Express News:
2026-06-03@07:14:59 GMT

دہشت گردی کا ناسور

اشاعت کی تاریخ: 4th, July 2025 GMT

باجوڑ کی تحصیل خار میں بم دھماکے سے اسسٹنٹ کمشنر، تحصلیدار ناؤگئی اور دو پولیس اہلکاروں سمیت 5 افراد شہید جب کہ 16 افراد زخمی ہوگئے۔ سرکاری گاڑی کو اس وقت موٹر سائیکل پر نصب بم سے نشانہ بنایا گیا۔ دھماکا ریموٹ کنٹرول تھا، سات سے دس کلو بارودی مواد موٹر سائیکل کے ساتھ نصب کیا گیا تھا۔

 پاکستان میں موجودہ دہشت گردی کا تعلق بھی بالواسطہ یا بلاواسطہ طور پر افغانستان کی سرزمین سے جڑا ہوا ہے۔ خیبر پختون خوا کی صوبائی حکومت کے سامنے یہ سوال رکھا جائے گا کہ آخر وہ کیونکر صوبے کے اندر دہشت گردی پر قابو پانے میں ناکام ہے؟ ریاست کو چیلنج کرنے اور قدیم دور کے تصورات رائج کرنے پر کمر بستہ دہشت گرد تنظیموں پر ضرب ضرور لگی تھی اور دہشت گردوں نے سرحد پارکر کے افغانستان میں پناہ لے لی تھی، لیکن ایسے عناصر کی ایک بڑی تعداد کو دوبارہ آباد کر کے جو غلطی کی گئی اس کا خمیازہ ہم آج بھگت رہے ہیں۔

سوال یہ ہے کہ کیا ان دہشت گرد گروہوں پر دباؤ میں کمی ہوئی ہے؟ کیا انھیں سانس لینے کا موقع فراہم کیا گیا ہے؟ ہمارے اداروں کو سب سے پہلے تو دہشت گردوں کے سہولت کاروں کا خاتمہ کرنا ہوگا، کیوں کہ سہولت کاری اور اندرونی مدد کے بغیر ایسی کارروائیاں ممکن نہیں۔ دراصل پاکستان کے خلاف دہشت گردانہ کارروائیوں میں وہ عناصر پیش پیش ہیں جو پاکستان کے وسائل کو مال غنیمت سمجھ کر استعمال کرنے کے متمنی ہیں ، اور ایک مخصوص انداز میں ریاست پاکستان کے خلاف ’’ منظم ‘‘ پروپیگنڈا کیا جا رہا ہے تاکہ پاکستان کے اداروں کو مفلوج کرکے اقتدار پر قبضہ کیا جا سکے۔

ملک میں دہشت گردی کے فروغ کے دیگر اسباب میں مخصوص مائنڈ سیٹ کی حامل طاقتور قوتوں کا منفی کردار ہے لیکن دیکھنا یہ ہے کہ وہ کون لوگ ہیں جو رہتے ہیں تو پاکستان میں ہیں، یہاں کے وسائل استعمال کرکے طاقتور ہوئے ہیں لیکن وہ پاکستان کے عوام کے اجتماعی مفادات کے برعکس کام کررہے ہیں۔

وہ ہمارے ہی معاشرے کے افراد ہیں، ہم میں سے ہیں، ہمارے درمیان اٹھتے بیٹھتے ہیں۔ اس کا مطلب یہ بھی ہوا کہ ہم نے اپنے معاشرے کی تربیت اس طور پر نہیں کی کہ وہ دوسروں کے مفادات کے لیے استعمال نہ ہوں اور اپنے ملک کی تباہی کا سامان نہ کریں مثلاً اگر ملک میں کہیں بم بلاسٹ ہو یا خود کش دھماکا ہو تو اس کام کی انجام دہی کے لیے کوئی غیر ملکی تو نہیں آتا ہمارے یہاں کے لوگ ہی ان کے دست و بازو بنتے اور ان کے مذموم ارادوں کی تکمیل کے لیے خود کو پیش کرتے ہیں۔ پاکستان کی تاریخ کا ایک انتہائی المناک پہلو یہ ہے کہ اپنوں کے بھیس میں ایک مخصوص طبقہ ملک کے سسٹم کو اپنی مرضی اور مفادات کے مطابق چلاتا چلا آ رہا ہے۔

