عمران خان سے لاکھ سیاسی اختلافات لیکن اس کی پارٹی سے بہت زیادتی کی گئی
اشاعت کی تاریخ: 3rd, July 2025 GMT
اسلام آباد ( اردوپوائنٹ اخبار تازہ ترین۔ آئی پی اے ۔ 03 جولائی 2025ء ) سینئر سیاستدان محمود خان اچکزئی نے قومی حکومت کے قیام کیلئے وزیراعظم شہبازشریف کو مذاکرات کی پیشکش کردی ہے۔ انہوں نے کہا کہ قومی حکومت کیلئے میں شہبازشریف سے مذاکرات کیلئے تیار ہوں۔انہوں نے آج یہاں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی تاریخ آئین کی بحالی اور توڑنے میں گزرنے گئی۔
ہماری باتوں کو اہمیت نہ دی گئی اب یہ حکومت آئین کی دھجیاں بکھیر رہی ہے، آئین کہتا ہے جو آئین سے چھیڑ چھاڑ کرے گا وہ سزا کا مستحق ہوگا۔ بانی پی ٹی آئی سے لاکھ اختلافات لیکن اس کی پارٹی سے بہت زیادتی کی گئی۔ الیکشن کمیشن نے جانبداری سے کام لیا ، سپریم کورٹ نے پی ٹی آئی سے انتخابی نشان چھینا۔ شہبازشریف میرے دوست ہیں لیکن میری سخت باتوں پر ناراض ہوجاتے ہیں۔(جاری ہے)
یہ اسپیکر قومی اسمبلی بھی جانبدار ہیں، پارلیمنٹ کے اندر سے لوگوں کو گرفتار کیا گیا، اسپیکر کہتے ہیں کہ جاسوس اداروں کو ہر کسی کی کال ٹیپ کرنے کا حق حاصل ہے۔ موجودہ حالات چپ بیٹھنا مجرمانہ غفلت ہے۔ اس موقع پر محمود خان اچکزئی نے قومی حکومت کے قیام کیلئے وزیراعظم شہبازشریف کو مذاکرات کی پیشکش کردی۔ قومی حکومت بنانے کیلئے میں شہبازشریف سے مذاکرات کیلئے تیار ہوں۔ قومی حکومت بنانے کے معاملے کے سوا اس حکومت سے مذاکرات نہیں ہوسکتے۔ انہوں نے کہا کہ یہ ایک دوسرے کو گالیاں دینے کا وقت نہیں متحد ہونے کی ضرورت ہے۔ بانی پی ٹی آئی کو کسی سے ملنے نہیں دیا جاتا ، ارکان اسمبلی اور فیملی ارکان اڈیالہ کے باہر انتظار میں بیٹھے رہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی کا جیل میں رہنا غلط ہے، دنیا میں قاتل سمیت سب مجرموں کو اپنے بچوں سے ملنے کی اجازت ہوتی ہے، لیکن بانی پی ٹی آئی کو کسی سے بھی نہیں ملنے دیا جاتا۔ پاکستان میں ایک تحریک کا آغاز کیا جائے جس میں ادارے آزاد ہوں ۔ سپریم کورٹ نے فیصلہ دیا اب مخصوص نشستیں بانٹ رہے ہیں، سب نے سیٹوں کیلئے جھولی پھیلائی ہوئی ہے۔ پاکستان میں 47فیصد لوگ غربت کی لکیر تک پہنچے ہوئے ہیں۔ .
