 والی جعلی حکومت کے ساتھ شامل ہو کر ایک قومی حکومت تشکیل دینے کیلئے تیار ہیں؟ اگر خان صاحب تیار ہیں اور اس کا واضح اعلان کرتے ہیں تو پھر اچکزئی صاحب ہمارے پاس آئیں، ہم ضرور اس موضوع پر ان سے مذاکرات کریں گے۔

سینیٹر عرفان صدیقی نے ایک اور سوال کے جواب میں کہا کہ 27ویں آئینی ترمیم پر اس وقت کوئی باضابطہ سوچ و بچار نہیں ہورہی لیکن ضرورت پڑی تو جہاں چھبیس ترامیم ہو چکی ہیں وہاں 27ویں بھی ہو سکتی ہے۔

انہوں نے پی ٹی آئی کی مجوزہ تحریک کے بارے میں کہا کہ پرامن احتجاج سب کا ائینی حق ہے لیکن آج تک پی ٹی آئی کا کوئی احتجاج پرامن نہیں تھا، وہ ابھی سے گولی چلانے کے اعلانات کر رہے ہیں اگر وہ پہلے کی طرح تشدد اور بد امنی پھیلانے کا راستہ اختیار کریں گے تو ریاست کا قانون حرکت میں آئے گا۔

انہوں نے کہا کہ سابق وزیر اعظم عمران خان نے اپنے دور میں جنرل فیض حمید سے مل کر کیسے کیسے جھوٹے اور بے بنیاد مقدمے بنائے، مخالفین کو جیلوں میں ڈالا، ہم نے ہرگز ایسا نہیں کیا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: عرفان صدیقی نے کہا کہ نواز شریف پی ٹی آئی

پڑھیں:

پاکستان بحریہ سعودی عرب کی خواہش پر حوثی باغیوں کو کنٹرول کرے گی، ایمبیسیڈر عمران علی

پاکستان کے سابق سفیر عمران علی کا کہنا ہے کہ اگر سعودی عرب نے خواہش ظاہر کی کہ پاکستان اپنی بحریہ کے ذریعے حوثی باغیوں کو کنٹرول کرے تو پاکستان بھی اس پر پورا اترتے ہوئے ویسا ہی کرے گا۔

یہ بھی پڑھیں: ’پاک سعودی دفاعی معاہدہ محض مالی یا وقتی تعلق نہیں بلکہ فعال حکمت عملی کا حصہ ہے‘

وی نیوز کے ساتھ خصوصی گفتگو میں انہوں نے کہا کہ سعودی عرب پاکستان کی ریڈلائن ہے اور دونوں ممالک کے مابین دفاعی معاہدے کا یہ مطلب نہیں کہ صرف ان کی سرزمین پر حملے کی صورت میں دفاعی تعاون ہوگا بلکہ پاکستان اس سلسلے میں سعودی عرب کی خواہشات پر پورا اترے گا۔

انہوں نے کہا کہ سعودی عرب پاکستان کی مستقل ’ریڈ لائن‘ ہے اور دونوں ممالک کے درمیان دفاعی تعاون محض معاہدوں تک محدود نہیں بلکہ تاریخی اور برادرانہ تعلقات پر مبنی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر سعودی عرب کو پاکستان سے کسی بھی نوعیت کے تعاون کی ضرورت پیش آئی تو اسلام آباد اس کی توقعات پر پورا اترے گا۔

ایمبیسیڈر عمران علی نے وزیراعظم پاکستان اور سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کے درمیان حالیہ رابطے کو اہم سفارتی پیغام قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سے واضح ہو گیا ہے کہ پاکستان اس معاملے میں سعودی عرب کے ساتھ مضبوطی سے کھڑا ہے۔

مزید پڑھیے: وی ایکسکلوسیو: پاکستان، سعودی عرب دفاعی معاہدہ امت مسلمہ کو متحد کرسکتا ہے، وفاقی وزیر سردار یوسف

انہوں نے کہا کہ سعودی عرب نے اشتعال انگیزی کے باوجود انتہائی متوازن اور ذمہ دارانہ کردار ادا کیا ہے اور پاکستان بھی یہی چاہتا ہے کہ مسلم دنیا مزید تقسیم نہ ہو۔ ان کے مطابق اگرچہ ایران کو اپنے مؤقف پر نظرثانی کرنی چاہیے تاہم امریکا کی بعض کارروائیاں بھی کشیدگی میں اضافے کا باعث بنی ہیں۔