پاکستان کے تعلیم یافتہ اور باشعور طبقات اس حقیقت کا ادراک رکھتے ہیں کہ وہ کون سے عناصر ہیں جو بیرونی اشاروں اور سہاروں کے ذریعے پاکستان کے اندر افراتفری پیدا کرنا چاہتے ہیں۔ جو عناصر پاکستان میں سیاسی عدم استحکام سے بھرپور فائدہ اٹھاکر ریاست پاکستان کے خلاف مذموم کارروائیاں کررہے ہیں، ان کی اب ہر سطح پر بیخ کنی ہورہی ہے۔

دوسری طرف اگر پاکستان کے سیاستدان آپس کے تنازعات کو بات چیت کے ذریعے ختم کرلیں تو پاکستان میں نہ صرف سیاسی، استحکام پیدا ہوسکتا ہے جو بعد میں سماجی استحکام کی صورت میں عوام میں خوشگوار اقتصادی ترقی کا باعث بن سکتا ہے، لیکن سوال یہ ہے کہ ’’ بلی کے گلے میں گھنٹی کون باندھے‘‘ دراصل پاکستانی سیاستدانوں کو اس بات کا ادراک ہی نہیں ہے کہ ان کی طرز سیاست کے ساتھ ساتھ ان کے سیاسی لب و لہجہ سے ملک میں استحکام نہیں پیدا ہو رہا ہے۔ ہرچند کہ پاکستان کو اللہ تعالیٰ نے بے پناہ قدرتی وسائل سے مالا مال کیا ہوا ہے۔

اب یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ملک میں دہشت گردی کا بیج کیسے بویا گیا اور اس کی آبیاری کس طرح سے ہوئی جس کی وجہ سے پاکستان مسلسل عدم استحکام کا شکار ہے، پاکستان میں جس طرز کی دہشت گردی جاری ہے اس سے ظاہر یہی ہوتا ہے کہ یہ اُن پالیسیوں کا نتیجہ ہے جو پاکستان کی تمام حکومتوں نے اختیار کی اور اپنا اپنا حصہ ڈال کر رخصت ہوگئیں۔ اگر یہ کہا جائے کہ آج پاکستان دہشت گردی کی صورت میں جو خمیازہ بھگت رہا ہے، اس کا بیج انتہاپسند نظریات کی شکل میں بویا گیا جس کا آغاز قیام پاکستان کے فوراً بعد ہوگیا تھا۔

المیہ یہ ہے کہ ہمارے ہاں اس مخصوص سوچ سے نمٹنے کی سعی نہیں کی گئی، اس سوچ کے مقابل کاؤنٹر نیرٹو (counter narrative) پیش نہیں کی گئی اور جس نے بھی اس نوع کی کاوش کی اسے راستے سے ہٹا دیا گیا کیونکہ ان کے نظریے کو عوام و خواص میں قبولیت کی نگاہ سے دیکھا گیااوریوں طالبان کو ان سے خطرہ لگا کہ ان کی وجہ سے لوگوں کے سامنے ان کا چہرہ بے نقاب ہوا، اور حکومت کا المیہ یہ رہا کہ وہ اس طرح کے جرات مندانہ اقدام کرنے والوں کی حفاظت نہ کرسکی۔ اس پس منظر میں ریاست کو اپنی ذمے داریوں سے واقفیت رکھنا اور ان سے عہدہ برآ ہونا بہت ضروری ہے اگر ریاست اپنی ذمے داریاں صحیح معنوں میں انجام دے تو بہتری یقینی ہے، البتہ اگر حکومت اپنے فرائض میں کوتاہی کا شکار ہے تو یہ کہنا درست نہیں کہ ہماری ریاست ہی سرے سے غیر اسلامی ہے۔

