علی امین گنڈا پور کا فیصلہ بانی ہی کریں گے، فیصل چوہدری
اشاعت کی تاریخ: 4th, July 2025 GMT
اسلام آباد:
رہنما تحریک انصاف فیصل چوہدری کاکہنا ہے کہ اوپینیئن تو ہو سکتی ہے لیکن ظاہر ہے کہ علی امین گنڈا پورکے رہنے یا نہ رہنے کا فیصلہ تو عمران خان نے کرنا ہے، اگر عمران خان چاہیں گے تو وہ کنٹینیو کر یں گے اگر وہ نہیں چاہتے تو وہ نہیں رہیں گے۔
ایکسپریس نیوز کے پروگرام کل تک میں گفتگو کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ اس کی وجہ ہے کہ کے پی سمیت پی ٹی آئی کے جو تمام ووٹ ہیں وہ تو عمران خان کی ذات کو پڑے ہیں وہ جو آگے جو بھی کھڑا ہوا ہے اگر عمران خان ان کے ساتھ کھڑے ہیں تو پی ٹی آئی کے ووٹرز بھی ان کے ساتھ کھڑے ہیں، اگر وہ ان کے ساتھ نہیں کھڑے تو ووٹر بھی ان کے ساتھ نہیں کھڑے۔
رہنما مسلم لیگ (ن) افنان اللہ خان نے کہاکہ بات یہ ہے کہ ہم تو یہ چاہتے ہیں کہ حکومت چلے یا ڈلیورکرے، عوام کیلیے سہولت ہو اور عوام کیلیے آسانیاں ہوں، ہماری تو یہ خواہش ہے، علی امین گنڈاپور نے ابھی جو تقریر کی ہے اس سے پہلے بھی جو کی ہے، اس کے اندر اتنی زیادہ ایگریشن ہے، اس کے اندر وائلنس ہے، بہتر یہ ہے کہ آپ عوام کی ڈلیوری کی طرف جائیں، ہم2013سے2018آپ کی حکومت گرا سکتے تھے نہیں گرائی کیونکہ ہم سمجھتے تھے کہ آپ ڈلیور کریں، مولانا چاہتے تھے کہ گرا دیں، بات یہ ہے کہ علیمہ خان صاحبہ چاہتی ہیں کہ عمران خان صاحب فارغ ہو جائیں تاکہ وہ آ جائیں۔
تجزیہ کار شوکت پراچہ نے کہا کہ جو لیٹیسٹ فگرز ہیں اپوزیشن لیڈر ڈاکٹر عباد اللہ خان کے پاس،54ان کے ممبرز ہیں اور72چاہییں ان کو حکومت بنانے کیلیے تو اس کا مطلب ہے کہ18 مزید بندے چاہییں، کلیم پر جائیں تو پھر زیادہ ہیں، وہ تو کہتے ہیں کہ چھ گروپ ہیں اور چھ کہ چھ ڈاکٹرعباد اللہ کے ساتھ رابطے میں ہیں، یہ میں آن دا ریکارڈ بات کر رہا ہوں، اصل میں جب پاکستان کے کنٹیکسٹ میں یہ باتیں شروع ہوتی ہیں تو پھر وہ کسی نہ کسی لاجیکل اینڈ کی طرف جاتی ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: ان کے ساتھ
پڑھیں:
سپریم کورٹ کو نیب کیسز سننے کا اختیار نہیں، عدالت عظمیٰ کا بڑا فیصلہ
اسلام آباد(نیوز ڈیسک) عدالت عظمیٰ نے بڑا فیصلہ جاری کرتے ہوئے قرار دیا ہے کہ سپریم کورٹ کو نیب کیسز سننے کا اختیار نہیں ہے۔
سپریم کورٹ کے جسٹس محمد علی مظہر نے مختصر فیصلہ سناتے ہوئے قرار دیا کہ نیب کیسز میں مرکزی اپیلیں اور ضمانت کی درخواستیں وفاقی آئینی عدالت سنے گی ۔ نیب قانون کی شق 32 اور 32 اے کے تحت سپریم کورٹ کو اختیار سماعت ہی نہیں ہے۔
فیصلے میں قرار دیا گیا کہ نیب کے کیسز آرٹیکل 175 اے اور ایف کے تحت کے تحت تمام کیسز وفاقی آئینی عدالت کو ٹرانسفر تصور سمجھے جائیں گے۔
واضح رہے کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان نے بھی ہائیکورٹ کے ضمانت کیس کیخلاف سپریم کورٹ سے رجوع کیا تھا اور رجسٹرار سپریم کورٹ نے درخواست اعتراضات عائد کرکے واپس کی تھی۔
سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد اب بانی پی ٹی آئی کی ضمانت کا کیس وفاقی آئینی عدالت سنے گی۔
مزید پڑھیں۔سونے کی قیمت میں نمایاں کمی،فی تولہ نئی قیمت جانئے