ذریعہ
ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے بانی پی ٹی آئی مذاکرات کی قومی حکومت انہوں نے کہا کہ
پڑھیں:
حکومت کا بڑا ریلیف، الیکٹرک بائیکس پر سبسڈی اور بلاسود قرض کا اعلان
اسلام آباد(نیوز ڈیسک)وزیراعظم کے اپنا گھر پروگرام کے تحت اپنا ذاتی گھر حاصل کرنے کے خواہشمند شہریوں کے لیے بڑی پیش رفت سامنے آئی ہے۔ حکومت نے اعلان کیا ہے کہ پروگرام کے تحت کمرشل بینک اب تک 160 ارب روپے مالیت کے ہاؤسنگ قرضے منظور کر چکے ہیں جبکہ کامیاب درخواست گزاروں کو قرضوں کی فراہمی کا عمل بھی تیزی سے جاری ہے۔
یہ بات وزیر خزانہ کے مشیر عدنان پاشا نے کراچی میں منعقدہ فرسٹ انٹرنیشنل انشورنس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے بتائی۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم کا اپنا گھر پروگرام ملک میں تقریباً ایک کروڑ (10 ملین) گھروں کی کمی کو پورا کرنے کی جانب ایک اہم قدم ہے اور اس کے ذریعے کم آمدنی والے خاندانوں کو رعایتی شرائط پر اپنے گھر کا مالک بننے کا موقع فراہم کیا جا رہا ہے۔
عدنان پاشا نے بتایا کہ اس اسکیم کے تحت شہریوں کو صرف 5 فیصد رعایتی مارک اپ پر ہاؤسنگ قرض فراہم کیا جا رہا ہے جبکہ وزارت خزانہ اس منصوبے میں شامل بینکوں کے ممکنہ قرض نقصان کا 10 فیصد تک بوجھ خود برداشت کر رہی ہے۔ اس کے علاوہ حکومت پہلے 10 سال تک مارک اپ سبسڈی بھی فراہم کر رہی ہے تاکہ ہاؤسنگ فنانس زیادہ سے زیادہ سستا اور عوام کی پہنچ میں رہ سکے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت کی کوشش ہے کہ زیادہ سے زیادہ مستحق خاندان اس سہولت سے فائدہ اٹھائیں، جس سے نہ صرف رہائشی مسائل میں کمی آئے گی بلکہ تعمیراتی شعبے، سیمنٹ، اسٹیل، ٹائلز، الیکٹریکل مصنوعات اور دیگر متعلقہ صنعتوں میں بھی معاشی سرگرمیوں کو فروغ ملے گا۔
اس موقع پر عدنان پاشا نے حکومت کے الیکٹرک موٹرسائیکل پروگرام پر بھی روشنی ڈالی۔ انہوں نے بتایا کہ حکومت آئندہ برسوں میں 20 لاکھ الیکٹرک موٹرسائیکلیں متعارف کرانے کا منصوبہ رکھتی ہے۔ ان کے مطابق پاکستان میں تقریباً 30 لاکھ رجسٹرڈ موٹرسائیکلیں ہر سال قریب 8 ارب ڈالر مالیت کا درآمدی پٹرول استعمال کرتی ہیں، جس سے نہ صرف قیمتی زرمبادلہ خرچ ہوتا ہے بلکہ ماحولیاتی آلودگی میں بھی اضافہ ہوتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت شہریوں کو الیکٹرک بائیکس کی خریداری پر سبسڈی اور بلاسود فنانسنگ فراہم کر رہی ہے تاکہ ایندھن پر انحصار کم کیا جا سکے، تاہم ملک میں الیکٹرک بائیکس کی پیداوار اور سپلائی کے مسائل اب بھی موجود ہیں، جنہیں دور کرنے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
عدنان پاشا نے زرعی شعبے کے حوالے سے بتایا کہ حکومت نے حال ہی میں زرخیزی اسکیم بھی متعارف کرائی ہے جس کے تحت 21 بینکوں پاکستان بینکس ایسوسی ایشن اور سپارکو کے تعاون سے کسانوں کو ڈیجیٹل زرعی قرضے فراہم کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس منصوبے میں سیٹلائٹ مانیٹرنگ اور ریئل ٹائم ڈیٹا کے ذریعے قرضوں کے استعمال کی نگرانی کی جائے گی تاکہ شفافیت کو یقینی بنایا جا سکے اور زرعی پیداوار میں اضافہ ہو۔
حکومتی حکام کے مطابق اپنا گھر پروگرام اور دیگر مالیاتی اسکیموں کا مقصد کم آمدنی والے طبقات کو سہولت فراہم کرنے معیشت کو متحرک کرنے، تعمیراتی سرگرمیوں کو فروغ دینے اور ملک میں پائیدار ترقی کی راہ ہموار کرنا ہے۔
مزید پڑھیں۔سرکاری ملازمین کی تنخواہوں کے بعد پنشن میں بھی اضافہ