بدقسمتی سے پاکستان کو دوبارہ سر اٹھاتی دہشت گردی کا بھی سامنا ہے۔ملک میں دہشت گرد عناصر دوبارہ سے منظم ہو کر کارروائیاں کر رہے ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ تمام طالبان دھڑے چاہے وہ پاکستانی ہوں یا افغان ، ایک دوسرے کی کاربن کاپی ہے اور جب ضرورت پڑے ایک دوسرے کے کام آتے ہیں۔

پاکستانی طالبان اور افغان طالبان ایک ہی سکے کے دو رخ ہیں۔ ہمیں اچھے طالبان اور برے طالبان کا فرق ختم کرنا ہوگا اور اس بات پر یقین رکھنا ہو گا کہ جو عناصر بھی دہشت پھیلا کر کسی انسانی جان کے خاتمے یا انسانی حقوق کی پامالی میں ملوث ہوں وہ دہشت گرد ہیں۔ ٹی ٹی پی کا بڑھتا ہوا اثر و رسوخ اور دہشت گردی یقیناً بیرونی امداد سے ہی ممکن ہے۔ اب چاہے یہ مدد افغان طالبان کی شکل میں ہو یا پھر کسی پاکستان مخالف ملک کے وسائل کی شکل میں، پاکستان کے لیے ناقابل برداشت ہے۔

 پاکستان میں دہشت گردی افغانستان پر طالبان کے برسر اقتدار آنے کے بعد زیادہ بڑھی ہے۔ امریکا کے انخلا کے بعد امید تھی کہ افغانستان پاکستان کے لیے پرامن ملک بن جائے گا لیکن یہ امید پوری نہیں ہوئی بلکہ مسائل پہلے سے زیادہ بڑھ گئے ہیں۔ پاکستان دہشت گردی سے متاثرہ ممالک کی عالمی درجہ بندی میں دوسرے نمبر پر آگیا ہے۔ پاکستان میں دہشت گردی کے سب سے زیادہ حملوں اور ان میں ہلاکتوں کی ذمے دار کالعدم تحریکِ طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) ہے۔

پاکستان نے بے پناہ قربانیاں دی ہیں، لیکن ستم ظریفی یہ ہے کہ خطے کے کچھ ممالک جنھوں نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں معمولی یا کوئی کردار ادا نہیں کیا، انھوں نے اقتصادی اور اسٹرٹیجک فوائد حاصل کیے ہیں۔ کچھ ممالک نے منافع بخش تجارتی اور دفاعی معاہدے کیے، جب کہ عالمی برادری سے حمایت اور سرمایہ کاری حاصل کی، حالانکہ ان کی دہشت گردی کے خلاف کوششیں نہ ہونے کے برابر تھیں۔ ان دہرے معیارات کا اعتراف کئی عالمی رہنما کر چکے ہیں، جس سے بین الاقوامی سیاست میں موجود تضادات نمایاں ہوتے ہیں۔ پاکستان، اپنی بے پناہ قربانیوں کے باوجود، معاشی اور سفارتی سطح پر مسلسل مشکلات کا شکار رہا ہے، جب کہ خطے کے دیگر ممالک کو ترجیحی سلوک اور اقتصادی مواقع ملتے رہے۔

