نوازشریف کے تو کھانے گھر سے آتے تھے، سو سو بندہ ملنے جاتا تھا، بانی پی ٹی آئی کی تمام جیل سہولیات ختم کردی گئیں ،علیمہ خان
اشاعت کی تاریخ: 4th, July 2025 GMT
راولپنڈی(ڈیلی پاکستان آن لائن)بانی پی ٹی آئی عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان نے کہا ہے کہ بانی پی ٹی آئی کی تمام جیل سہولیات ختم کردی گئی ہیں،بانی پی ٹی آئی کو بچوں سے بات نہیں کرنے دیتے، کتابیں نہیں دیتے۔
نجی ٹی وی چینل جیو نیوز کے مطابق علیمہ خان نے انسداد دہشتگردی عدالت کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ بانی پی ٹی آئی کی ہدایات ہیں 10محرم کے بعد پارٹی تحریک کاآغاز کرے،بانی نے کہا ہے 27ویں ترمیم کے بجائے بادشاہت قائم کرلیں،ان کاکہناتھا کہ تحریک سے پہلے پلان تیار کر چکے ہیں،بانی نے کہا ہے عوام اپنی آزادی کیلئے نکلیں،عمران خان نے کہا ہے غلامی سے بہتر ہے جیل میں ہی رہوں۔
خیبرپختونخوا کے دریاؤں میں نچلے درجے کا سیلاب، تربیلا ڈیم میں پانی کی سطح بلند
علیمہ خان کاکہناتھا کہ بانی پی ٹی آئی جو جیل کاٹ رہے ہیں وہ ان کے مخالف سوچ بھی نہیں سکتے،بانی نے کہا22گھنٹے میں وہ سیل میں ہوتے ہیں صرف 2گھنٹے باہر نکالتے ہیں،علیمہ خان کاکہناتھا کہ نوازشریف کے تو کھانے گھر سے آتے تھے، سو سو بندہ ملنے جاتا تھا، بانی کی تمام جیل سہولیات ختم کردی گئی ہیں،بانی کو بچوں سے بات نہیں کرنے دیتے، کتابیں نہیں دیتے،نوازشریف اور ان کی بیٹی تو ریسٹ ہاؤس میں تھے ساری سہولیات دستیاب تھیں۔
مزید :.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
کلیدی لفظ: بانی پی ٹی ا ئی علیمہ خان نے کہا ہے
پڑھیں:
حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف
حیدرآباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (حیسکو) میں تنخواہوں اور الاؤنسز کی مد میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کرپشن کا انکشاف ہوا ہے۔
قومی اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے اجلاس میں آڈٹ حکام نے انکشاف کیا کہ حیسکو میں گھوسٹ ملازمین، ڈبل تنخواہوں کے ذریعے قومی خزانے کو نقصان پہنچایا گیا اور وفاقی تحقیقاتی ادارہ (ایف آئی اے)99 کروڑ 62 لاکھ کی مبینہ کرپشن کی تحقیقات کر رہا ہے۔
آڈٹ حکام نے مزید انکشاف کیا کہ حیسکو کی اندرونی انکوائری میں مزید 6 کروڑ 78 لاکھ روپے کی مشتبہ ادائیگیاں ہوئی ہیں۔
چیئرمین کمیٹی شاہدہ اختر کی زیرصدارت اجلاس میں ایف آئی اے حکام نے بتایا کہ اس معاملے میں ایف آئی آرز کی تعداد 5 ہوگئی تھی، 151 ملزمان تھے جن میں سے 14 کو گرفتار کیا گیا جبکہ دیگر ضمانت پر ہیں، ایک ارب روپے میں سے 13 کروڑ روپے کی ریکوری ہوئی ہے۔
رکن کمیٹی قاسم نون نے کہا کہ 13 کروڑ روپے کچھ بھی نہیں ہیں، سخت ایکشن لیا جائے، سید امین الحق نے کہا کہ گھوسٹ ملازمین کی تصدیق بھی کی گئی کہ وہ موجود ہیں۔
سینیٹر افنان اللہ خان نے کہا کہ وزارت کو چاہیے کہ وہ مداخلت کرے اور ذمہ داران کا تعین کرے۔
چیئرمین کمیٹی شاہد اختر نے کہا کہ یہ تو آڈٹ نے نشان دہی کر دی ہے، لگتا ہے کہ پاور ڈویژن کا کوئی چیک اینڈ بیلنس نہیں ہے، جس پر سی ای او حیسکو نے بتایا کہ 756 ملین روپے کی ذمہ داری بھی فکس ہو چکی ہے۔
شاہدہ اختر نے کہا کہ عدالت کے حکم تک یہ آڈٹ پیرا زیر التوا رہے گا، رکن کمیٹی سید حسین طارق نے سوال کیا کہ حیسکو میں بائیو میٹرک سسٹم کیوں نہیں ہے۔
پاکستان پیپلزپارٹی (پی پی پی) کی رکن شازیہ مری نے کہا کہ ہم ڈسکوز کو یہاں کمنٹس کے لیے نہیں احتساب کے لیے بلاتے ہیں، یہ لوگوں کو چور کہتے ہیں اور اپنی پرفارمنس کے گیت گاتے نہیں تھکتے۔
پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے ہدایت کی کہ 13 کروڑ روپے کی ریکوری کی آڈٹ سے تصدیق کرائی جائے، جو ریکوری رہ گئی ہے وہ معاملہ زیر التوا رہے گا۔