ایران کے پاس 2 ہفتوں کی مہلت

ان کا کہنا تھا کہ ایران کے پاس کشیدگی کم کرنے کے لیے صرف 2 ہفتوں کی مہلت ہے اور اگر تہران آبنائے ہرمز سے متعلق سخت مؤقف ترک کرکے دوبارہ مذاکراتی عمل کی طرف آ جائے اور پاکستان کی ثالثی کو موقع دے تو خطے میں جاری بحران پر قابو پایا جا سکتا ہے۔

عمران علی نے کہا کہ پاکستان پہلے بھی ایران اور امریکا کے درمیان ایک قابل قبول مفاہمتی دستاویز تیار کرا چکا ہے اس لیے اب بھی اسلام آباد مؤثر ثالث کا کردار ادا کر سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران کو جذباتی فیصلوں کے بجائے وسیع تر علاقائی اور عالمی تناظر میں حکمت عملی اپنانا ہوگی۔

ایمبیسیڈر عمران علی کے مطابق ایران کی موجودہ پالیسی کا مقصد عالمی تجارت اور تیل کی ترسیل پر دباؤ ڈال کر دنیا کو غزہ کے مسئلے پر متوجہ کرنا ہے تاہم یہ حکمت عملی اب الٹا اثر دکھا رہی ہے۔ ان کے بقول ریڈ سی اور باب المندب میں کشیدگی سے عالمی تجارت اور مسلم ممالک کو زیادہ نقصان پہنچ رہا ہے جبکہ اسرائیل اور امریکہ پر مطلوبہ دباؤ نہیں پڑ رہا۔

عالمی جنگ کے امکانات نہیں

عالمی جنگ کے خدشات پر انہوں نے کہا کہ تیسری عالمی جنگ کے امکانات کم ہیں کیونکہ روس اور چین براہ راست اس تنازع میں شامل ہونے سے گریز کریں گے تاہم خلیجی خطے میں محدود علاقائی جنگ کا خطرہ موجود ہے خاص طور پر اگر کشیدگی میں مزید اضافہ ہوا تو یورپ سمیت دنیا کی توانائی منڈی بھی متاثر ہو سکتی ہے۔

مزید پڑھیں: پاک سعودی دفاعی معاہدہ، آج یوم تشکر منایا گیا

ایران کے اندر ممکنہ رجیم چینج سے متعلق سوال پر انہوں نے کہا کہ موجودہ حالات میں اس کا امکان کم ہے کیونکہ ریاستی کنٹرول مضبوط ہے، البتہ ایران کو جنگی کامیابی کے بیانیے کے بجائے امن اور سفارت کاری کو ترجیح دینی چاہیے۔

پاکستان امریکا سے براہ راست مالی معاونت حاصل کرے

پاکستان کی سفارتی کامیابیوں کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ حالیہ ثالثی کی کوششوں سے عالمی سطح پر پاکستان کا مثبت تشخص ابھرا ہے تاہم اس سفارتی کامیابی کو معاشی فوائد میں تبدیل کرنا ضروری ہے۔

انہوں نے تجویز دی کہ پاکستان کو اپنی سب سے بڑی معاشی ضرورت یعنی مالی خسارے کے لیے امریکا سے براہ راست مالی معاونت حاصل کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔

یہ بھی پڑھیے: پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان اب تک کتنے معاشی معاہدے اور اُن پر کیا پیشرفت ہوئی؟

ایمبیسیڈر عمران علی کے مطابق پاکستان کو اسلحے سے زیادہ معاشی استحکام کی ضرورت ہے اور حالیہ سفارتی کردار کو اسی مقصد کے لیے استعمال کیا جانا چاہیے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

پاک سعودی دفاعی معاہدہ حوثی باغی سابق سفیر عمران علی سعودی عرب پاکستان کی ریڈ لائن سعودی عرب کی خواہش

متعلقہ مضامین

  •  بلوچستان کے عوام کی قربانیوں کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا:شہباز شریف
  • اسلام آباد کچہری میں سموسے کیساتھ چٹنی نہ ملنے پر ہنگامہ
  • کراچی: کیماڑی سے اغواء 7 سالہ بچی کیساتھ قتل سے پہلے زیادتی کی تصدیق
  • آزاد کشمیر میں سیاسی سرگرمیاں تیز، نواز شریف آج میرپور میں جلسے سے خطاب کریں گے
  • تحریک انصاف5 اگست کو کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • 5 اگست کو پاکستان تحریک انصاف کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • مانچسٹر، پاکستانی قونصل خانہ کے اوقات میں اضافہ
  • پاکستان بحریہ سعودی عرب کی خواہش پر حوثی باغیوں کو کنٹرول کرے گی، ایمبیسیڈر عمران علی
  • پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ مضبوط معاشی شراکت داری قائم کرنا چاہتا ہے، عرفان سومرو
  • نواز شریف کل میرپور میں انتخابی جلسے سے خطاب کریں گے