 اس وقت سب سے بڑھ کر اہم ترین ذمے داری حکومت کے کندھوں پر آتی ہے کہ وہ اپنے کردار کونہ صرف محسوس کرے بلکہ بلاتاخیر اسے بھرپور طریقے سے انجام دے۔ پاکستان کی تاریخ میں فتنہ و انتشار کوئی ایک دہائی سے زوروں پر ہے لیکن اہل وطن کو تاحال حکومتی کردار پر بہت سے تحفظات ہیں اور دہشت گردی کے ناسور میں نمٹنے کے لیے کسی جماعت یا کسی مخصوص طبقے کی رعایت کسی طور پر نہ کی جائے اور اس راہ میں جب قوم دہشت گردی کی جنگ میں اپنے فوجی جوانوں کی پشت پناہی پر آمادہ ہے تو اب جو بھی اس قومی اتحاد کے باوجود تذبذب کا شکار نظر آئے اس کے بارے میں سنجیدہ لائحہ عمل مرتب کرے اور ان سے آہنی ہاتھوں سے نمٹا جائے تاکہ آنے والا وقت پاکستان اور ہماری آیندہ نسلوں کے لیے امن و سلامتی کی کرنیں لے کر طلوع ہو۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: دہشت گردی کے دہشت گردی کا پاکستان میں پاکستان کے یہ ہے کہ کا شکار ملک میں کے خلاف نہیں کی رہا ہے اور اس کے لیے اور ان

پڑھیں:

عالمی کشیدگی کے بیچ پاکستان کی کامیاب ثالثی

بین الاقوامی سیاست کے افق پر بعض لمحات ایسے طلوع ہوتے ہیں جو محض روزمرہ سفارتی سرگرمیوں کا حصہ نہیں ہوتے بلکہ تاریخ کے دھارے میں ایک معنی خیز موڑ کی حیثیت اختیار کر لیتے ہیں۔ آج مشرقِ وسطیٰ ایک بار پھر اسی نوع کی بے یقینی، اضطراب اور کشمکش سے دوچار ہے۔

ایک طرف جنگ کے بادل ہیں جو لبنان، غزہ اور خطے کے دیگر حساس مقامات پر مسلسل گہرے ہوتے جا رہے ہیں، دوسری طرف سفارت کاری کی وہ نحیف مگر روشن کرن بھی موجود ہے جو انسانیت کو ایک بڑے تصادم سے بچانے کی جدوجہد کر رہی ہے۔ ایسے نازک ماحول میں پاکستان کے کردار کو عالمی سطح پر ملنے والی پذیرائی نہ صرف قومی سفارت کاری کی کامیابی کا اعتراف ہے بلکہ اس حقیقت کی علامت بھی ہے کہ بدلتے ہوئے عالمی منظرنامے میں پاکستان کو ایک ذمے دار، متوازن اور قابلِ اعتماد ریاست کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کی سربراہ کایا کالاس کی جانب سے پاکستان کی سفارتی کوششوں کو سراہنا بظاہر ایک بیان ہے، مگر اس کے مضمرات کہیں زیادہ گہرے ہیں۔ عالمی سیاست میں تعریف کے الفاظ اکثر مفادات کے پردے میں لپٹے ہوتے ہیں، لیکن جب کسی ملک کی ثالثی کی صلاحیت، اس کی قائدانہ بصیرت اور امن کے لیے اس کی سنجیدہ کوششوں کا اعتراف مختلف بین الاقوامی حلقوں سے ہونے لگے تو یہ محض سفارتی آداب نہیں رہتے بلکہ ایک نئی حقیقت کا اظہار بن جاتے ہیں۔ ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی گزشتہ نصف صدی سے عالمی سیاست کے حساس ترین موضوعات میں شمار ہوتی رہی ہے۔

ان دونوں ممالک کے درمیان محاذ آرائی صرف دو ریاستوں کا تنازع نہیں بلکہ اس کے اثرات توانائی کی عالمی منڈیوں، بین الاقوامی تجارت، علاقائی سلامتی اور عالمی اقتصادی استحکام تک پھیل جاتے ہیں۔ ایسی صورت میں اگر پاکستان نے متعدد مواقع پر دونوں فریقوں کو جنگ کے دہانے سے واپس لانے میں کردار ادا کیا ہے تو یہ ایک ایسی کامیابی ہے جسے محض رسمی تعریف کے پیمانے سے نہیں ناپا جا سکتا۔ یہ امر بھی قابلِ غور ہے کہ موجودہ عالمی نظام میں طاقت کی تعریف تبدیل ہو رہی ہے۔

