اگر نوازشریف اڈیالہ جیل عمران خان کو منانے گئے تو بے عزت ہو کر آئیں گے : نصرت جاوید
اشاعت کی تاریخ: 4th, July 2025 GMT
لاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن)سینئر صحافی نصرف جاوید نے نجی ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ اگر نوازشریف اڈیالہ جیل میں عمران خان کو منانے کیلئے جائیں گے تو وہاں سے بے عزت ہو کر آئیں گے ۔
نجی ٹی وی کے پروگرام میں اینکر نے کہا کہ خبریں آ رہی ہیں کہ نوازشریف اڈیالہ جیل جا کر عمران خان کو منانے کیلئے راضی ہو گئے ہیں جس پر گفتگو کرتے ہوئے نصرت جاوید نے کہا کہ 9 مئی کو جاتی امرا کا رخ کیا تھا انہوں نے ؟ یہ وہاں پھر کیوں جارہے ہیں، کیا اس وقت تحریک انصاف بانی جیل میں نوازشریف کی وجہ گرفتار ہیں ، انہیں جیل میں کس نے ڈالا ؟ اگر نوازشریف ان سے ملنے جاتے ہیں تو عمران خان کا جیل میں رویہ یہ ہوگا کہ وہ ہر ممکن کوشش کریں گے کہ نہیں ملنا لیکن اگر ملاقات کروائی گئی، پھر اگر محمود خان اچکزئی کہہ رہے ہیں کہ ون پوائنٹ ایجنڈا ہو کہ قومی حکومت بنانی ہے ، محمود اچکزئی بھی نوازشریف کے ساتھ اڈیالہ جیل چلے جائیں اور عمران خان سے کہیں کہ نوازشریف بھی میرے اشارے کے منتظر ہیں، آپ قومی حکومت بنانے کی اجازت دیدیں ،ملک میں نفرت کو سیاست ختم کی جائے ۔
اڈوں پر موجود بچے ٹرک ڈرائیوروں کے ہاتھوں کسی نہ کسی شکل میں استحصال کا شکار
نصرت جاوید نے کہا کہ میں نے ڈاٹ سے ڈاٹ ملا کر بات کی ، میں اس دن سے منتظر تھا ، چوہدری نثار خود فون نہیں رکھتے لیکن ان تک کوئی بات پہنچے جو انہیں پسند نہ آئے تو وہ اس کی وضاحت کرتے ہیں، جیسے آپ ان کے حلقے میں گئے تھے تو انہوں نے مجھے فون کیا تھا، اس بار میں یہ سوچتا رہا کہ میرے ڈاٹس غلط ہوئے تو چوہدری نثار علی خان کا فون آجائے گا ، لیکن ایسا نہیں ہوا۔
سینئر صحافی نصرت جاوید نے دعویٰ کیا کہ نوازشریف کو آرڈر ہوا کہ جاو اور جا کر مناو، جب کہا جارہا تھا کہ نوازشریف لندن سے چوتھی مرتبہ وزیراعظم بننے کیلئے تشریف لارہے ہیں تو میں کہہ رہا تھا کہ طوطیا من موطیا اس گلی نہ جا، اور اب میں کہہ رہا ہوں کہ نوازشریف اگر عمران خان کو منانے کیلئے اڈیالہ جیل جائیں گے تو بے عزت ہو کر آئیں گے ۔
سول کورٹس کے فیصلوں کے خلاف اپیلیں ضلعی عدالتوں کو بھیجنے کا معاملہ ، ایڈیشنل رجسٹرار اسلام آباد ہائیکورٹ طلب
مزید :.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
کلیدی لفظ: عمران خان کو منانے کہ نوازشریف اڈیالہ جیل نصرت جاوید جاوید نے جیل میں
پڑھیں:
سہیل آفریدی ان سے کہیں کہ پہلے عمران خان سے ملاقات کرواو اور پھر آپ بجٹ پاس کرو