ماضی میں عسکری قوت کو ریاستی برتری کی سب سے بڑی علامت سمجھا جاتا تھا، مگر آج دنیا بتدریج اس نتیجے پر پہنچ رہی ہے کہ مستقل اثر و رسوخ صرف وہی ریاست حاصل کر سکتی ہے جو تنازعات کے حل میں معاون ثابت ہو، جو پل تعمیر کرے، دیواریں نہیں؛ جو رابطے پیدا کرے، فاصلے نہیں۔ پاکستان کی حالیہ سفارتی سرگرمیاں اسی نئے تصور قوت کی عکاسی کرتی ہیں۔ ایران اور امریکا کے درمیان براہِ راست یا بالواسطہ روابط کی راہیں ہموار کرنا، مختلف سطحوں پر اعتماد سازی کے عمل کو زندہ رکھنا اور کشیدگی کو جنگ میں تبدیل ہونے سے روکنے کی کوشش کرنا درحقیقت ایک ایسی ذمے داری ہے جس کے نتائج پوری دنیا پر مرتب ہوتے ہیں۔ دوسری طرف لبنان کی صورتحال عالمی ضمیر کے لیے ایک کڑا امتحان بن چکی ہے۔

اسرائیلی حملوں، حزب اللہ کے ساتھ جاری محاذ آرائی اور علاقائی طاقتوں کی مداخلت نے اس ملک کو ایک مرتبہ پھر عدم استحکام کے بھنور میں دھکیل دیا ہے۔ لبنان ایک ایسا معاشرہ ہے جو پہلے ہی معاشی بحران، سیاسی تقسیم اور سماجی مشکلات کا شکار ہے۔ ایسے میں مسلسل عسکری کارروائیاں نہ صرف اس کے بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچا رہی ہیں بلکہ لاکھوں شہریوں کے مستقبل کو بھی تاریکی کی طرف دھکیل رہی ہیں۔

 امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو سے رابطہ اور بیروت میں ممکنہ کارروائی کو روکنے کی کوشش اس امر کی نشاندہی کرتی ہے کہ واشنگٹن بھی اس بحران کے ممکنہ نتائج سے پوری طرح آگاہ ہے۔ تاہم مسئلہ یہ ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں سفارتی بیانات اور زمینی حقائق کے درمیان ہمیشہ ایک وسیع فاصلہ موجود رہا ہے۔ ایک جانب جنگ بندی کے اعلانات ہوتے ہیں، دوسری جانب گولہ باری، فضائی حملے اور عسکری پیش قدمی جاری رہتی ہے۔ یہی تضاد عالمی سفارت کاری کی ساکھ کو مجروح کرتا ہے اور متحارب فریقوں کے درمیان عدم اعتماد کو مزید گہرا کر دیتا ہے۔

 نیتن یاہو کی جانب سے جنوبی لبنان میں کارروائیاں جاری رکھنے کے اعلانات دراصل اسی پیچیدہ حقیقت کی ترجمانی کرتے ہیں۔ اسرائیل اپنی سلامتی کے نام پر عسکری اقدامات کو ناگزیر قرار دیتا ہے، جب کہ لبنان اور خطے کی دیگر قوتیں انھیں جارحیت اور بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی قرار دیتی ہیں۔ مسئلہ یہ ہے کہ جب ہر فریق اپنی کارروائی کو دفاع اور دوسرے کے عمل کو جارحیت قرار دینے لگے تو پھر امن کا راستہ مزید دشوار ہو جاتا ہے۔ یہی وہ مرحلہ ہے جہاں بین الاقوامی اداروں اور ثالث ریاستوں کا کردار فیصلہ کن اہمیت اختیار کر لیتا ہے۔

 لبنان میں ہونے والی ہلاکتوں اور زخمیوں کے اعداد و شمار محض شماریاتی معلومات نہیں بلکہ انسانی المیوں کی ایک طویل داستان ہیں۔ ہزاروں جانوں کا ضیاع اور لاکھوں انسانوں کی بے یقینی اس بات کا ثبوت ہے کہ جنگ کبھی بھی صرف فوجیوں کے درمیان نہیں ہوتی، اس کا سب سے بھاری بوجھ ہمیشہ عام شہریوں کے کندھوں پر آتا ہے۔ ایک ماں کی آغوش اجڑتی ہے، ایک بچے کا مستقبل تاریک ہوتا ہے، ایک خاندان اپنے سہارے سے محروم ہو جاتا ہے۔ افسوس یہ ہے کہ عالمی سیاست میں اکثر انسانی دکھ کو جغرافیائی مفادات کے شور میں نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔

 ایران کی جانب سے امریکا کے ساتھ جاری مذاکراتی عمل کو معطل کرنے کی اطلاعات اسی بگڑتی ہوئی صورتحال کا منطقی نتیجہ معلوم ہوتی ہیں، اگرچہ اس حوالے سے سرکاری سطح پر مکمل وضاحت سامنے نہیں آئی، تاہم ایرانی قیادت کے بیانات واضح کرتے ہیں کہ لبنان میں جاری کارروائیاں اعتماد کے ماحول کو شدید نقصان پہنچا رہی ہیں۔

سفارت کاری کا بنیادی اصول یہ ہے کہ مذاکرات طاقت کے استعمال کا متبادل ہوتے ہیں، لیکن جب میدانِ جنگ مسلسل گرم رہے تو مذاکراتی میز پر سنجیدہ پیش رفت تقریباً ناممکن ہو جاتی ہے۔ ایران کا یہ مؤقف کہ جنگ بندی کا اطلاق تمام محاذوں پر ہونا چاہیے، بین الاقوامی اصولوں کے تناظر میں خاصی اہمیت رکھتا ہے، اگر ایک معاہدہ صرف مخصوص علاقوں تک محدود رہے اور دوسرے مقامات پر عسکری کارروائیاں جاری رہیں تو اس کی حیثیت ایک عارضی سیاسی انتظام سے زیادہ نہیں رہتی۔ اس پورے بحران نے اقوام متحدہ کے کردار پر بھی کئی سوالات اٹھا دیے ہیں۔ سلامتی کونسل کے ہنگامی اجلاس، تشویش کے بیانات اور قراردادوں کے مسودے اپنی جگہ اہم ہیں، لیکن زمینی حقائق یہ ظاہر کرتے ہیں کہ عالمی ادارے اکثر طاقتور ریاستوں کے سیاسی مفادات کے سامنے بے بس دکھائی دیتے ہیں۔

بین الاقوامی قانون کی بالادستی کا تصور اسی وقت معتبر رہ سکتا ہے جب اس کا اطلاق سب پر یکساں ہو، اگر بعض ریاستوں کے لیے ایک معیار اور دوسروں کے لیے دوسرا معیار اختیار کیا جائے تو عالمی نظام کی اخلاقی بنیادیں کمزور پڑ جاتی ہیں۔ ایسے ماحول میں پاکستان کی جانب سے سلامتی کونسل میں اختیار کیا گیا مؤقف خاص اہمیت رکھتا ہے۔ لبنان کی صورتحال کو ایک انسانی بحران قرار دینا دراصل اس حقیقت کا اعتراف ہے کہ جنگوں کو محض عسکری زاویے سے نہیں دیکھا جا سکتا۔ انسانی جانوں کا تحفظ، بنیادی حقوق کی پاسداری اور شہری آبادی کا امن ہر قسم کی سیاسی مصلحت سے بالاتر ہونا چاہیے۔