راولپنڈی ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء ) علیمہ خان کا سہیل آفریدی کو مشورہ، کہا سہیل آفریدی ان سے کہیں کہ پہلے عمران خان سے ملاقات کرواو اور پھر آپ بجٹ پاس کرو۔ تفصیلات کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے بانی عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان کا کہنا ہے کہ جب بھی حکومت کو لگتا ہے عوام کا غصہ اور ٹمپریچر بڑھ رہا ہے، تو یہ خود کو بچانے کیلئے ڈیل کی باتیں اور افواہیں پھیلانا شروع کر دیتے ہیں، حقیقت میں کوئی ڈیل نہیں ہو رہی۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ میڈیا ہم سے سوال کرنے کے بجائے حکومت سے جواب طلب کرے کہ عمران خان کو گزشتہ 7 ماہ سے غیر قانونی قیدِ تنہائی میں کیوں رکھا گیا ہے؟ صحافی وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی سے جا کر اس قیدِ تنہائی کی وجہ پوچھیں، ہمارا خاندان کسی قسم کا سیاسی این آر او یا ریلیف نہیں مانگ رہا، قیدِ تنہائی کا خاتمہ عمران خان کا بنیادی اور قانونی حق ہے۔(جاری ہے)
علیمہ خان نے الزام لگایا کہ گزشتہ 8 مہینوں سے عمران خان کو ذہنی و جسمانی ٹارچر کا نشانہ بنایا جا رہا ہے، ملک میں کوئی قانون نہیں چل رہا، اگر حکومت ہمیں جیل میں ڈالنا چاہتی ہے تو شوق سے ڈال دے، لیکن عمران خان کی آنکھوں کے علاج اور معائنے کے لیے انہیں فوری طور پر شفا انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کیا جائے اور وہاں کے ماہر ڈاکٹرز سے ان کا طبی معائنہ کروایا جائے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ سابق آرمی چیف کیوں عمران خان سے ملنے جائیں گے؟ وہ تو عمران خان کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر دیکھ ہی نہیں سکتے، پارٹی چیئرمین بیرسٹر گوہر نے بھی واضح کر دیا ہے کہ یہ تمام باتیں بالکل جھوٹ ہیں، جب بھی حکومت کو لگتا ہے کہ عوام کا غصہ اور ٹمپریچر بڑھ رہا ہے، تو یہ خود کو بچانے کے لیے ڈیل کی باتیں اور افواہیں پھیلانا شروع کر دیتے ہیں، جبکہ حقیقت میں کوئی ڈیل نہیں ہو رہی۔ عمران خان کی ہمشیرہ نے کہا کہ جب آپ لوگوں کے ووٹ چوری کریں گے اور عوام سمجھ جائیں گے کہ ان کے ووٹ کی کوئی حیثیت نہیں رہی، تو پھر ان کا شدید ردعمل آئے گا، حکومت کبھی لاٹھی سے تو کبھی گولی سے عوام کو مارتی ہے، ووٹ چوری سے پی ٹی آئی کا نہیں بلکہ اس عام شہری کا حق مارا جاتا ہے جس کا وہ ووٹ ہوتا ہے، گلگت بلتستان میں بھی وہی کچھ دہرایا جا رہا ہے جو عام انتخابات 2024ء میں کیا گیا تھا، وہاں پی ٹی آئی کو انتخابی مہم تک چلانے کی اجازت نہیں دی جا رہی، یاد رکھیں ظلم ہمیشہ وہی کرتا ہے جو اندر سے خود شدید خوفزدہ ہوتا ہے۔ علیمہ خان نے کہا کہ ہم پی ٹی آئی کی قیادت سے درخواست کرتے ہیں کہ وہ ہمارے ساتھ آ کر یہاں بیٹھیں، جب قیادت آئے گی تو تمام ایم این ایز، ایم پی ایز، سینیٹرز اور تنظیم کے سینئر رہنما یہاں موجود ہوں گے، اگر پی ٹی آئی کی موجودہ قیادت اس فائنل کال پر بھی باہر نہیں نکلتی، تو پھر میڈیا اور عوام کا حق ہے کہ وہ ان رہنماؤں سے سوال کریں کہ وہ اپنے عظیم لیڈر کے لیے باہر کیوں نہیں آ رہے۔