پاکستان نے مسلسل یہ مؤقف اختیار کیا ہے کہ تنازعات کا حل طاقت کے استعمال کے بجائے مذاکرات، سفارت کاری اور بین الاقوامی قانون کے دائرے میں تلاش کیا جانا چاہیے۔ یہی مؤقف آج خطے کی ضرورت بھی ہے اور عالمی امن کا تقاضا بھی۔ اس پوری صورتحال کو اگر وسیع تر تناظر میں دیکھا جائے تو واضح ہوتا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ اس وقت ایک تاریخی دوراہے پر کھڑا ہے۔ ایک راستہ مسلسل عسکری تصادم، انتقامی کارروائیوں اور بڑھتی ہوئی نفرت کی طرف جاتا ہے۔ دوسرا راستہ مکالمے، مفاہمت اور سیاسی حل کی جانب لے جاتا ہے۔ بدقسمتی یہ ہے کہ جنگ کا راستہ ہمیشہ زیادہ شور پیدا کرتا ہے جب کہ امن کی کوششیں خاموشی سے آگے بڑھتی ہیں۔ میڈیا کی شہ سرخیوں میں بمباری کی آواز زیادہ سنائی دیتی ہے، مگر سفارت کاری کی خاموش محنت اکثر نظروں سے اوجھل رہتی ہے۔

تاریخ گواہ ہے کہ جنگیں بالآخر مذاکراتی میز پر ہی ختم ہوتی ہیں۔ کوئی بھی تنازع مستقل طور پر بارود کے ذریعے حل نہیں کیا جا سکا۔ انسانی تہذیب کی بقا، اقتصادی ترقی اور عالمی استحکام کا انحصار بالآخر مکالمے پر ہی ہوتا ہے۔ آج لبنان، ایران، امریکا اور اسرائیل کے گرد گھومتا بحران اسی ابدی حقیقت کی ایک نئی یاد دہانی ہے، اگر عالمی قیادت نے دانش کا راستہ اختیار کیا تو یہ خطہ ایک اور بڑے سانحے سے بچ سکتا ہے، لیکن اگر طاقت کے استعمال کو ہی واحد حل سمجھا گیا تو اس کے نتائج صرف مشرقِ وسطیٰ تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پوری دنیا کو عدم استحکام کی نئی لہر کا سامنا کرنا پڑے گا۔ایسے میں پاکستان کی آواز، جو جنگ کے شور میں امن، مفاہمت اور مذاکرات کی بات کر رہی ہے، محض ایک سفارتی مؤقف نہیں بلکہ ایک اخلاقی ضرورت اور بین الاقوامی ذمے داری کی علامت بن چکی ہے۔ یہی وہ راستہ ہے جو تباہی کے اندھیروں سے نکل کر امن، استحکام اور مشترکہ انسانی مستقبل کی طرف لے جا سکتا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • طالبان رجیم کیخلاف بغاوت؛ ملا ہبت اللہ کا کنٹرول برقرار رکھنے کیلیے نیاحکم جاری
  • روس سے طالبان کے بڑھتے روابط پر افغان سوشل میڈیا میں بحث، ملا عمر کی جدوجہد اور موجودہ پالیسیوں کا موازنہ
  • عالمی کشیدگی کے بیچ پاکستان کی کامیاب ثالثی
  • جنگ امن اور معیشت کی کہانی
  • وسائل پر قبضے کی جنگ: افغان طالبان میں اختلافات کھل کر سامنے آگئے
  • فورسز کی بلوچستان کے مختلف علاقوں میں کارروائیاں، 17 دہشتگرد ہلاک، آئی ایس پی آر
  • شہباز شریف کا کامیاب انسدادِ دہشت گردی کارروائیوں پر سکیورٹی فورسز کو خراجِ تحسین
  • سکیورٹی فورسز کی مختلف کارروائیوں میں 17 دہشت گرد جہنم واصل
  • بلوچستان کے مختلف علاقوں میں سیکیورٹی فورسز کا آپریشن، 17دہشتگرد ہلاک
  • صدر مملکت ، وزیر اعظم وفاقی وزیر داخلہ اور وزیر اعلیٰ سندھ  کا بھارتی سپانسرڈ دہشتگردوں کے خلاف آپریشنز پر سیکورٹی فورسز کی ستائش